مسلمان معاشرے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں خدمت خلق کے لئے مالی ایثار ..
تازہ ترین : 1

مسلمان معاشرے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں خدمت خلق کے لئے مالی ایثار کی روایت بہت مضبوط ہے،صدرممنون

مسلمان معاشرے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں خدمت خلق کے لئے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 فروری2017ء) صدرمملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ ایک مسلمان معاشرے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں خدمت خلق کے لئے مالی ایثار کی روایت بہت مضبوط ہے، انسانی بہبود کے اس شعبے کو منظم اور شفاف بنانے کی کوششیں احسن اقدام ہیں، وطن عزیز میں جس کسی نے بھی خدمت خلق کا کام کیا، عوام نے اس کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی کی،اب وقت آ گیا ہے کہ قرآن و سنت کی ہدایات کی روشنی میں خدمت خلق کی احسن روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے کوشش کی جائے کہ وطن عزیز کے محروم اور کمزور طبقات بھی معاشرے کی مدد کے ساتھ اپنے قدموں پر مستقل طور پر کھڑے ہو سکیں، ماضی میں پاکستان بری حکمرانی کی وجہ سے پیچھے رہ گیا، اب معاملات صحیح سمت میں گامزن ہیں اور ملک کی معیشت بحال ہورہی ہے جس کا اعتراف بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی کررہے ہیں۔

منگل کے روزنیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں پاکستان سینٹر فارفلن تھراپی کے زیر اہتمام’’ انفرادی فلن تھراپی‘‘ رپورٹ کی تقریبِ اجرا سے خطاب کرتے ہوئے مملکت صدرممنون حسین نے کہا کہ معاشرے میں فلاحی اور تعمیری سرگرمیوں کا سلسلہ اسی صورت میں پروان چڑھ سکتا ہے، اگر اس معاملے میں ریاست اور نجی شعبہ ایک دوسرے پر اعتماد کریں اور ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کریں۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اگر عوام اس ضمن میں اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ٹیکس کلچر کو فروغ دیں تو اس کے نتیجے میں سرکاری سطح پر بھی فلاحی سرگرمیاں فروغ پا سکیں گی اور پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کا خواب جلد شرمند? تعبیر ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان معاشرے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں خدمت خلق کے لئے مالی ایثار کی روایت بہت مضبوط ہے، وہاں انسانی بہبود کے اس شعبے کو منظم اور شفاف بنانے کی کوششیں احسن اقدام ہیں۔

انہوں نے اس سلسلے میں جاری کی جانے والی رپورٹ کو سراہتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ یہ رپورٹ اس شعبے میں بہتری کا ذریعہ بنے گی اورحق دار تک اس کا حق پہنچانا زیادہ آسان ہوجائے گا جس کے نتیجے میں ملک سے غربت کے خاتمے کے لئے حکومتِ پاکستان کی کوششوں کوبھی تقویت ملے گی۔صدرمملکت نے کہا کہ خلقِ خدا کی خدمت کے لیے پاکستان میں مالی ایثار کی روایت یقیناًعالمگیر شہرت کی حامل ہے اورعالمی سطح پر پاکستان کا درجہ بہت بلند ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان میں انسانیت اور احترام آدمیت کی روایت اور اللہ کی مخلوق کے لیے ہمدردی و خیرخواہی کا جذبہ بہت قوی ہے۔ زندہ معاشروں کی پہچان بھی یہی ہوتی ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ پاکستانی معاشرے کے اس امتیاز کا سبب ہمارا عقیدہ اور اسلامی تعلیمات ہیں جن میں محتاجوں اور ضرورت مندوں کے کام آنے کا حکم دیا گیا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ خیروبرکت اور بھلائی کے یہ کام صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات ان کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں جس کے سبب ہمارا معاشرہ ترقی کررہا ہے اور افرادِ معاشرہ کے درمیان ہم آہنگی اور یگانگت کے جذبات فروغ پا رہے ہیں۔ صدر نے کہا کہ وطن عزیز میں جس کسی نے بھی خدمت خلق کا کام کیا، عوام نے اس کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی کی اور لوگ رضاکارانہ طور ایسے سماجی کارکنوں کے دست و بازو بنتے چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قرآن و سنت کی ہدایات کی روشنی میں خدمت خلق کی احسن روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے کوشش کی جائے کہ وطن عزیز کے محروم اور کمزور طبقات بھی معاشرے کی مدد کے ساتھ اپنے قدموں پر مستقل طور پر کھڑے ہو سکیں اور ان کا شمار لینے والوں کی بجائے دینے والوں میں ہونے لگے۔ یہ کام اسی صورت میں ممکن ہے کہ خیرات و صدقات اور مالی ایثارکی سرگرمیاں ایک واضح اور وسیع البنیاد حکمتِ عملی کے تحت منظم کی جائیں تاکہ مستحق لوگوں کو جو مالی تعاون ملے اس کی مدد سے وہ چھوٹے پیمانے پر کاروبار از خود شروع کر کے خودکفالت کی منزل پر جا پہنچیں۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ خدمت خلق کی تنظیموں کو اس جانب راغب کریں تاکہ وہ ٹھوس حکمت عملی کے تحت پیش رفت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مخیّر حضرات اپنے ہاتھ سے لوگوں کی مدد کر کے زیادہ اطمینان اور روحانی آسودگی محسوس کرتے ہیں۔ اس کا ایک سبب جعل سازوں کی حوصلہ شکنی اور ان بچنے کی خواہش بھی ہے۔ یہ اندازِفکر درست ہے لیکن یہ بات ضرور پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ جو کام اتحاد اور اجتماعیت کے ذریعے ممکن ہے ، انفرادی طریقے سے نہیں ہو سکتااس لیے ضروری ہے کہ رائے عامہ کی تربیت کی جائے۔

یہ مقصد ذرائع ابلاغ کی مدد سے پورا کیا جاسکتا ہے اور عوام سے رابطے اور مکالمے کے طریقے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں بلکہ بہتر ہو گا کہ یہ معاملہ تعلیمی نصاب کا حصہ بنا دیا جائے تاکہ ہمارے بچوں کا ذہن ابتدائ میں ہی اس کی تربیت مل جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان سنٹر فار فلن تھراپی اس سلسلے میں پہل کرے اورملک میں پھیلے ہوئے خدمت خلق کے لاتعداد اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرے۔

صدر نے کہا کہ بدعنوانی نے ملک کی اقتصادی ترقی کو بری طرح نقصان پہنچایاہے۔ انہوں نے اس لعنت کے خاتمہ کیلئے ا جتماعی کاوشوں کی ضرورت پرزوردیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان بری حکمرانی کی وجہ سے پیچھے رہ گیا، اب معاملات صحیح سمت میں گامزن ہیں اور ملک کی معیشت بحال ہورہی ہے جس کا اعتراف بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی کررہے ہیں۔

صدر نے امید ظاہرکی کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے، سب مل جل کراجتماعی ترقی و خوشحالی کی منزل کے حصول کیلئے اپنا حصہ ڈالیں۔صدر نے انفرادی فلن تھراپی کے موضوع پر نیشنل سٹڈی کے اجرائ پر پاکستان سینٹر فار فلن تھراپی کو سراہتے ہوئے امید ظاہرکی کہ اسی جذبے کے تحت کام کرتے ہوئے غریب اور دکھی انسانیت کی مشکلات دور ہونگی۔تقریب سے چیئرمین پاکستان سنٹر فار فلن تھراپی ظفر احمد خان اور نسٹ کے ریکٹر لیفٹیننٹ جنرل(ر) نوید زمان نے بھی خطاب کیا۔ ظفراحمد خان نے پاکستان میں انفرادی فلن تھراپی کی صورتحال کے بارے میں صدر کو رپورٹ پیش کی۔ صدر نے ممتاز مخیرحضرات کو ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں کارپوریٹ فلن تھراپی ایوارڈز بھی دیئے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 08/02/2017 - 11:26:16

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :