پاکستان میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پہلے انٹگریٹڈ ریسورس ریکوری سینٹر سے متعلق ..
تازہ ترین : 1

پاکستان میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پہلے انٹگریٹڈ ریسورس ریکوری سینٹر سے متعلق ورکشاپ کا انعقاد

اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 جنوری۔2016ء) پاکستان میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پہلے انٹگریٹڈ ریسورس ریکوری سینٹر سے متعلق ورکشاپ بدھ کو اسلام آباد میں منعقد کی گئی۔ ورکشاپ کا اہتمام وزارت ماحولیاتی تبدیلی، اقوام متحدہ کے انسانی آباد کاری کے پروگرام یو این ہیبٹاٹ اور اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیاء و بحرالکاہل (یو این اسکیپ) کے اشتراک سے کیا گیا۔

اس موقع پر بتایا گیا کہ فضلے کو ری سائیکلنگ اور بائیو ڈائیجسشن کے ذریعے ریسورسز میں تبدیل کرنے کے لئے آئی آر آر سی قائم کیا گیا ہے۔ ان کوششوں میں سی ڈی اے، ڈاکٹر اختر حمید خان میموریل ٹرسٹ، جموں اینڈ کشمیر کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اور پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کا براہ راست تعاون بھی شامل ہے۔ تقریب میں اکنامک افیئرز آفیسر یو این اسکیپ لورینزو سینٹوسی، کنٹری پروگرام منیجر یو این ہیبٹاٹ پاکستان بیلا ایویڈینٹ، اختر حمید خان میموریل ٹرسٹ کی عہدیدار سمیرہ گل، جموں اینڈ کشمیر کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے عہدیدار لطیف قریشی، وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عظیم، بارانی زرعی یونیورسٹی کے افسر شاکر، این ایس یو ایس یو سی (نارتھ سندھ اربن سروسز یونٹ) کے ایم ڈی محمود عباس شاہ اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اے ڈی سنجانی نے منصوبے کی افادیت کے بارے میں شرکاء کو بتایا۔

بیلا ایویڈینٹ نے کہا کہ آئی آئی آر سی کا G-15 میں پائلٹ پراجیکٹ حکومت پاکستان یو این اسکیپ، یو این ہیبٹاٹ، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ کاوشوں کا عکاس ہے۔ اکنامک افیئرز آفیسر یو این اسکیپ لورینزو سینٹوسی نے کہا کہ ویسٹ مینجمنٹ میں بہتری پاکستان جیسے ممالک کے لئے فوری ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا پہلا انٹگریٹڈ ریسورس ریکوری سینٹر پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر G-15 میں قائم کیا گیا ہے جو فضلے کو ری سائیکلنگ اور بائیو ڈائجیسشن کے ذریعے دوبارہ قابل استعمال بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یو این اسکیپ پورے ایشیاء اور بحرالکاہل کے خطے میں آئی آر سی ماڈل کو فروغ دے رہا ہے اور یہ ایک موثر اور موزوں حل ثابت ہوا ہے۔ آئی آر سی کو یومیہ 3 ٹن سالڈ ویسٹ وصول ہو رہا ہے۔ یہ منصوبہ دیگر شہروں میں بھی شروع کیا جائے گا۔ اقتصادی امور ڈویژن، وزارت منصوبہ بندی و اصلاحات، یونیسف، یونیڈو، یو این ڈی پی، زرعی بارانی یونیورسٹی، ڈبلیو ایس ایس پی، این ایس یو ایس سی، میونسپل کارپوریشن مظفر آباد، واسا، حیدر آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی چیمبرز اور دیگر متعلقہ شعبوں کے نمائندوں نے بھی ورکشاپ میں شرکت کی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/01/2016 - 19:33:05

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :