قائمہ کمیٹی خزانہ کا شعبہ زراعت کیلئے زرعی ترقیاتی اور دیگر بنکوں کی جانب سے 16فیصد ..
تازہ ترین : 1

قائمہ کمیٹی خزانہ کا شعبہ زراعت کیلئے زرعی ترقیاتی اور دیگر بنکوں کی جانب سے 16فیصد سے زائد مارک اپ لینے کی شکایا ت کا نو ٹس،کسانوں کے لئے شرح سود سنگل ڈیجٹ کرنے کی سفارش کر دی

نیشنل بنک کے صدر اور زرعی ترقیاتی بنک کے صدر کی اجلاس میں عدم شر کت پر برہمی کا اظہا ر، آ ئند ہ اجلاس میں شرکت یقینی بنا کے کسانو ں کے لئے قرضوں پر مارک اپ کے حوالے سے مسئلہ حل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 فروری2017ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برا ئے خزانہ نے زراعت کے شعبہ کے لئے زرعی ترقیاتی بنک اور دیگر بنکوں کی جانب سے 16فیصد سے زائد مارک اپ لینے کی شکایا ت کا نو ٹس لیتے ہوئے کسانوں کے لئے شرح سود سنگل ڈیجٹ کرنے کی سفارش کر دی،کمیٹی نے گورنر اسٹیٹ بنک،،نیشنل بنک کے صدر اور زرعی ترقیاتی بنک کے صدر کی اجلاس میں عدم شر کت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آ ئند ہ اجلاس میں شرکت یقینی بنا کے کسانو ں کے لئے قرضوں پر مارک اپ کے حوالے سے مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کردی،کمیٹی میں رکن کمیٹی اسد عمر نے انکشاف کیاکہ اسٹیٹ بنک کی ملی بھگت سے ملک سے منی لانڈرنگ کرکے پاکستان سے رقم لے جا کر دبئی میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں،سٹیٹ بنک بار بار جواب کمیٹی کی جانب سے جواب مانگنے کے باوجود چار ماہ سے جواب نہیں دے رہا۔

منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی چیئرمین قیصر احمد شیخ کی صدارت میںہوا۔اجلاس میں زرعی قرضوں پر شرح سود کے حوالے سے ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ارکان کمیٹی نے کہا کہ چھوٹے کسانوں سے بنک 16 فیصد سے زائد مارک اپ لے رہے ہیں جو زیادتی ہے۔مصطفیٰ محمود نے کہا کہ۔ زرعی ترقیاتی بنک کسانوں سے 16فیصد سے زائد مارک اپ لے رہا ہے،حکومت کی پالیسی چھوٹے کاشتکاروں کے خلاف ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ زرعی شعبہ پر شرح سود بہت زیادہ اس میں واضح کمی آنی چاہیے۔اسد عمر نے کہاکہ نجی بنک90فیصد قرضہ حکومت کو فراہم کر رہے ہیں،وہ چھوٹے کسانوں کو قرضہ دینے سے گریز کرتے ہیں،شرح سود پر وضاحت کیلئے گورنر سٹیٹ بنک کو طلب کیا جائے،جو لوگ کمیٹی میں آئے ہیں وہ بھی بغیر تیاری کے آئے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سٹیٹ بنک کے گورنر بار بار کمیٹی کو نظرانداز کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسران میں اجلاس میں نہیں آئے۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ زرعی شعبہ پر بہت زیادہ ٹیکس ہے،باقی شعبوں میں چار لاکھ سے کم انکم پر استثنیٰ حاصل ہے جو کہ زرعی شعبہ کو نہیں ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ صنعتوں کیلئے ٹیکسوں کو بالکل ختم کیا جارہا ہے جبکہ زراعت میں بہت زیادہ ہے،عدم مساوات کو ختم کیا جائے۔اسدعمر نے کہا کہ اسٹیٹ بنک منی لانڈرنگ کرنے والوں سے ملا ہوا ہے یہاں سے لوگ اربوں روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے لے جا کر دبئی میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں،سٹیٹ بنک چار ماہ سے جواب دینے سے کترارہا ہے۔

کمیٹی نے معاملہ پر اگلے اجلاس میں اسٹیٹ بنک،،نیشنل بنک،،زرعی ترقیاتی بنک سمیت متعلقہ اداروں کو طلب کرلیا۔وفاقی ادارہ شماریات کے سربراہ آصف باجوہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 15مارچ سے مردم شماری کا آغاز کیا جائے گا،دو مرحلوں میں مردم شماری کی جائے گی،تمام تیاریاں مکمل ہیں،ملک میں رہنے والے تمام ملکی اور غیرملکی شہریوں کا اندراج کیا جائے گا،ملک میں مردم شماری کیلئے 168120بلاکس بنائے گئے ہیں،جس کیلئے 118798 سول سٹاف کام کرے گ،غیرحتمی رپورٹ 60دن تک تیار کی جائے گی،نادرا نے ایک لاکھ افغان مہاجرین جنہوں نے پاکستان کے شناختی کارڈ بنائے تھے بلاک کئے ہیں اور دو ڈھائی لاکھ پر غور کیا جارہا ہے،مردم شماری کا انفرادی حیثیت میں ڈیٹا کسی کو بھی فراہم نہیں کیا جائے گا،اکنامک سروے میں ملک کی 190ملین آبادی کا اندازہ لگایا گیا تھا جبکہ نادرا کے ڈیٹا بیس میں 66ملین لوگ کم ہیں۔

…(خ م+وخ)

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 07/02/2017 - 23:01:39

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :