باچا خان یونیورسٹی پر حملے میں بیرونی ہاتھ کو خارج از مکان نہ سمجھا جائے‘ معصوم ..
تازہ ترین : 1

باچا خان یونیورسٹی پر حملے میں بیرونی ہاتھ کو خارج از مکان نہ سمجھا جائے‘ معصوم طلبہ پر حملہ دہشت گردوں کی سفاکیت کا ثبوت ہے ، ان کا قلع قمع کرنے کے لئے بھرپور کارروائی کی جانی چاہیے، بھارتی وزیر کی جانب سے دی گئی دھمکی کے بعد یہ حملہ بہت سے سوالیہ نشان پیداکررہاہے

چیئرمین مجلس صوت الاسلام مفتی ابوہریرہ محی الدین کامذمتی بیان

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 جنوری۔2016ء) چیئرمین مجلس صوت الاسلام مفتی ابوہریرہ محی الدین نے کہاہے کہ چار سدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے میں بیرونی ہاتھ کو خارج از مکان نہ سمجھا جائے۔ معصوم طلبہ پر حملہ دہشت گردوں کی سفاکیت کا ثبوت ہے ، ان کا قلع قمع کرنے کے لئے بھرپور کارروائی کی جانی چاہیے ۔ بدھ کو تنظیم کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے باچا خان یونیورسٹی پر حملے میں شہید ہونے والوں کے ورثاء سے انتہائی دلی دکھ ورنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں اور بے گناہ عوام کو نشانہ بنانا سفاکیت کی بدترین مثال ہے۔

مفتی ابوہریرہ محی الدین نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی دین ومذہب نہیں ہوتا۔ ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کو تتر بتر کردیا ہے اور اب وہ اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اب تعلیمی اداروں کو نشانے پر لے رکھا ہے، مفتی ابوہریرہ محی الدین نے کہا کہ دہشت گردوں کے یہ بزدلانہ وار قوم کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔

پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب بھی یہ قوم اپنی افواج کی پشت پر کھڑی ہے جس نے بروقت کارروائی کرکے بڑے جانی نقصان سے ملک کو بچالیا۔ انہوں نے بھارتی وزیر کی جانب سے گزشتہ دنوں دی گئی دھمکی کے تناظر میں کہا کہ حملے میں بیرونی ہاتھ خارج از امکان نہیں، سیکورٹی اداروں اور حکومت پاکستان کو اس پہلو پر بھی تحقیقات کرنی چاہیے اور یہ تحقیقاتی رپورٹ قوم اور عالمی برادری کے سامنے آنی چاہیے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ پاکستان جو کہ پوری دنیا کو محفوظ بنانے کے لئے گزشتہ دو دہائیوں سے قربانیاں دے رہا ہے اس کے خلاف دشمن ملک کس طرح کی خونیں کارروائیاں کرنے میں مصروف ہے۔

مفتی ابوہریرہ محی الدین نے کہا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان افغان حکومت اور طالبان یا سعودی عرب اور ایران کے درمیان صلح وصفائی کی کوششیں کرتا ہے تو اس کی تنصیبات اور شہریوں پر حملے شروع ہوجاتے ہیں۔ اب ہمارے ملکی سلامتی کے اداروں کو گھر سے باہر کے دشمن پر بھی کڑی نظر رکھنی چاہیے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/01/2016 - 19:59:59

اس خبر پر آپ کی رائے‎