سپریم کورٹ،بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیر ات اوردرختوں کی کٹائی کے حوالے سے ازخود ..
تازہ ترین : 1

سپریم کورٹ،بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیر ات اوردرختوں کی کٹائی کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت، سی ڈی اے

کی جانب سے دفعہ 144کانفاذ ختم،بنی گالہ میں تعمیرات کے لئے متعلقہ اتھارٹی سے اجازت لیناہوگی،بجلی اور گیس کے کنکشن عدالتی اجازت سے مشروط ہوں گے،عدالت نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے گھر کی تعمیر کا اجازت نامہ بھی طلب کر لیا

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) سپریم کورٹ نے بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیر ات اوردرختوں کی کٹائی کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس میں سی ڈی اے کی جانب سے دفعہ 144کانفاذ ختم کر تے ہوئے واضح کیاہے کہ بنی گالہ میں تعمیرات کے لئے متعلقہ اتھارٹی سے اجازت لیناہوگی، عدالت نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے گھر کی تعمیر کا اجازت نامہ طلب کرتے ہوئے مزید سماعت آج بدھ کی صبح تک ملتوی کردی اورکہاکہ عدالت کوبتایا جائے کیا عمران خان نے اپنی پراپرٹی کی حدبندی کر لی ہے،کیا عمران خان نے متعلقہ ادارے سے گھر تعمیر کرنے کی اجازت لی تھی ، منگل کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ، اس موقع پر ایڈیشل اٹارنی جنرل نے پیش ہوکرعدالت کوبتایا کہ بنی گالہ اورملحقہ علاقوں میں غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کے ایشو پر عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے تعاون نہیں کیا، اس حوالے سے عدالت نے ہدایت کی تھی کہ تمام فریقین کے ساتھ مل بیٹھ کر تجاویز تیارکرکے عدالت کودی جائیں، تاہم ہماری تجویز یہ ہے کہ بنی گالہ میں ہر قسم کی تعمیر ات رکواکرگیس اور بجلی کے محکموں کو این او سی جاری کرنے سے روکا جائے، سماعت کے دوران عمران خا ن کے وکیل بابراعوان نے پیش ہوکرعدا لت کوآگاہ کیا کہ بنی گالا میں تین قسم کی پراپرٹی ہے اورنجی مالکان کو اپنی جائیداد مرضی سے استعمال کرنے کی اجازت ہے، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ ہرکسی کوبلڈنگ ریگولیشنز کی پابندی کرنا ہو گی، فاضل وکیل نے موقف اپنایا کہ سی ڈی اے کا نجی پراپرٹی سے کوئی تعلق نہیںاس وقت اسلام آباد کی پچاس یونین کونسل ہیں، جن میں سے 33 یونین کونسلز دیہی اور 17 شہری ہیں، اگردیکھا جائے توراول ڈیم کے ارد گرد کی گئی تعمیرات غیر قانونی ہیں جس پرچیف جسٹس نے ان سے کہاکہ جولوگ آوازاٹھاتے ہیں ان کااپنادامن بھی صاف ہوناچاہیے، بنی گالہ تعمیرات اگر قانون کے دائرے میں ہیں تو سب ٹھیک ورنہ گرادی جائیں،جسٹس اعجازالحسن نے استفسارکیاکہ بنی گالہ میں عمران خان کاگھر کس یونین کونسل میں ہے ، ڈاکٹربابراعوان نے بتایا کہ یہ گھر یونین کونسل 4میں واقع ہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے اجازت نامہ منگوالیاہے اگرضرورت پڑی تواجازت نامے کی تصدیق کروالیں گے ، میراکہنایہ ہے کہ غلطی کااحساس ہونے پراصلاح ہوسکتی ہے ، فاضل وکیل کاکہنا تھا کہ کیا سی ڈی اے کی کسی اور گائوں میں بلڈنگ ریگولیشن ہیں ، چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے یہ دیکھناہے کہ راول ڈیم کے اردگرد ہوٹل بن سکتے ہیں یانہیں یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ برساتی نالوں سے تجاوزات سے ختم کی جائیں ہمیں کوئی شوق نہیں کہ رات کو2بجے تک فائلیں پڑھتے رہیں ، سوال یہ ہے کہ اگرایگزیکٹو معاملات دیکھتے توہمیںیہ نہ کرناپڑتا،ان معاملات کاانسانی حقوق سے تعلق ہے کیونکہ راول ڈیم میں گنداپانی جاتاہے جوپنڈی کے لوگ پیتے ہیں لیکن یہاں سی ڈی اے کام نہیں کرتا صرف رپورٹ پیش کردیتاہے، اگرلوگوں کواپنے حقوق کاپتاچل جائے تو یہ بڑاکام ہوگا پاکستانیوں نے بیرون ملک بینک اکاونٹس بنالئے کسی وکیل نے اس پر درخواست دائر نہیں کی،یہ ایسے مقدمات ہیں جن پر حق دعوٰی کاایشو نہیں ہے اگرمتعلقہ لوگ انسانی حقوق کے معاملات پر درخواستیں دیں گے تو ہمیں ازخود نوٹس کے طعنے نہیں ملیں گے، سماعت کے دوران عدالت نے سی ڈی اے کی جانب سے دفعہ 144کانفاذ ختم کرتے ہوئے قراردیا کہ بنی گالہ میں تعمیرات کے لئے متعلقہ اتھارٹی سے اجازت لیناہوگی، بجلی اور گیس کے کنکشن عدالتی اجازت سے مشروط ہوں گے، جس کی تعمیرات قانونی ہوںگی بجلی اور گیس کے کنکشن انھیں ملیں گے کیونکہ بنی گالہ کے علاقے کا گندہ پانی راول ڈیم میں جارہاہے جس سے ہیپاٹائٹس کامرض پیداہورہاہے یہ کام سی ڈی اے اور دیگرحکام کو جہاد کے طور پر کرنے چاہیے ، سماعت کے دوران عدالت کوماحولیات ایجنسی کے افسران نے بتایاکہ بنی گالہ میں قائم ہاوسنگ سوسائٹی نے سیوریج کانظام قائم نہیں کیا جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ اگرسوسائیٹیزکاکوئی باقاعدہ پلان نہیں توپھر ہاوسنگ سوسائیٹیزکواجازت نہیں ہوگی، سماعت کے دوران وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے توچیف جسٹس نے ان سے استفسارکیاکہ کیاآپ بھی وہی ہیں جوعدالت کے باہر تگڑے ہونے کے اشارے کرتے ہیں، جس پر ڈاکٹرطارق فضل نے کہاکہ میں عدلیہ کااحترام کرتاہوں، میں دفعہ 144 ہٹانے پرعدالت کا شکرگزار ہیں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہاکہ کورنگ نالہ کے اردگرد بھی تعمیرات نہیں ہوسکتی عدالت کوراول ڈیم میں گندے پانی اور فضلے کے جانے پر تشویش ہے کیونکہ یہ لوگوں کی صحت کا معاملہ ہے ڈاکٹرصاحب ہمیں بتایا جائے کہ آپ نے اب تک کیاکیاہے اورموجودہ صورتحال کاکون ذمہ دار ہے ڈیم میں ایک قطرہ گندے پانی کانہیں جائے گا،وہاں جاکرکیمپ لگالیں اور مسئلہ حل کریں ،آپ اگر ڈیم میں گندے پانی کوجانے سے روک نہ سکے توہم روکیں گے ،،سماعت کے دوران جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ ایگزیکٹو کاعدلیہ میں آنا اچھی بات ہے چیف جسٹس نے کہاکہ ہاوسنگ سوسائیٹیز کو تعمیرات کے لیے ماحولیات اور دیگراداروں سے اجازت لیناہوگی جبکہ تعمیرات مجازاتھارٹی کی جانب سے نقشہ کی منظوری سے مشروط ہونگی بعدازاں عدالت نے راول ڈیم کے نزدیک سرکاری اراضی کی لیز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے بنی گالہ میں ناجائز تجاوزات ختم.کرنے کی ہدایت کی اورمزید سماعت ملتوی کردی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/02/2018 - 23:10:41

اس خبر پر آپ کی رائے‎