تازہ ترین : 1
تازہ ترین خبریں (2016-10-24)
سپریم کورٹ نے نیب سے پلی بارگین کا اختیار استعمال کرنے سے روک دیا- 10 سال کے دوران پلی بارگین کے ذریعے رقم واپسی کی تفصیلات طلب-عدالت سے بچنے کے لیے نیب کے پاس جا کر مک مکا کیا جاتا ہے، نیب ملزمان کو کرپشن کی رقم واپس کرنے میں قسطوں کی سہولت بھی دیتا ہے اور انھیں کہا جاتا ہے پہلی قسط ادا کرو، پھر کماو اور دیتے رہو۔10 کروڑ روپے کی کرپشن کے ملزم سے 2 کروڑ لے کر باقی چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ نیب آرڈیننس کا سیکشن 25 اے کرپشن ختم کرنے کے لیے تھا بڑھانے کے لیے نہیں۔عدالت عظمی کا اظہار برہمی سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو کو کرپٹ افسران کی جانب سے رضاکارانہ رقم واپسی کے اختیار کے استعمال سے روک دیا۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے رضاکارانہ رقم واپسی کے قانون پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے رضاکارانہ رقم کی واپسی کے حوالے سے نیب پر برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت سے بچنے کے لیے نیب کے پاس جا کر مک مکا کیا جاتا ہے، نیب ملزمان کو کرپشن کی رقم واپس کرنے میں قسطوں کی سہولت بھی دیتا ہے اور انھیں ... مزید