بند کریں
جمعرات مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”یہ سب غیروں کی سازش ہے“
ہم اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتے ؟ پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ عوام ، حکومت اور فوج سبھی پاکستان میں قیام امن کے خواہش مند ہیں۔دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ بحیثیت قوم ہم کنفیوژن کا شکار ہیں
اسعد نقوی :
ہمارے ہاں بے بنیاد نظریات کی بھرمار ہے۔ ان کی سے اکثر نہ تو تاریخی حوالے سے درست ہیں اور نہ ہی زمینی حقائق ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ ایسے ہی نظریات پاکستانی طالبان کے حوالے سے بھی پائے جاتے ہیں جو مزید ابہام کا باعث بن رہے ہیں۔
پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ عوام ، حکومت اور فوج سبھی پاکستان میں قیام امن کے خواہش مند ہیں۔
دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ بحیثیت قوم ہم کنفیوژن کا شکار ہیں۔ ہمارے ہاں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ ان میں کچھ کو تو ”سازشی تھیوری“ بھی کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان نظریات کی بنیاد علمی یا عقلی حوالوں پر بھی نہیں ہوتی بلکہ سُنی سنائی باتیں اور خود ساختہ سوچ ہی ان کی بنیاد رکھتی ہے جو آہستہ آہستہ مضبوط ”مائنڈ سیٹ“ کی صورت سامنے آجاتی ہے ۔
اگر ہمیں دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے اور پاکستان میں امن قائم کرنا ہے تو پھر ہمیں اپنے ان نظریات کو پرکھنا ہوگا اور حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔
پاکستان میں شدت پسندوں کے حوالے سے پائے جانے والے نظریات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسلمان کبھی کسی دوسرے مسلمان پر ہتھیار نہیں اٹھایا لہٰذا یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں بلکہ غیر مسلم ہیں۔ یہاں یہ بات تو درست ہے کہ مسلمان کو بیگناہ مسلمان پر ہتھیار اٹھانے یا اُسے مارنے کی اجازت نہیں دی گئی اور اسلام نے اس پر سخت پابندی لگائی ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ مسلمان ایساکرتے رہے ہیں ۔
ہم تاریخ کامطالعہ کریں تو مسلمان پہلے ایک دوسرے کے خلاف جنگ کرتے رہے ہیں۔ جنگ جمل میں تو دونوجانب صحابہ کرام شامل تھے۔ اسی طرح جنگ صفین میں بھی حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ کربلا کے میدان میں بھی حضرت امام حسین کے خلاف یزید کا لشکر میدان میں اُترا اوریزیدی لشکر بھی اس وقت اُنہی لوگوں پر مشتمل تھا جو خود کو مسلمان کہلاتے تھے۔
حسن بن صباح کے فدائی تو تاریخ کا مکمل باب بن چکے ہیں۔ مغل دور حکومت تو ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ محمد بن قاسم کو قتل کرانے والے بھی مسلمان ہی تھے اور مغل شہزادوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر کر اندھا کرنے والے بھی مسلمان ہی تھے۔ دیگر الفاظ میں یہ نظریہ درست نہیں کہ مسلمان کبھی مسلمان کو قتل نہیں کرتا اور پاکستان میں حملے کرنے والے مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم ہیں۔
البتہ یہ لوگ بحث ہے کہ مسلمان کو قتل کرنے والوں کو روز حشر کیا سزا یا جزا ملے گی۔ قصہ مختصر پاکستان میں رائج یہ نظریہ درست نہیں کہ طالبان مسلمان نہیں ہیں یا غیر مسلم طالبان کے نام پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اب تک جو لوگ گرفتار ہوئے یا مارے گئے ان کی اکثریت خود کو مسلمان ہی کہلاتی تھی۔
طالبان کے حوالے سے ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ یہ مسلمان توہیں لیکن ان کے ڈانڈے غیر ملکی طاقتوں سے ملتے ہیں یایہ پاکستان میں غیر ملکی طاقتوں کے ایما پر کارروائی کر رہے ہیں۔
اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیا ں بھی متحرک ہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ طالبان کی پاکستان میں ہونے والی سرگرمیوں اور کارروائیوں کے حوالے سے ایسے ثبوت سامنے نہیں آئے کہ انہیں بھارت ،امریکہ یا اسرائیل براہ راست احکامات جاری کرر ہے ہیں۔ اگر ایسے ثبوت ہیں تو پھر یقینا اُنہیں عالمی سطح پر بھی اٹھانا چاہیے اور قوم کے سامنے بھی لانا چاہیے۔
فی الوقت تو زمینی صورتحال یہ ہے کہ امریکہ بھی ان پرڈرون حملے کر رہاہے اور وہ بھی امریکہ کے خلاف نظر آتے ہیں۔
پاکستان میں طالبان کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگریہ غیر ملکی ایجنٹ نہیں ہیں تو پھر ان کے پاس سرمایہ اور اسلحہ کہاں سے آتا ہے ۔ شاید کچھ لوگوں کو یہ بچگانہ سا سوال لگے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک اخباری ذرائع اور دیگر تحقیقات سے اس سوال کا واضح جواب سامنے آچکا ہے ۔
طالبان کی فنڈنگ پر مختلف تحقیق مقالے اور مضامین بھی سامنے آچکے ہیں۔ عام طور پر یہ گروہ اپنے علاقوں سے گزرنے والی گاڑیوں سے راہداری کے نام پر پیسے لیتے ہیں۔ اسی طرح مسلح گروہوں میں منشیات کی خرید وفروخت بھی ہوتی ہے۔اور اس مُد میں بھی رقم حاصل ہوجاتی ہے۔ غیر ممالک میں مقیم پاکستانی حمایتی بھی حوالہ یا ہنڈی کے ذریعے چندہ کے نام پر رقم بھیجتے ہیں۔
پاکستان میں اغواء برائے تاوان اور بنک ڈکیتیوں میں بھی طالبان کا نام سامنے آچکاہے ۔ اسکے علاوہ کار چوری کے ساتھ ساتھ نیٹوودیگر کنٹینرز پرحملے اور اشیاء حاصل کرنے کی کارروئیاں بھی ریکارڈ پر ہیں ۔یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستانی طالبان کے نام پر کارروئیاں کرنے والے گروہوں کو امریکہ، اسرائیل وغیرہ سے فنڈنگ کری خاص ضرورت نہیں کیونکہ وہ اس معاملے میں خود کفیل ہیں۔

پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے ایک مضبوط نظریہ یہ بھی ہے کہ دراصل یہ ہماری جنگ ہی نہیں ہے۔عمران خان سمیت قومی سطح کے متعدد سیاسی راہنما بھی ایسے بیانات دے چکے ہیں۔ دوسری جانب طالبان کے نام سے پاکستان میں ہونے والی کارروئیوں میں 50 ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔ اگر ہم جائزہ لیں تو ان شہداء میں 90 فیصد عام پاکستانی شہری شامل ہیں ۔
بچوں ،بوڑھوں اور خواتین سمیت ہر طبقہ اُن کا نشانہ بن چکا ہے۔ یہ نقصان پاک بھارت جنگوں سے کہیں زیادہ ہے۔ لہٰذا یہ نظریہ درست نہیں کہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ اگر اُن کا نشانہ پاکستان کے بازار اور آبادیاں ہیں اور اس جنگ میں عام شہری شہید ہو رہے ہیں تو پھر یہ کسی اور کی جنگ نہیں ہے۔
طالبان کے حوالے سے ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ یہ ”ناراض بھائی“ ہیں چونکہ اُن پر امریکہ ڈرون حملے کرتاہے اورپاکستان ان حملوں میں معاون ہے لہٰذا یہ پاکستان میں حملے کر کے اس کا جواب دیتے ہیں جو کہ ایک فطری عمل ہے۔
دوسری جانب اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاکہ ڈرون حملوں سے قبل ہی یہ سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ اسامہ بن لادن، ایمن الزواہری اور القاعدہ کے دیگر راہنما اس سے کہیں پہلے اپنے ردعمل کا عملی اظہار کر چکے تھے۔ اسی طرح یہ بھی سچ ہے ہمارے متعدد مدارس میں اس بات کی نظریاتی تربیت کی جاتی ہے کہ ہمیں ایک اسلامی ریاست بنانا ہے، یعنی خلافت کا قیام لازم ہے۔
اس نظریہ سے متاثر نوجوان مکمل ذہنی تربیت کے بغیر اپنے ذہن میں لائن آف ایکشن بنا لیتے ہیں۔القاعدہ اور پاکستانی طالبان گروہ اسی نظریہ کے تحت چل رہے ہیں ۔ ان کے نزدیک ممالک کی سرحدی حد بندی درست نہیں ہے اور دنیا میں صرف ایک سرحد ہے جو اسلامی ریاست اور کفر کی ریاست کے درمیان ہوگی۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ڈرون حملوں کا ردعمل کم اور نظریہ کی جنگ زیادہ ہے۔

اگر ہم نے پاکستان کو پُرامن ملک بنانا ہے اور ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کرنا ہے تو ہمیں زمینی حقائق اور تاریخی کومد نظر رکھنا ہوگا۔ حقیقت کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد بے بنیاد نظریات اور تھیوریز سے جان چھڑانا ہوگی اور صورتحال کو اس کے اس پس منظر کے ساتھ دیکھنا ہوگا اور قوم کو ایک نقطہ پر اکٹھا کرنا ہوگا تبھی ہم کامیاب ہو سکیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان