بچوں کو نہ پڑھنے کا الزام نہیں دیا جا سکتا ،نثار احمد کھوڑو،
تازہ ترین : 1

بچوں کو نہ پڑھنے کا الزام نہیں دیا جا سکتا ،نثار احمد کھوڑو،

ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو انہیں پڑھاتے ہیں، اساتذہ کی قابلیت اور کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے ٹیچر اویلیوایشن سسٹم وضع کیا ہے، آئندہ مارچ سے نظر ثانی شدہ نصاب کے مطابق طلبہ میں کتابیں تقسیم کی جائیں گی ،سینئر صوبائی وزیر سندھ

کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار 23 فروری 2015ء ) سندھ کے سینئر وزیر برائے تعلیم و خواندگی نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ بچوں کو یہ الزام نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پڑھتے نہیں ہیں بلکہ ذمہ دار وہ لوگ ہیں، جو انہیں پڑھاتے ہیں ۔ ہم نے اساتذہ کی قابلیت اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ٹیچر اویلیوایشن سسٹم وضع کیا ہے ۔ آئندہ مارچ سے نظر ثانی شدہ نصاب کے مطابق طلبہ میں کتابیں تقسیم کی جائیں گی ۔

وہ پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان کے تحریری اور ضمنی سوالوں کے جوابات دے رہے تھے ۔ سینئر وزیر تعلیم نے بتایا کہ سندھ میں کل 269 کالجز ہیں ، ان میں سائنس ، آرٹس ، کامرس ، ہوم اکنامکس ، فزیکل ایجوکیشن اور ایجوکیشن کالجز شامل ہیں ۔ صرف کراچی میں 131 کالجز اور حیدر آباد میں 20 کالجز ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نئے کالجز کا قیام ہماری ترجیح ہے ۔

صوبے میں 43 ہزار پرائمری اسکولز ، جو کل تعلیمی اداروں کا 90 فیصد ہیں ۔ باقی 10 فیصد ایلیمینٹری ، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکولز اور کالجز ہیں ۔ اس لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام ضروری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بجلی والے ادارے سندھ حکومت کے ساتھ بجلی کے بلز کا تنازعہ طے نہیں کرتے اور تعلیمی اداروں سمیت دیگر سرکاری عمارتوں کی بجلی کاٹ دیتے ہیں ۔

اسی طرح گیس کے ادارے بھی وہاں گیس فراہم نہیں کرتے ، جہاں گیس نکلتی ہے ۔ ہم کوشش کریں گے کہ کالجز میں بجلی اور گیس کے مسائل حل کریں ۔ انہوں نے کہا کہ کالجز میں اس وقت 341410 طلباء ہیں ۔ ان میں سے ایک لاکھ 46 ہزار سے زائد طالبات ہیں ۔ ایک سوال کے تحریری جواب میں سینئر وزیر تعلیم نے بتایا کہ سندھ میں نقل کے رجحان کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں ۔

کئی عشروں سے جاری نقل کی لعنت کے تدارک کے لیے ثانوی اور اعلیٰ ثانوی امتحانات میں سوالات کا نیا انداز اختیار کیا گیا ہے ۔ پرچوں کو خفیہ رکھنے کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ امتحانی مواد کی تقسیم اور واپس جمع کرنے کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے ۔ کمپیوٹرائزڈ انرولمنٹ اور رجسٹریشن کارڈ جاری کیے جا رہے ہیں ۔ امتحانی مراکز کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور دیگر اقدامات بھی کیے گئے ہیں ۔

سینئر وزیرتعلیم نے بتایا کہ تعلقہ صالح بٹ کے گورنمنٹ پرائمری اسکول خبری بھٹ میں نلکے کا پانی پینے سے 41 سے زائد طلباء اور ایک استاء کے پیٹ میں تکلیف ہوئی ۔ انہیں فوری طبی امداد دی گئی ۔ پانی کے نمونے ٹیسٹ کرائے گئے تھے ، جن سے پتہ چلا تھا کہ زیر زمین پانی زہریلا تھا ۔ یہ صحرائی علاقہ ہے ۔ اس کے بعد ایسی کوئی شکایت نہیں ملی ۔ نلکے کا پانی صاف ہوتا ہے کیونکہ نلکے میں فلٹر ہوتا ہے ۔

یہ واقعہ یکم جون 2013ء کو رونما ہوا تھا ۔ ہم اسکولز کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں غیر دستیاب سہولتوں کی فراہمی کے لیے محکمہ تعلیم نے 3 سالہ پروگرام شروع کیا ہے ۔ اس پروگرام کے تحت 10 ہزار اسکول کو سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو تعلیمی نصاب پر نظر ثانی کرنے کے اختیارات ملے ۔

اس سے قبل پورے ملک میں 2002 والے نصاب پڑھائے جاتے تھے ۔ ہم نے ماہرین سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ نصابوں میں مرحلہ وار تبدیلی کی جائے ۔ 2013-14 ء میں جماعت اول سے جماعت چہارم تک نظرثانی نصاب مکمل کرکے پڑھایا جا رہا ہے ۔ جماعت پنجم سے جماعت ہشتم تک نصاب پر نظرثانی جاری ہے ۔ یہ کام 2015 ء میں مکمل ہو جائے گا ۔ اس حوالے سے سندھ اسکول ایجوکیشن اسٹینڈرز اینڈ کیوری کولم ایکٹ 2014 ء نافذ کیا گیا ہے ۔

محکمہ تعلیم و خواندگی نے سندھ کیوری کولم امپلی مینٹیشن فریم ورک بھی تشکیل دیا ہے ۔ نصاب پر نظر ثانی کے لیے ماہرین کا مشاورتی بورڈ بھی قائم کیا گیاہے ۔ نئے نصاب پر مشتمل کتابیں شائع ہو رہی ہیں ۔ اگلے مارچ سے انہیں پڑھایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر سال اسٹوڈنٹ اویلیو ایشن ٹیسٹ منعقد کراتے ہیں تاکہ ان کی قابلیت کی تشخیص ہو سکے ۔

یہ الزام بچوں پر نہیں آنا چاہئے کہ وہ پڑھتے نہیں ہیں ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہیں پڑھایا نہیں جاتا ۔ بچوں کو اچھی اور معیاری تعلیم دی جائے تو وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں ۔ اس لیے ہم ٹیچرز اویلیوایشن کا نظام بھی وضع کر رہے ہیں تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ وہ کس طرح پڑھا رہے ہیں ۔ ہم تدریس کی بجائے اکتساب پر توجہ دے رہے ہیں ۔ ہم تعلیم میں جدید رجحانات کو فروغ دے رہے ہیں ۔ سینئر وزیر تعلیم نے کہاکہ اقلیتوں کو بھی ان کی مذہبی تعلیم ملنی چاہئے ۔ وہ برابر کے شہری ہیں ۔ نصاب میں جن ہیروز کو شامل کیا گیا ہے ۔ ان میں غیر مسلم ہیروز بھی شامل ہیں ۔

وقت اشاعت : 23/02/2015 - 21:39:13

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں