چترال بازار میں ٹرکوں کی بھرمار سے ٹریفک جام نے عوام زندگی اجیرن بنادی

ہفتہ 6 مئی 2017 18:23

چترال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آئی این پی۔ 06 مئی2017ء) چترال شائد ملک کا واحد ضلع ہے جہاں مین روڈ پر مال بردار ٹرک کھڑے ہوکر ان سے سامان اتارا جاتا ہے،یہ ٹرک سڑک کے دونوں جانب کھڑے ہوتے ہیں اور سڑک پر گزرنے والے گاڑیوں کیلئے رکاوٹ بن کر ٹریفک جام ہونے کا باعث بنتا ہے،اس سلسلے میں جب ٹریفک پولیس انچارج سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ یہ ضلعی انتظامیہ اور تاجر یونین کے درمیان معاہدہ ہوا ہے کہ سہ پہر تین بجے کے بعد اور صبح سات بجے سے پہلے یہ ٹرک بازار میں آکر مال اتاریں گے، ان کا کہنا تھا کہ ان ٹرکوں کا اڈہ نہیں ہے ان کو جب بتایا گیا کہ سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد نے اپنے دور نظامت میں دنین کے مقام پر ٹرک اڈہ کا افتتاح کیا تھا اس وقت ڈسٹرکٹ پولیس افیسر بھی مہمان حصوصی تھے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اڈہ دور ہے اور وہاں سے بازار سامان لانے کیلئے سوزکی یا گاڑی کو مزید دو سو روپے دینا پڑتا ہے جسے تاجر حضرات برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔

(جاری ہے)

تاہم راہگیروں نے یہ بھی شکایت کی کہ یہ ٹرک دن کے وقت بھی سڑک پر کھڑے ہوکر سامان اتارتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہوکر لمبی قطار بن جاتی ہے۔ اس سلسلے میں تاجر یونین کے جنرل سیکرٹری حاجی منظور احمد سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس اڈہ سے اگرمال لایا جائے تو اس پر جو کرایہ آئے اسے بھی گاہک برداشت کرے گا اسلئے ہم اس اڈہ کو استعمال نہیں کرتے اور مال سڑک پر اتارتے ہیں۔

تاہم عوام شکایت کرتے ہیں کہ یہ دکاندار ان چیزوں کو سستا نہیں بیچتے جو سڑک پر اتار تے ہیں۔اس سڑک پر ائیرپورٹ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال، کالج، سکول، یونیورسٹی، عدالتیں اور دفاتر بھی واقع ہیں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مریض کو بروقت ہسپتال نہیں پہنچایا جاسکے گا۔ چترال کے لوگ صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ اور ارباب احتیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ چترال کو پابند کرے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے سڑک پر غیر قانونی ٹرکوں کہ کھڑا ہونے نہ دے تاکہ ٹریفک کے نظام میں حلل نہ پڑے اور عوام آسانی سے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے منزل مقصود کو پہنچا کرے۔

متعلقہ عنوان :

چترال میں شائع ہونے والی مزید خبریں