تازہ ترین : 1
Waqt Ki Ehmiyaat

وقت کی اہمیت

انسان کے پاس اصلی دولت وقت ہی ہے۔۔۔۔۔ ہمارے اسلاف کرام نے علمی و عملی زندگیوں میں جو عالی مقام حاصل کیا اورمیدان میں منوایا یہ سب وقت کی قدر کرنے اور اسے اپنے کام میں لانے ہی کی بدولت ہے

خالد یزدانی
وقت ایک گراں مایہ دولت ہے اور یہ دولت تقاضا کرتی ہے کہ اسے ضائع نہ کیا جائے۔ کیونکہ اگر انسان کی سستی یا بے پروائی سے وقت ہاتھ سے نکل گیا تو یہ واپس نہیں آتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ کامیابی و کامرانی ہمیشہ انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو وقت شناس اور اس کے قدر دان ہوتے ہیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرنے اور خیالی پلاوٴ پکانے میں مگن رہنے والوں کے خیالوں کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی اور نہ وقت ان کے ہاتھ میں رہتا ہے فارسی کا مشہور مقولہ ہے وقت ازدست رفتہ و تیز از کمان جستہ بازینا ید۔

یعنی ہاتھ سے گیا وقت اور کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آتا اور اور بنی آخرالزمان، نے بھی وقت کی اہمیت پر فرمایا، دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، وقت اورصحت (صحیح البخاری)
عربی کے معروف عالم ڈاکٹر یوسف القرضاوی ” نے ،الوقت فی حیاة المسلم“ میں قرآن و سنت کی روشنی میں وقت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ میں وقت اور مسلمان کی زندگی میں اسکی قدرو قیمت کے عنوان سے اخبارات میں لکھ رہا تھا کہ دوران مطالعہ میں نے د یکھا کہ قرون اولیٰ کے مسلمان اپنے اوقات کے سلسلے میں اتنے حریص تھے کہ ان کی یہ حرص ان کے بعد کے لوگوں کی درہم و دینار کی حرص سے بھی بڑھی ہوئی تھی حرص کے سبب ان کے لئے علم نافع، عمل صالح، جہاد اور فتح مبین کا حصول ممکن ہوا اور اس کے نتیجے میں وہ تہذیب وجود میں آئی جس کی جڑیں انتہائی گہری ہیں۔
پھر میں آج کی دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہوئے دیکھ رہا ہوں کہ وہ کس طرح اپنے اوقات کو ضائع کر رہے ہیں۔ حالانکہ ایک دن وہ بھی تھا کہ زمام کار ان کے ہاتھ میں تھی۔ اسلامی فرائض و آداب وقت کی قدرو قیمت اور اسکی اہمیت کو اپنے ہر مرحلے میں بلکہ ہرجزو میں بھر پور طریقے سے واضع کرتے ہیں اور انسان کے اندر کائنات کی گروش اور شب و روز کی آمد ورفت کے ساتھ وقت کی اہمیت کا احساس اور شعور بیدار کرتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ وقت برق رفتار ہوتاہے اور گزرا ہوا وقت پھر واپس نہیں آتا اور نہ ہی اس کاکوئی بدل ہوتا ہے اس لئے یہ انسان کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ اور اسکی قدرو قیمت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ہر عمل اور نتیجہ کیلئے وقت درکار ہے بلکہ انفرادی اور اجتماعی دونوں حیثیت میں انسان کا حقیقی سرمایہ وقت ہی ہے۔
بقول حسن البناء شہید ”وقت ہی زندگی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان کی زندگی اس وقت سے عبارت ہے جسے وہ پیدائش کی گھڑی سے لے کر آخری سانس تک گزارتا ہے۔
جب وقت کی اتنی زیادہ اہمیت ہے یہاں تک کہ وقت ہی کو زندگی سے تعبیر کیا گیا ہے تو ایک مسلمان پر وقت کے اعتبار سے بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اس لئے اسے چاہئے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو سمجھے اور ہمیشہ انہیں پیش نظر رکھے اور علم و ادراک کے دائرے سے آگے بڑھ کر انہیں عملی جامع پہنانے کی کوشش کرے۔
ہمارے اسلاف کرام نے علمی و عملی زندگیوں میں جو عالی مقام حاصل کیا اورمیدان میں منوایا یہ سب وقت کی قدر کرنے اور اسے اپنے کام میں لانے ہی کی بدولت ہے۔
ان کی عالی ہمت اور جذبہ و شوق کا اندازہ ان کی عملی خدمات سے لگایا جاسکتا ہے۔ کہ ان کی نظر میں وقت کی کتنی اہمیت تھی۔ آج کی ترقی یافتہ اور تیز رفتار دور میں دیکھنے میں آیا کہ عموماً لوگ وقت کی قدرو قیمت نہیں پہچانتے شاید انہیں معلوم ہیں کہ انسان کے لئے ہاتھ میں اصلی دولت وقت ہی ہے جس نے وقت ضائع کردیا، اس نے سب کچھ ضائع کردیا۔
آج ہماری زندگی میں آلات جدیدہ میں کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائل اور ٹیلی ویڑن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔
اور یہ بہت مفید چیزیں ہیں دیکھا جائے تو ان کے صحیح استعمال سے بہت سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں وہاں ان کا غیر ضروری استعمال بہت سا قیمتی وقت ضائع کرنے کا سبب بھی بنتا ہے ان کو ضرورت کی حد تک ہی استعمال کرنا چاہئے ہر وقت انہی میں مگن رہ کر اپنا قیمتی وقت برباد نہیں کرنا چاہئے۔
ہمارے اسلاف بھی وقت کی اہمیت کو سمجھتے اور اسکی قدر کرتے تھے ابن تیمیہ کے متعلق ابن رجب ذکر کرتے ہیں۔ ”آپ اپنی زندگی کا کوئی بھی وقت ضائع نہ ہونے دیتے اور وقت کی اہمیت کے پیش نظر جب کسی کام میں مشغول بھی ہوتے تو شاگردوں میں سے کسی کو فرماتے کہ اس دوران تم اونچی آواز سے کتاب پڑھتے رہنا تاکہ سنتا رہوں اور یہ وقت برباد نہ ہو۔
وقت اشاعت : 2015-04-25

(1) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں