تازہ ترین : 1
Zer e Tameer Rout Ki Waja Se Karobar Thap

زیرتعمیرروٹ کی وجہ سے کاروبارٹھپ‘ تاجر سراپااحتجاج بن گئے

اورنج ٹرین کاشاندارمنصوبہ شہریوں کیلئے اذیت کیوں گردوغبارسے بیماریوں میں اضافہ‘ ٹریفک جام کامسئلہ بھی سنگین ہوگیا ٹریفک کادباؤ کسی ایک ملک یاشہر کامسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیاکے بڑے بڑے شہروں کواس نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس مشکل سے نکلنے کیلئے آئے روزدنیابھرمیں نے نئے تجربات کئے جارہے ہیں۔

سیدساجدیزدانی:
ٹریفک کادباؤ کسی ایک ملک یاشہر کامسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیاکے بڑے بڑے شہروں کواس نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس مشکل سے نکلنے کیلئے آئے روزدنیابھرمیں نے نئے تجربات کئے جارہے ہیں۔ ایک ایساہی تجرنہ 1863ء کولندن میں کیاگیا جہاں پہلی بارانڈرگراؤنڈریلولے کانظام متعارف کروایا گیا جودنیا کاپہلا میٹروسسٹم کہلایااورا ٓج میٹرونزاٹ سسٹم دنیاکے 55ممالک کے تقریباََ 50شہروں میں چل رہاہے۔
دنیاکی دیکھا دیکھتی پاکستان کے شہرلاہور میں بھی اورنج لائن میٹروٹرین کے نام سے یہ سسٹم متعارد کروایاگیا ہے۔ چین کے تعاون سے شروع ہونے والے میٹروٹرین کے اس منصوبے پر تقریباََ پونے دوکھرب (165.20ارب) لاگت آئے گی۔ 27.1کلومیٹرروٹ پرمشتمل اورنج ٹرین کے 24سٹیشن ایلیویٹڈ(مین سے اوپر) اور دوزیرزمین(انڈرگراؤنڈ) ہونگے۔ یہ ٹرین علی ٹاؤن ٹھوکر نیازبیگ سے شروع ہوکرکینال ویووحدت روڈ‘ بندروڈ‘ سمن آباد‘ چوبرجی تک زمین کے اوپر جبکہ جی پی اوچوک سے زیرزمین ‘لکشمی چوک‘ ریلولے سٹیشن‘ انجینئرنگ یونیورسٹی‘ شالامارباغ‘ محمود بوٹی‘ اسلام پارک پہنچے گی۔
ٹرین کا آخری سٹیشن ڈیرہ گجراں ہوگا۔ 30سے 70کلومیٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرین ہرآدھے گھنٹے بعد روانہ ہوگی اور 40منٹ میں پہلے سے آخری سٹیشن پرپہنچے گی۔ ٹرین کے تقریباََ 27ڈبے ہونگے اور اڑھائی لاکھ مسافر روزانہ اس پرسفرکریں گے جسے بعدازاں بڑھاکر 5 لاکھ تک لے جایاجائے گا۔ گزشتہ چندماہ سے جاری اس منصوبے کی ممکنہ تکمیل مدت اکتوبر 2017ء طے پائی ہے۔
لاہور اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے کیلئے فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے پنجاب حکومت اور یگزم بنک آف چائنہ کے مابین معاہدہ بھی طے پایاہے جس کے تحت ایگزم بنک آف چائنہ منصوبے کیلئے آسان شرائط پر162ارب روپے کے فنڈز فراہم کرے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کاکہنا ہے کہ لاہور اورنج لائن میٹروٹرین منصوبہ صرف لاہور یا پنجاب کانہیں بلکہ پورے پاکستان کاہے۔
انہوں شہریوں کوسفر کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کاعزم کررکھاہے‘ لیکن اس عزم کی تکمیل میں ملکا ور شہریوں کوکیاقیمت چکانا پڑرہی ہے اس کاشایدانہیں اندازہ نہیں۔ملک پہلے ہی قرضوں میں ڈوب چکاہے اوراوپر سے میٹروٹروین کیلئے ملنے والاقرضہ کون چکائے گا؟ لاہور کااہم ترین مسئلہ ٹریفک ہے جس کیلئے مٹروبس اورٹرین منصوبے بھی بنائے جارہے ہیں‘ لیکن جاری منصوبے (میٹروٹرین) کیلئے ٹریفک کاکوئی مربوط نظام وضع نہیں کیاگیا۔
اورنج ٹرین کے روٹ میں آنے والے مقامات پرٹریفک کانظام درہم برہم ہونے سے شہریوں کونہ صرف جسمانی بلکہ مالی نقصان کابھی سامناہے۔ ٹوٹی سڑکوں کی وجہ سے جہاں ان کی گاڑیاں تباہ ہورہی ہیں وہاں صحت کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ ٹرین کے روٹ پرکھدائی ودیگر کاموں سے کاروباری سرگرمیاں تقریباََ معطل ہوکررہ گئی ہیں۔ تاجر برادری آئے روز سراپااحتجاج بنے کھڑی ہوتی ہے‘ لیکن فی الوقت کوئی ان کے دکھوں کامداواکرنے کوتیار نہیں۔
ڈاکٹر کاکہناہے کہ ہروقت اڑتی گردوغبار اور روڈپرپریشرکی وجہ سے شہری نہ صرف نفسیاتی بلکہ سانس ودیگر بیماریوں کاشکارہورہے ہیں۔ میٹروٹرین کوچلانے کیلئے قیمتی نجی سرکاری املاک کی قربانی دینے پڑے گی۔وہ سرکاری املاک کیساتھ شہریوں کے گھردکانیں اور پلازے گرائے جارہے ہیں اور ان کی قیمت مارکیٹ کے حساب سے نہایت کم دی جارہی ہے جس پر متاثرین شورمچارہے ہیں‘ لیکن ان پر صورت ریاست کی رٹ نافذکی جائے گی۔
منصوبے کیلئے پہلے شالامارپارک اور چوبرجی کاکچھ حصہ قربان کرنے کی اطلاعات بھی آئیں‘ لیکن بعدازاں یونیسکواور سول سوسائٹی کے متحرک ہونے پرحکومت نے ان تاریخی مقامات کونقصان نہ پہنچانے کی یقین دہانی کروائی ہے لیکن پھربھی ٹریفک کی وجہ سے ان تاریخ مقامات کانظارہ متاثر ہوگا۔ اس سے کہیں زیادہ بہترہوتااگر تاریخ مقامات سے ٹریک انڈر گراؤنڈ گزارجاتا‘ لیکن انتظامیہ نے اس تجویز کو نظر انداز کردیا۔
حالانکہ اس سے قبل میٹروبس کی وجہ سے داتادربار لاہورقلعہ‘بادشاہی مسجد‘ مینار پاکستان وغیرہ کانظارہ متاثر ہوچکا ہے۔ اسی طرح اورنج ٹرین روٹ میںآ نے والے 6سو 20تناوردرخت کاٹ دئیے جائیں گے‘ تاہم لاہروڈویلپمنٹ اتھارٹی نے روٹ کے مختلف مقامات پر 6ہزار2سو پودے لگانے کاوعدہ کیا ہے مگریہ وعدہ کب اور کیسے ایفا ہوگااس بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتا کیونکہ پاکستان میں شجرکاری زیادہ ترصرف کاغذات تک محدود رہتی ہے۔
میٹروٹرینوں کیلئے 74میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوگی جس کیلئے جی ٹی روڈاور ملتان روڈپرایک ایک پاورسب سٹیشن بھی تعمیرکئے جائیں گئے قابل غور بات یہ ہے کہ ملک پہلے ہی توانائی کے بحران کاشکار ہے توایسے میں نئے منصوبے کیلئے اتنی بجلی کیسے پوری کی جائے گی؟ شہریوں کوسفرکی بہترین سہولیات کی فراہمی بلاشبہ ایک احسن اقدام ہے لیکن میٹروٹرین جیسے منصوبوں کوشروع کرنے سے قبل بہترین حکمت عملی بھی اپناناضروری ہے کہ جس کے ذریعے شہریوں کوکم سے کم تکلف پہنچے۔
پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے متعلقہ حکام کایونیورسٹی ٹاؤن ون میں دفاتر قائم کرنے کے لئے سروے کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے دوبارہ احتجاجی تحریک چلانے کااعلان کیاہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں صدر آساڈاکٹڑ حسن مبین عالم، نائب صدر ڈاکٹڑ عابدحسین چوہدری اور سیکرٹری ڈاکٹر محبوب حسین نے متعلقہ حکام کی جانب سے ٹاؤن ون کا سروے کرنے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت نے وعدہ کیاتھا کہ یونیورسٹی ٹاؤن کی زمین پراورنج لائن ٹرین کے دفاتر کی تعمیرنہیں کی جائے گی جہاں اساتذہ کے گھر واقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت وعدے کی پاسداری کرے ورنہ دوبارہ احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی اور جلد ہی جنرل باڈی کااجلاس بلاکراحتجاجی تحریک کافیصلہ کیاجائے گا۔ قائم مقام چیف ٹریفک آفیسر لاہور آصف صدیق نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے تعمیراتی علاقوں میں ماسک استعمال نہ کرنے پر 6ٹریفک وار ڈنزکوشوکازنوٹس جاری کردئیے۔ آصف صدیق نے تعمیراتی علاقوں کادورہ کیا اور وارڈنزکوسختی سے ہدایت کی کہ ون وے، غلط پارکنگ اور تجاوزات کیخلاف ٹھوس کارروائی جاری رکھیں تاکہ شہریوں کو ٹریفک کی روانی میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین محمد صدیق الفاروق نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے جین مندر کو محفوظ رکھنے کیساتھ ساتھ اورنج لائن ٹرین کے روٹ کوتبدیل کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ بورڈ آفس میں اقلیتوں کے دفدسے گفتگو کرتے ہوئے صدیق الفاروق نے کہاکہ وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اقلیتوں کے حقوق کے محافظ ہیں اور اقلیتوں کی عبادتگاہوں کاتحفظ ہماری آئینی ذمہ داری ہے ۔
انہوں نے مزیدکہاکہ ہندوؤں کی قدیم عبادتگاہ جین مندرکااور نج لائن ٹرین کے روٹ میں آنے کامعاملہ وزیراعلیٰ کے نوٹس میں لایاگیا جس پرمیاں شہبازشریف نے فوری طورپر جین مندر کومحفوظ رکھنے کیساتھ ساتھ اورنج لائن کے روٹ کوتبدیل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ جین مندر میں ٹرسٹ بورڈ کے رہائشی کرائے داروں کوہرقس کی سہولیات دی جائینگی۔ اس موقع پر ہندو رہنماوؤں نے جین مندرکومحفوظ بنانے اور اورنج لائن ٹرین کے روٹ کوتبدیل کروانے پرچیئرمین بورڈ کا شکریہ اداکیا۔
یادرہے کہ ہندوکمیونٹی کے افراد نے چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈاور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیاتھا کہ جین مندر کومحفوظ رکھنے کیلئے اورنج لائن ٹرین کے روٹ کوتبدیل کیاجائے جس کو چیئر مین بورڈ صدیق الفاروق کی درخواست پرعملی جامہ پہنایاگیا۔ سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے اورنج ٹرین منصوبے کوڈالر بناؤ کوئی تجربہ قراردیتے ہوئے کہاکہ اس کاٹھیکہ جس کمپنی کودیاگیاہے اس کوایسا کوئی تجربہ نہیں اور ورہ صرف اسلحہ فروخت کرتی ہے۔
وہ اپنی رہائش گاہ پر طارق بشیر چیمہ ایم این اے کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا خسارے کاروزگارماحول دشمن پراجیکٹ ہے جس میں 16ارب سالانہ خسارہ ہے اور بھاری قرضے سے آئندہ نسلیں بھی قرضوں میں جکڑی جائیں گی۔ لاہورشہر کاتاریخی حسن ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا 4لائنوں کاہرعلاقہ کوفائدہ پہنچانے والا 97کلومیٹر انڈرگراؤنڈ ٹرین کامنافع بخش اور سبسڈی فری منصوبہ شہباز شریف نے ختم کیااور ایشین ڈویلپمنٹ بین کولکھا کہ ہمیں اس لون کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے اس لیٹر کی کاپی بھی صحافیوں کودی۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہمارے منصوبے سے کوئی عورت مکان یادکان نہ گرتی بلکہ انڈرگراؤنڈ کمرشل سنٹربنانے سے ہزاروں افراد کوروزگارملتا۔ انہوں نے ایک سوال پرکہاکہ اس منصوبہ کاحشرنندی پوری پراجیکٹ سے بھی براہوگا اور کریشن کی پٹڑی پرچڑھ کراورنج لائن کہیں نہیں پہنچے گی۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہاشہبازشریف نے صوبہ کوایک ہزارارب کامقروض بنا دیاہے جبکہ ہم نے 100ارب سرپلس چھوڑے تھے۔ جنگلابس کے بعد اورنج لائن ٹرین کوپنجاب کی معیشت پرایک اور سفید ہاتھی کابوجھ قراردیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس کی حقیقی لاگت کوبھی چھپایا جا رہاہے جبکہ شہبازشریف کے پراجیکٹ کے مقابلہ میں ہمارا پراجیکٹ بالکل مفت تھا۔
وقت اشاعت : 2016-01-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں