تازہ ترین : 1
Zalzala Aik Nagahani Aafat

زلزلہ ایک ناگہانی آفت

دنیا کاکوئی بھی ملک اس سے محفوظ نہیں

عمران قریشی سہام:
26اکتوبر 2015بروزپیردن 2جب کر11منٹ پرہولناک زلزلہ آیاجس کی وجہ سے عمارتیں جھولے کی طرح جھولنے لگیں۔ زمین اس طرح ہچکولے کھانے لگی جس طرح بحری جہاز سمندری طوفان میں ہچکولے کھارہاہو۔ لوگ گھروں سے باہرنکل آگئے اور بلندآواز میں کلمہ طیبہ اور درود شریف کادرد شروع کردیا۔ انسانوں کے علاوہ جانوروں نے بھی زلزلہ کی شدت کومحسوس کیا۔
پرندوں نے چلانا اور کتوں نے بھونکنا شروع کردیا۔ اس زلزلہ کامرکز کوہ ہندکش کے پہاڑی سلسلوں میں تھا۔ زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر8.1ریکارڈ کی گئی جواکتوبر 2005ء میں آنے والے زلزلے سے زیادہ تھی اور جس میں ہولناک تباہی ہوئی تھی۔ اس زلزلے نے سوات، شانگلہ، باجوڑ ایجنسی، یونیر، چترال، کوہستان، مالا کند، مانسجرہ اور صوبہ سرحد کے متعدد علاقوں میں تباہی مچادی۔
ہزاروں مکانات منہدم ہوگئے اور سینکڑوں قیمتی جانیں زلزلہ کاشکار ہوگئیں۔ اس زلزلے کے جھٹکے راولپنڈی، اسلام آباد، آزادکشمیر کے علاوہ پاکستان ہندوستان اور افغانستان کے متعدد شہروں میں بھی محسوس کئے گئے۔ سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق زمین کے اندرونی حصہ کی نچلی سطح میں چٹانیں موجودہیں جنہوں نے زمین کوسہارادے رکھاہے۔ یہ چٹانیں جب ٹھنڈی ہوکرسکڑتی ہیں توخلاپیداہوتاہے اور ان کی قریبی دوسری چٹانیں ان کی جگہ لینے کے لئے سرکتی ہیں۔
چٹانوں کی اس تبدیلی کے باعث زمین میں لرزش پیدا ہوتی ہے جوزلزلہ کاسبب بنتی ہے۔ دوسری تحقیق کے مطابق زمین کی نچلی سطح میں گرم مادہ موجود ہے جو میگماکہلاتاہے۔ میگما جب پگھل کرپھیلتاہے اور زمین سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے توزمین کی سخت بیرونی سطح اس کے پھیلاؤ کوعام طور پرسطح تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ ادھرزمین کااحاطہ کرنے والی چٹانی تہوں میں بعض مقامات پر شگاف ہوتے ہیں یابعض مقامات پرزمین کاپوست کمزورہوتاہے۔
اور زمین کی اُوپر کی سطح سے تقریباََ ڈیڑھ سوکلومیٹر نیچے کاحصہ نسبتاََ ملائم ہے جومیگما کے دباؤ اور تناؤ کے نتیجے میں جب دیتاہے تولچک پیداہوتی ہے جس کے نتیجے میں زمین کی اُوپرکی سطح پر جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔ لاکھوں سال پہلے زمین کی بیرونی پرت جوپگھلی ہوئی تھی سخت ہونا شروع ہوگئی اور یہ عمل مسلسل جاری ہے جس کے نتیجہ میں براعظم اپنی ہیت تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
ہرسطح مرتفع اور پہاڑی سلسلہ کے نیچے زمین کی سطح ابھری ہوئی ہے اور اس میں دراڑیں اور سوراخ موجودہیں۔ پگھلے ہوئے لاوے سے جب گیسیں اٹھتی ہیں تولاوے اور گیسوں کادباؤ بڑھ جاتاہے تولاواکسی دراڑیا سوراخ سے اُوپرکی جانب بڑے زورسے اٹھتا ہے جس کی وجہ سے زلزلہ کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔ آتش فشاں پہاڑ بھاپ کے انجن کے حفاظتی والوزکی طرح ہیں جواُس وقت بھاپ خارج کر دیتے ہیں جب بوائلر میں بھاپ کادباؤ بڑھ جاتا ہے۔
اگرلاوے کادباؤ زیادہ ہوتو دہانہ پھٹ جاتا ہے اور لاوا دور دور تک پھیل جاتاہے۔ لاواجب زمین کے اندرکھالتاہے توشدید لہریں پیداہوتی ہیں جولاوے کے مرکز سے بتدریج سطح زمین تک جھٹکوں کی شکل میں چلتی ہیں کوکسی تالاب میں کنکرپھینکنے سے سطح آب پرپیدا ہوتی ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ زلزلے سے دوہری لہریں پیداہوتی ہیں جومتوازن چلتی ہیں اور سطح زمین کے قریب پہنچ کرشدید جھٹکوں کی صورت اختیارکرلیتی ہیں۔
ان کے وجہ سے بڑے بڑے تووے اپنی جگہ سے سرک جاتے ہیں۔ عمارتیں زمین بوس ہوجاتی ہیں اور سمندروں میں طوفان آجاتے ہیں۔ زلزلے ناگہانی آفات کابہت بڑاسبب ہیں۔ زلزلوں سے دنیا کاکوئی ملک بھی نہیں بچ سکاجن میں نہ صرف ترقی پذیربلکہ ترقی یافتی ممالک بھی شامل ہیں۔ زلزلوں کے باعث بے اندازہ جانی اور مالی نقصانات ہوچکے ہیں جنگی تفصیل یہ ہے۔ برصغیر میں زلزلوں کاریکارڈنویں صدی سے شروع ہوتا ہے۔
1413ء میں بحرہندکے ساحلی علاقوں میں زلزلہ آیاجس کی وجہ سے ڈیڑھ لاکھ افراد مارے گئے تھے۔ 6 جولائی 1505ء کو افغانستان اور سرحد میں شدید زلزلہ آیااور بہت زیادہ نقصان ہوا۔ 1552ء میں کشمیر میں زلزلے کی وجہ سے بہت جانی اور مالی نقصان ہواتھا۔ مئی 1668ء کے زلزلے میں 23ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ دہلی کی بڑی بڑی تاریخی عمارتوں کو17جولائی 1720ء کے زلزلے میں نقصان پہنچا 1737ء کے زلزلے میں کلکتہ میں تین لاکھ افرا دلقمہ اجل بنے۔
1764ء کے زلزلے میں بنگال اور برما کے علاقوں مین جانی اور مالی نقصان ہوا۔ 1783ء میں کلاپیریاکے زلزلہ میں60ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ قطب میناردہلی کا بالائی حصہ 1803ء کے زلزلہ میں گرگیا۔ 1818ء کے ہولناک زلزلے میں متعدد شہرصفحہ ہستہ سے مٹ گئے۔ 1828ء میں کشمیر میں ہولناک زلزلے سے بہت نقصان ہوا۔ پشاور اور جلال آباد میں 12فروری 1842ء کوتباہ کن زلزلے آئے۔
1875ء میں لزبن (پرتگال) کے خوفناک زلزلے میں80ہزار قیمتی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔جنوبی امریکہ کے شہرپیرومیں 1868ء میں 25ہزار افراد زلزلے کی نذرہوگئے تھے۔ 1886ء میں جب چارلٹن میں زلزلہ آیاتو ایک مکان بھی اس کی زدسے نہ بچ سکا۔ 1905ء میں کانگڑے کے زلزلہ میں 20ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ بیسویں صدی کے پہلے ربع میں پانچ بڑے اور ہولناک زلزلوں میں پانچ لاکھ سے زائد افراد لقمئہ اجل بنے۔
1927ء 1932ء اور 1939ء میں سب سے زیادہ زلزلہ سے آغاویر (مراکش) میں نقصان ہوا۔ 15 جنوری 1933ء کوئٹہ کے نواحی علاقوں میں زلزلہ آیاجس میں دس ہزار سے زائد افراد موت کی آغوش میں چلے گئے اور کروڑوں روپے کامالی نقصان ہوا۔ سواسال بعد 31مئی 1935ء کوکوئٹہ میں جوزلزلہ آیا اس میں 25ہزار افراد لقمئہ اجل بنے اور کروڑوں روپے کانقصان ہوا۔ 1960ء ایران اور چلی 1962ء ایران 1963ء یوگوسلادیہ میں زلزلوں کے باعث شدید تباہی مچی اور مجموعی طور پر لاکھوں افراد کی جانیں تلف ہوگئیں۔
باوجود سائنس میں اس قدرترقی کے ابھی تک زلزلوں کوروکنے یا ان پر قابو پانے اور ان سے ہونے والے نقصانات کی روک تھام کے لئے کچھ بھی نہیں کیاجاسکا۔ صرف اس قدر ضرور ہواہے کہ زلزلوں کی وجودہات پرتحقیق ہوئی ہے اور ان کی شدت کوناپنے کے لئے آلے تیار ہوچکے ہیں۔
وقت اشاعت : 2016-01-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں