چکوال میں بلدیاتی ادارے تا حال اپنے اختیارات سے لا علم
تازہ ترین : 1

چکوال میں بلدیاتی ادارے تا حال اپنے اختیارات سے لا علم

ابھی تک پنجاب حکومت کی طرف سے ان بلدیاتی اداروں کو کوئی خصوصی گرانٹ فراہم نہیں کی گئی

چکوال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اگست2017ء) بلدیاتی اداروں کو فنکشنل ہوئے ساڑھے سات ماہ گزر چکے ہیں مگر ضلع چکوال کی چھ میونسپل کمیٹیوں اور ضلع کونسل چکوال کی یہ صورتحال ہے کہ ابھی تک انہیں پتا ہی نہیں چل سکا کہ ان کے اختیارات کیا ہیں جبکہ نہ ہی ابھی تک پنجاب حکومت کی طرف سے ان بلدیاتی اداروں کو کوئی خصوصی گرانٹ فراہم نہیںکی گئی ہے ۔

بلکہ ان بلدیاتی اداروںکے اثاثے جو جنرل پرویز مشرف کے دور میں ان سے چھین کر دوسرے سرکاری محکموں کے حوالے کر دیے گئے تھے وہ بھی ابھی واپس نہیں کیے گئے ہیں میونسپل کمیٹی چکوال کے کئی سکول جو محکمہ تعلیم کے پاس گئے تھے اب پتا چلا ہے کہ واپس کرنے کی بجائے انہیں محکمہ تعلیم کے ساتھ ہی رکھا جائے گا۔ میونسپل کمیٹی چکوال کے اپنے وسائل ہیں جس کے ذریعے ان کا ہلکا پھلکا کام چل پڑا ہے مگر اس وقت شہر میں جو صفائی کی صورتحال ہے اس کیلئے اب یہاں پر ایک بڑی کمپنی کی ضرورت ہے جس کو ٹھیکہ دیکر چکوال شہر کو ایک ماڈل شہر بنایا جاسکے مگر بلدیہ کے اتنے وسائل نہیں کہ وہ کسی کمپنی کو ٹھیکہ دے سکے۔

چکوال شہر الحمد اللہ اس وقت37وارڈز پر مشتمل ہے اور یہ 2لاکھ آبادی کا شہر ہے ، وہی پرانے گنے چُنے خاکروب اور صفائی کا عملہ اور سب سے بڑھ کر ان کی اپنی ایک مضبوط یونین ہے جس کی وجہ سے صفائی کے معاملات دگرگوں ہو چکے ہیں۔ چکوال شہر سے بارش کے اوقات کے دوران تمام سڑکیں جھیلیں بن جاتی ہیں، نکاسی آب کا کوئی بندوبست نہیں جبکہ ماضی میں کروڑوں روپے سیوریج کے منصوبے پر خرچ کیے جاچکے ہیں مگر یہ منصوبہ مکمل اور نہی ہی فنکشنل ہوا بلکہ اس کی لوٹ مار میں ملوث سرکاری اہلکاروں کا احتساب بھی نہیں ہوا۔

ضلع کونسل چکوال کی بھی اپنی تھوڑی بہت آمدن ہے مگر71یونین کونسلوں کے ضلع میں ضلع کونسل کو بھی کوئی سرکاری گرانٹ نہیں دی گئی۔ ضلع چکوال میں اکتوبر کے بلدیاتی انتخابات میں 4ہزار200کے قریب بلدیاتی کونسلرز اور چیئرمین منتخب ہوئے ہیں مگر گزشتہ ساڑھے سات ماہ میں نہ ہی ان سے کوئی کام لیاگیا ہے البتہ انہیں یونین کونسلوں، میونسپل کمیٹیوں اور ضلع کونسل میں ایک شو پیس کی حیثیت سے بیٹھا تو دیا گیا ہے مگر کوئی اختیار ہے اور نہ ہی کوئی فنڈز دیے گئے ہیں۔

نئے پنجاب کے بلدیاتی آرڈیننس میں صحت اور تعلیم کی ضلعی اتھارٹیز قائم کرنے کی نوید سنائی گئی تھی جو مکمل مکمل آزاد اور بااختیار ہونی تھیں مگر ساڑھے سات ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود یہ اتھارٹیز قائم نہیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ان دونوں محکموں کے افسران متعدد مسائل سے دوچار ہیں۔ بہرحال بلدیاتی اداروں میں اکثریت مسلم لیگ ن کے منتخب نمائندوں کی ہے مگر پنجاب حکومت ان پر کسی صورت بھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ عوام کے مسائل ان بلدیاتی نمائندوں کی وجہ سے مزید بڑھ گئے ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/08/2017 - 21:22:11

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :