قومی اسمبلی نے پمز ہسپتال کو انتظامی طور پر شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی ..
تازہ ترین : 1

قومی اسمبلی نے پمز ہسپتال کو انتظامی طور پر شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی سے علیحدہ کرنے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا

پمز ہسپتال اس میڈیکل یونیورسٹی کا تدریسی ہسپتال برقرار رہے گا ،ْسربراہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہوگا جس کی تقرری سول سرونٹ ایکٹ 1973ء کے تحت ہوگی میڈیکل یونیورسٹی میں ڈیپوٹیشن پر آنے والے ڈاکٹروں کو واپس نہیں بھیجا جارہا اور نہ ہی میڈیکل یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی بات ہوئی ہے ،ْ اسمبلی میں خطاب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 نومبر2017ء) قومی اسمبلی نے پمز ہسپتال کو انتظامی طور پر شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی سے علیحدہ کرنے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا ہے‘ پمز ہسپتال اس میڈیکل یونیورسٹی کا تدریسی ہسپتال برقرار رہے گا ،ْ اس کا سربراہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہوگا جس کی تقرری سول سرونٹ ایکٹ 1973ء کے تحت ہوگی جبکہ وزیر کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ میڈیکل یونیورسٹی میں ڈیپوٹیشن پر آنے والے ڈاکٹروں کو واپس نہیں بھیجا جارہا اور نہ ہی میڈیکل یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی بات ہوئی ہے۔

پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد ایکٹ 2013ء میں ترمیم کرنے کا بل ایوان میں پیش کیا۔ ڈاکٹر عذرا فضل نے کہا کہ ہر میڈیکل یونیورسٹی کے ساتھ ایک ہسپتال الحاق شدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہسپتال کی اپ گریڈیشن ہوتی ہے‘ اہم پروفیسرز جاتے ہیں۔ پوسٹ گریجویٹ طالب علم آجاتے ہیں۔

میجر (ر) طاہر اقبال نے کہا کہ اس بارے میں میرا بل تھا۔ کمیٹی نے اس بل پر کہا تھا کہ یہ بل پاس نہیں ہونا چاہیے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ یہ بل کمیٹی میں نہیں بھیھجا گیا اور نہ ہی اس پر کمیٹی کی کوئی رپورٹ آئی۔ عجلت میں اس کو منظور کرانا چاہتے ہیں‘ ایسے قانون سازی نہیں ہوتی۔ یہ بل ایک بار کمیٹی میں گیا تھا اس کو کمیٹی نے مسترد کردیا تھا۔

پارلیمنٹ کو ہم نے بے وقعت کردیا ہے۔ اب آخر پر صرف اس کا جنازہ ہی اٹھایا جانا ہے۔ یونیورسٹی سے ہسپتال الگ کرکے پیچھے کیا بچے گا۔ بغیر کسی ہسپتال کے میڈیکل یونیورسٹی کیسے بنے گی۔ ملازمین کا وہاں مسئلہ ہے یہ ہمیں معلوم ہے۔ اس اقدام سے یونیورسٹی غیر فعال ہو جائے گی۔ اسد عمر نے کہا کہ اس بل کی منظوری میں تاخیر ہو رہی ہے۔ تین سال پہلے یہ بل متعارف ہوا ۔

اس تاخیر سے صورتحال ایسی پیدا ہوئی کہ بات ہڑتال تک پہنچ گئی۔ یونیورسٹی اس بل سے ختم نہیں ہوتی۔ انتظامی کنٹرول الگ ہونے سے یونیورسٹی مزید بہتر ہوگی۔ اس بل پر حکومت‘ ملازمین‘ سنڈیکٹ سمیت ہر ایک راضی ہے اس کو جلد پاس کیا جائے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یونیورسٹی کے نام پر ہسپتال پر قبضہ کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ غازی گلاب جمال نے کہا کہ اسلام آباد کے دونوں حلقوں سے منتخب اراکین بل کی حمایت کر رہے ہیں۔

اس ہسپتال میں ڈیپوٹیشن پر آنے والے ڈاکٹرز کدھر جائیں گے۔ بل میں یہ شامل کیا جائے کہ اس بل سے ان ملازمین کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر عذرا فضل نے کہا کہ یونیورسٹی میں طالب علموں سے بھاری فیسیں لی جاتی ہیں یہ کہنا درست نہیں کہ اس سے مالی بوجھ بڑھے گا۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ چار سال سے یہ مسئلہ چلا آرہا ہے۔ اب یہ ترمیم آئی ہے۔

جب سے یہ ہسپتال یونیورسٹی سے منسلک تھا اس کی حالت دن بدن خراب ہوتی گئی۔ ملازمین اس کے حق میں نہیں تھے۔ یہاںن سے ڈاکٹروں کو ان کے علاقوں میں نہ بھیجا جائے۔ یہ بل دیرینہ مطالبہ ہے ہم اس کو سراہتے ہیں۔ حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ کشمیر‘ گلگت اور فاٹا سے آنے والے ڈاکٹروں کو تحفظ دیا جائے۔ وزیر کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جو باتیں اراکین نے کی ہیں ان میں 80 فیصد حقائق کے خلاف ہیں۔

جب یہ ایکٹ پاس ہوا تو 4 ہزار میں سے صرف 22 لوگ اس یونیورسٹی کے ساتھ گئے۔ اس سے ان کی دلچسپی دکھائی جاسکتی ہے۔ اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہسپتال کا اگی ڈی بھی تھا۔ یہ کسی ہسپتال یا یونیورسٹی میں نہیں ہے۔ ہم یہ درست کرنے جارہے ہیں۔ ہسپتال انتظامی طور پر الگ ہوا اور وہ اس کا ٹیچنگ ہسپتال ہو۔ پمز ہسپتال میڈیکل یونیورسٹی کا ٹیچنگ ہسپتال رہے گا۔

اسلام آباد کے واحد میڈیکل کالج کو بھی یونیورسٹی سے ملحق کرنے جارہے ہیں۔ اس وقت اس یونیورسٹی کے ساتھ 5 میڈیکل کالج اور 9 ہزار 800 طالب علم رجسٹرڈ ہیں۔ 18 ادارے اس کے ساتھ ہیں۔ 550 اساتذہ یہاں کام کر رہے ہیں۔ دونوں کی ایڈمنسٹریشن الگ الگ ہوگی۔ قائمہ کمیٹی سے یہ بل متفقہ طور پر منظور ہوا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نام تبدیل کرنے کی کسی سطح پر بات نہیں ہوئی۔

ہمارے دل چھوٹے نہیں ہیں۔ کسی ملازم کو واپس نہیں بھیجا جارہا۔ سندھ ہائی کورٹ میں ایک فیصلہ ہوا تھا کہ ضمئک ئے گئے ملازمین کو واپس اپنے اداروں میں بھیجا جائے۔ اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اگر اس پر عملدرآمد ہوا تو جو لوگ راولپنڈی سے آئے ہیں وہ بھی نہیں رہیں گے۔ غازی گلاب جمال نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ اس محکمہ اور پروفیشن سے متعلقہ ملازمین پر نہیں تھا۔

شازیہ مری نے کہا کہ کمیٹی کے حوالے سے کوئی اطلاعات نہیں ہیں کہ منظور ہوا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ ہماری ایسی کوئی سوچ نہیں کہ ڈیپوٹیشن پر آئے ملازمین واپس جائیں۔ ملک ابرار نے کہا کہ جو ڈاکٹر یہاں آئے ہیں ان کو یہاں ہی رہنا چاہیے۔ میجر (ر) طاہر اقبال نے کہا کہ پاکستان میں کوئی ہسپتال میڈیکل کالج میں ضم نہیں ہوا۔ اس کو الگ نہیں کیا جارہا۔

یونیورسٹی کے لئے جگہ مختص ہے۔ یہاں ایک دفتر قائم ہے اس کا اپنا انفراسٹرکچر ہوگا۔ ڈاکٹر طارق فضل نے تحریک پیش کی کہ بل زیر غور لانے کے لئے مذکورہ قواعد کے قاعدہ 122 کی متقضیات سے صرف نظر کیا جائے۔ ایوان نے اس تحریک کی منظوری دے دی۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد ایکٹ 2013ء میں ترمیم کرنے کا بل 2017ء قومی اسمبلی میں پیش کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لانے کی تحریک پیش کی جس کی منظوری کے بعد بل کی شق وار منظوری لی گئی۔

وزیر کیڈ نے بل منظوری کے لئے پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔اجلاس کے دور ان سید نوید قمر کے امریکہ کے لئے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے فلائٹ آپریشن کی جنوری 2018ء سے بند کرنے کے حکومتی فیصلے سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری جاوید اخلاص نے کہا کہ پی آئی اے ہمارا قومی ادارہ ہے اور ایک زمانہ میں عظمت کا نشان تھا۔

موجودہ حکومت نے اس کی ری سٹرکچرنگ کے لئے تمام جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں فیصلہ ہوا تھا کہ اس کی مینجمنٹ تبدیل ہوگی تاکہ سرمایہ آئے بدقسمتی سے اس پر عمل نہ ہو سکا۔ پی آئی اے جب عروج پر تھی تب یہ پروازیں چلائی گئی تھیں۔ اس وقت ادارے کو انتہائی خسارے کا سامنا ہے۔ منافع بخش روٹس پر پروازیں بڑھا رہے ہیں اور خسارے والے روٹ بند کر رہے ہیں۔

پی آئی اے کا سالانہ خسارہ ایک ارب روپے تھا۔ نوید قمر کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جب ہماری حکومت قائم ہوئی پی آئی اے کے بیڑے میں 17 یا 18 جہاز تھے۔ ملازمین کی تعداد 14 ہزار تھی اس وقت جہاز 38 ہیں۔ ہمارے جہاز پرانے ہونا بھی ایک نقصان کی وجہ ہے۔ ٹورنٹو اور یورپ کے روٹس منافع میں جارہے ہیں۔ شازیہ مری کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے 24 جہاز لئے جن میں ڈرائی لیز پر 20 جہاز لئے ہیں۔

چار جہاز ویٹ لیز پر لئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیو یارک روٹ کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔ اوپن سکائی پالیسی کے تحت اس کو دوبارہ کسی وقت بھی بحال کیا جاسکتا ہے۔نکتہ اعتراض پر تحریک انصاف کی ناراض رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے کہا کہ فاٹا سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو مردم شماری میں شمار نہیں کیا گیا‘ فاٹا کے انضمام تک این ایف سی ایوارڈ میں تین فیصد حصہ دیا جائے۔

عائشہ گلالئی نے کہا کہ فاٹا سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو مردم شماری میں شمار نہیں کیا گیا۔ فاٹا کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے زائد ہے۔ فاٹا میں مردم شماری پر نظرثانی کی جائے۔ فاٹا کے انضمام یا ریفرنڈم تک این ایف سی میں تین فیصد حصہ دیا جائے۔ فاٹا سے چلغوزے پر ٹیکس غیر قانونی ہے یہ ختم ہونا چاہیے۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 06/11/2017 - 21:04:49

اس خبر پر آپ کی رائے‎