گلیشئرز کے پگھلنے کی رفتار میں ممکنہ اضافہ ، سیلابوں میں اضافہ ہوسکتا ہے،وفاقی ..
تازہ ترین : 1

گلیشئرز کے پگھلنے کی رفتار میں ممکنہ اضافہ ، سیلابوں میں اضافہ ہوسکتا ہے،وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اللہ خان

گلیشئرز کے پگھلنے کی رفتار میں ممکنہ اضافہ ، سیلابوں میں اضافہ ہوسکتا ..

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔5 جولائی۔2015ء) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے ملک میں شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلیشئرز کے پگھلنے کی رفتار میں ممکنہ اضافہ ہونے کے باعث سیلابوں کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان، چین، امریکہ سمیت نو ممالک کی مشترکہ تحقیقات میں موسمیاتی سائنسدانوں نے خبر دار کیا ہے کہ پاکستان کے پانچ ہزار کے لگ بھگ گلیشیئرزکوشدید خطرہ ہے اور بڑھتی حدت کے باعث پانچ ہزار میٹرز سے بلند پہاڑتیزی سے گرم ہو رہے ہیں تاہم ایسا طرز عمل دریائی بہاوٴ میں خطرناک اضافے کا باعث ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

غربت اور عدم تحفظ میں اضافہ ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا ہے تمام صوبائی حکومتوں کو اس سلسلے میں موسمی خطرات کو کم کرنے یا ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہونگے اور بنیادی انفرااسٹرکچر، سڑکوں، پلوں، زراعت اور آبپاشی کے نیٹ ورک کو ان خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سالانہ بجٹوں میں پیسے مختص کرنا ہونگے۔عالمی موسمیاتی تغیر اتی اثرات مطالعہ مرکز (جی سی آئی ایس سی)کے سینئر سائنسدان ڈاکٹر محمد ضیا الرحمن ہاشمی کا کہنا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں،اگر یہ صحیح ہے اورپاکستان میں پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت کے اضافے کی شرح ملک کے زیریں علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے تواس کے سماجی و اقتصادی نتائج سنگین ہوں گے ،ہمارے گلیشیئرزہمارے اندازوں سے کہیں پہلے غائب ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں دریائے سندھ کے آبی بہاوٴکے نظام کو غیر متوقع حد تک بری طرح متاثر کریگا اور کئی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

تحقیق میں سائنسدانوں کی ٹیم نے تجویز دی گئی ہے کہ اس درجہ حرارت میں اضافہ کو جانچنے ، پڑتال اور سخت نگرانی کو یقینی بنایا جائے،ملک میں موسمیاتی آبزرویشن نیٹورک ، گیجنگ اسٹیشنزاور ریموٹ سنسنگ ڈیٹاکے حصول کیلئے سیٹلائٹ سے مدد لینے کا عمل شروع کرنا ہوگا اور خبردار کیا ہے کہ بڑھتے درجہ حرارت سے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار مزید تیزہو جائیگی جس سے قدرتی آفات میں اضافہ اور آبی وسائل کے ضیاع، زرعی پیداوارمیں کمی اور غذائی عدم تحفظ کے خدشات بڑھیں گے جبکہ نتیجتاً پاکستان میں غربت ، سلامتی اور عدم تحفظ کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

وقت اشاعت : 05/07/2015 - 21:53:51

اس خبر پر آپ کی رائے‎