بند کریں
بدھ جون

حالیہ تبصرے

m.ishaq 18-05-2017 23:46:15

sindh gourment apne awam ko kabhi bhi koi b kisi tra ki b sahulat nai dega sindh hukumat ko srf choro or luteron se wasta a gareeb awam se nai

  مضمون دیکھئیے
عامر خان 03-05-2017 08:37:21

اردو پوائنٹ نے ثابت کر دیا کہ یہ اردو پوائنٹ ہے۔ سچ اور حق لکھنے والے آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔

  مضمون دیکھئیے
Shahamil 01-04-2017 18:24:14

Sir Ap Mqm ko kitna bura khley lekin aap awam me jaker wahi ki poochey awam aaj bhi altaf ke sath hn qaser aap ka nai aap ki stablishment ka hn q ke aap ke airport say leker gov ke chotey chotey office chek keroo kitne mujhir gov job per hn 2 % bi nai milley gay me ne aaj tak passaned nai ki mqm lekin wo baat sai kehta hn ke job q nai dey tey hum ko kab pakistani samjha aap sabit keroo sirf karachi ke logoo ko lota hyn

  مضمون دیکھئیے
shahbaz 20-03-2017 03:10:57

Such a negative thought. bhai taliban ko support kar rhy ho kya? woh b tu yehi chahty thy k operation na ho.

  مضمون دیکھئیے
princesmaria 15-03-2017 12:44:33

salam supppprrrrrr information bht allah khuda sb ko naiki k rasty mn chalayen r badi k kamon sa dur rakhen r khuda pak sa duwa ha k hmn apny un bandon jsa bna da jo usy r usk rasol s ko pasand hon Amen suma ameen

  مضمون دیکھئیے
hammad 11-03-2017 15:52:52

molvi who jahan per hai teri sooch bhi nahien ja sakti.waisay inthai chawal tehreer hai lagta kau kisi primiary fail mulla nay likhi hai .

  مضمون دیکھئیے

سماجی مضامین

نوٹ کا سفر

ساڑھے چار ہزار کیوں ؟ ایک دم تم نے پاانچ سو روپے بڑھا دیئے۔۔ ثریا نے دودھ والے پہ برھم ہوتے ہوئے کہا کیا کروں باجی بجٹ بعد میں آیا دودھ کے دام پہلے بڑھ گئے ، ہمیں بھی آگے باڑے سے مہنگا ہی پڑتا ہے

تاریخ اشاعت: 2017-06-24

پتے کی بات

موقع پر موجود عوام چاچے فضل کی فراست سے بہت متاثر ہوئے؛ سبھی سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ پوری زندگی میں انہوں نے کبھی اس پہلو سے نہیں سوچا جس کی طرف چاچے فضل نے توجہ دلائی تھی؛ حالانکہ ان میں سے ہر ایک نے کبھی نا کبھی سڑک پر حادثوں کی وجہ سے ہونے والے جھگڑوں کو نمٹانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کوشش ضرور کی ہوئی تھی

تاریخ اشاعت: 2017-06-24

مکافات

ساجد کے باپ نے اس معاملے میں ساجد کا بھرپور ساتھ دیا تھا لیکن ماں کی منطق تھی کہ بہو اس لئے لائی جاتی ہے کہ وہ آ کر بوڑھے ساس سسر کی خدمت کرے، اگر نورین کو بیاہ لائے تو الٹا ان کو اس کی دیکھ بھال کرنا پڑے گی

تاریخ اشاعت: 2017-06-23

اللہ سے تجارت

وہ مطمئن تھا کہ آج کا دن اچھا گزر جائے گا، پھل والی ایک ریہڑی پر رک کر وہ جائزہ لینے لگا کہ یکایک اس کے سامنے والے میڈیکل سٹور سے ایک عورت روتی چلاتی برآمد ہوئی

تاریخ اشاعت: 2017-06-23

مریم اور فاطمہ

سڑک کراس کرتے ہی نو دس سال کی وہ چاروں میلی کچیلی بچیاں ہاتھ پھیلائے میرے سامنے آکھڑی ہوئیں۔ ”آج تو پیسے دوگی نا؟؟“ ”آج تو“ کے الفاظ سن کر میں ٹھٹھک گئی

تاریخ اشاعت: 2017-06-22

کفارہ

پمفلٹ میں صرف اتنا لکھا تھا ’’اگر آپ سے کوئی گناہ ہو گیا ہے تو گھبرائیے نہیں، ہم سے رابطہ کریں، ہم اس کے کفارہ کا انتظام کریں گے‘‘

تاریخ اشاعت: 2017-06-22

حکمت عملی

سکول کے احاطے اور بیرونی حصہ میں آبادی کے کافی لوگ جمع ہو چکے تھے جن میں عورتوں اور بچوں کی بھی کثیر تعداد تھی۔ تھوڑی دیر میں سیٹھ صاحب سکول کا افتتاح کرنے والے تھے ۔۔۔

تاریخ اشاعت: 2017-06-21

فرعون

اس کو محسوس ہوا اس کا ضمیر چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ تم بھی ایک فرعون ہو، اس نے گھبرا کر ضمیر کی آواز کو دبایا، چائے کی پیالی اٹھائی اور اخبار میں منہ دے دیا۔۔۔۔۔

تاریخ اشاعت: 2017-06-21

چور اور بددیانت

سکرین پر گھڑی میں رات 2 بجے کے ہندسے چمک رہے تھے۔ ”دیر بھی ہوگئی اور میں تھک بھی گیا ہوں ، ایسا کرو سیدھا گھر ہی لے چلو، پٹرول کل صبح نکلنے سے پہلے بھروا لینا“ انہوں نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ڈرائیور کو ہدایت کی۔ ڈرائیور نے مؤدبانہ ’’جی اچھا‘‘ کہا ، گاڑی کا پچھلا دروازہ بند کیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی

تاریخ اشاعت: 2017-06-20

صرف بھوک کا روزہ

بابا جی کل میرے گھر افطاری ہے قریبا سو احباب ہوں گے، مجھے سموسے اور پکوڑے چاہئیں، کتنے پیسے دے جائوں، میں نے پوچھا۔ بابا جی نے میری طرف دیکھا اور سوالیہ نظروں سے مسکرائے۔ "کتنے پیسے دے سکتے ہو"، مجھے ایسے لگا جیسے بابا جی نے میری توہین کی ہے

تاریخ اشاعت: 2017-06-20

خود احتسابی

پاکستان سے کینیڈا واپس آنے کے بعد جہاں مجھے اور بے شمار تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑا وہیں ابا جی کی آنسو بھری سرخ آنکھوں نے مجھے شدید روحانی بے آرامی میں مبتلا کر دیا

تاریخ اشاعت: 2017-06-19

جی رہے ہیں آپ کی جو گندگی

بھلوال سے بھیرہ تک فاصلہ پندرہ میل اور تب سفر ایک گھنٹے کا تھا لیکن گزر پل بھر میں جاتا۔ اصل سفر بھیرہ سے بھیرہ تک کا ہوتا۔ سرکلر روڈ پر تانگے کا سفر پل صراط کے سفر سے کم نہ محسوس ہوتا۔ بھیرہ بانہیں کھول کر استقبال کرتا۔ جتنے دن ملتے لمحوں میں گزر جاتے۔ دن کا آغاز والد مرحوم کی انگلی پکڑے ہوتا۔ منہ اندھیرے صبح کے اس پہلے سفر کا پہلا پڑائو گانگی والا ہوتا جو کھُوہ در کھُوہ ہوا خوری کے بعد دن چڑھے گھر پر ختم ہوتا۔ گانگی والا ہمارا خاندانی قبرستان تھا جس کی تاریخ ہی نہیں جغرافیہ بھی والد مرحوم کو زبانی یاد تھا

تاریخ اشاعت: 2017-06-19

فہرست 1 سے 12  تک   (625 ریکارڈز )