کراچی ،پولیس کی لاکھوں روپے کے تمر کے درخت کے کاٹنے والوں کی خلاف کارروائی ،3گرفتار ..
تازہ ترین : 1

کراچی ،پولیس کی لاکھوں روپے کے تمر کے درخت کے کاٹنے والوں کی خلاف کارروائی ،3گرفتار افراد بااثر شخصیت کی سفارش پر رہا

کراچی(اردپوائنٹ۔تازہ ترین اخبار ۔24 فروری 2015)کراچی کی ساحلی پٹی کے علاقے ابراہیم حیدری میں تمر مافیا سرگرم، روزانہ لاکھوں روپے کا تمر کاٹنے والوں کیخلاف پاکستان فشر فوک فورم کی قیادت میں پولیس کا چھاپہ، تمر کے جنگلات کی کٹائی کرنے والے 3 افراد گرفتار، گرفتار افراد علاقے کی بااثر شخصیت کی سفارش پر آزاد، پاکستان فشر فوک فورم کی طرف سے حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کے عملداروں سے قانونی اقدام اٹھانے کا مطالبہ: تفصیلات کے مطابق کراچی کی ساحلی پٹی پر آباد صدیوں پرانی ماہی گیر بستی ابراہیم حیدری میں تمر مافیا سرگرم ہوگئی ہے، تمر مافیا سمندری کریکس میں سے روزانہ ہزاروں ٹن تمر کی کٹائی کر کے مختلف فیکٹریوں کو فروخت کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان فشر فوک فورم کی قیادت میں ابراہیم حیدری پولیس نے گذشتہ رات ابراہیم حیدری سمندر کنارے کشتیوں سے اترنے والے تمر پر اچانک چھاپہ مارا، چھاپے کے دوران لاکھوں روپے کی مالیت کی تمر کی لکڑیاں برآمد کر کے 3 جوابداروں کو گرفتار کرلیا گیا، جس کے بعد پولیس عملداروں نے علاقے کی بااثر شخصیت کے کہنے پر گرفتار جوابداروں کو آزاد کردیا۔

اس سلسلے میں پاکستان فشر فوک فورم کے مرکزی چیئرمین محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی شہر جو تیزی سے سمندر کی طرف بڑھ رہا ہے اگر تمر کے جنگلات کا تحفظ نہیں کیا گیا تو کراچی شہر کو طوفانی تباہ کاریوں سے کوئی بھی نہیں بچا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمر کے جنگلات کو تیزی سے کاٹ کر تباہ کیا جارہا ہے، سمندر کناروں پر مٹی کی بھرائی کر کے قبضے کئے جارہے ہیں، خوبصورتی اور ترقی کی آڑ میں ایسی تباہی کو دعوت دی جارہی ہے جس کا کبھی بھی ازالہ نہیں ہوسکے گا اور ہم تمام لوگوں کو ان تباہ کاریوں کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیات کی یہ تباہی سمندری طوفان کو جنم دے سکتی ہے اور سندھ کا ساحلی کنارہ بحرِ عرب کی سونامی لہروں کے دائرے میں آتا ہے اور تمر کے جنگلات ان سمندری لہروں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کے عملداروں سے مطالبہ کیا کہ تمر مافیا کیخلاف قانونی اقدام اٹھا کر سمندر اور کراچی شہر کو تباہی سے بچایا جائے۔

وقت اشاعت : 24/02/2015 - 17:07:29

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں