بند کریں
اتوار مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اُردو سوشل میڈیا سمٹ 2015
اگر رسم الخط سے رشتہ ٹوٹا تو پھر ہماری تاریخ و تہذیب، ہمارے علمی ورثے، ہمارے ادب، ہمارے مذہب غرض یہ کہ موجودہ نسل کا اپنے ماضی سے رشتہ مکمل طور پر ٹوٹ جائے گا، شرکا
اردو سورس کے زیرِ اہتمام شعبۂ ابلاغِ عامہ، جامعہ کراچی کے اشتراک سے پہلی بین الاقوامی اردو سوشل میڈیا سمٹ 2015 کا انعقاد 8 مئی بروز جمعہ، سلیم الزماں صدیقی آڈیٹوریم (ایچ ای جے، جامعہ کراچی) میں کیا گیا۔ سمٹ میں شرکت کے لیے پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے اردو بلاگر اور سوشل میڈیا پر فعال افراد پروگرام سے قبل کراچی پہنچ چکے تھے جن کی رہائش کا انتظام اردو سورس کی جانب سے جامعہ کراچی ہی کے گیسٹ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔
اس سمٹ کو شاہی فوڈز کی جانب سے اسپانسر کیا گیا جبکہ ایکسپریس میڈیا گروپ نے بطور میڈیا پارٹنر حصہ ڈالا۔
سمٹ کا آغاز صبح ساڑھے دس بجے ہوا۔ تلاوت کلام پاک و نعت رسول مقبول (ص) کے بعد، اردو بلاگر عمار ابنِ ضیا نے اُردو سورس کی جانب سے تمام مہمانانِ گرامی اور شرکا کو خوش آمدید کہا۔ اس کے بعد معروف مقرر و خطیب، براڈکاسٹر اور شعبۂ ابلاغِ عامہ کے صدر نشیں جناب ڈاکٹر محمود غزنوی صاحب کو اظہارِ خیال کی دعوت دی۔

ڈاکٹر محمود غزنوی نے اپنے خطاب میں اُردو سوشل میڈیا سمٹ کے انعقاد پر منتظمین کو مبارک باد دیتے ہوئے اردو زبان کی اہمیت اور ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، زبان ہماری شخصیت سازی اور تہذیب کی صورت گری کرتی ہے اور انسان کو اپنی زبان کے ہر ہر لفظ سے نہ صرف جذباتی لگاؤ ہوتا ہے بلکہ قومی روایات اور تجربات ان میں پیوست ہوتے ہیں ۔
کسی قوم کی شناخت اس کی زبان بنتی ہے اور زبان سے رشتہ توڑنا کسی بھی قوم کو تباہی و بربادی کی طرف لاکھڑا کرتا ہے اور رسم الخط سے رشتہ ٹوٹنا اس کا پہلا قدم ہوسکتا ہے۔ اردو کی تاریخ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ کرۂ ارض میں بارہا تہذیبیں برپا ہوئی ہیں اور ان کی آمیزش سے سوائے اردو کے کوئی زبان جنم نہیں لے سکی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی یونیورسٹی کے اپریل 2015ء میں جاری ہونے والے سروے کے مطابق اردو کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے اور یہ ایشیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی دوسری زبان ہے۔

رومن طرز تحریر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر رسم الخط سے رشتہ ٹوٹا تو پھر ہماری تاریخ و تہذیب، ہمارے علمی ورثے، ہمارے ادب، ہمارے مذہب غرض یہ کہ موجودہ نسل کا اپنے ماضی سے رشتہ مکمل طور پر ٹوٹ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو اب ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوچکی ہے، اردو بلاگرز بھی یہاں موجود ہیں، اردو کا اتنا بڑا کام ہوچکا ہے تو پھر ہم اردو کو استعمال کیوں نہیں کرتے؟
ڈاکٹر غزنوی نے اُردو تحریر میں انگریزی الفاظ کے بے دریغ استعمال پر کہا کہ جب بھی کسی زبان کا لفظ دوسری زبان میں شامل ہوتا ہے تو صرف لفظ ہی شامل نہیں ہوتا، بلکہ اُس کا مکمل پس منظر اور ثقافت بھی ساتھ چلی آتی ہے۔
انہوں نے اشتہارات میں انگریزی الفاظ کا تڑکا لگانے اور اُردو کو رومن رسم الخط میں لکھنے پر شدید نکتہ چینی بھی کی۔
ڈاکٹر محمود غزنوی کے بعد، اظہارِ خیال کے لیے شاہی فوڈز کے چیئرمین جناب غیاث الدین صاحب تشریف لائے۔ آپ نے اردو زبان اور زبان کی سیاست پر پُر مغز تقریر کی۔ غیاث الدین صاحب نے کہا کہ زبان اور عقیدے کسی بھی انسان کی بہت بڑی شناخت ہوتے ہیں جن سے ہمارا عقلی اور جذباتی طور پر بہت گہرا لگاؤ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید نے کہا کہ کوئی زبان برتر اور کمتر نہیں ہوتی اور زبان کی بنیاد پر سیاست کرنا تعصب کو فروغ دیتا ہے؛ اس لیے صرف اُردو ہی نہیں، تمام قومی زبانوں کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس وقت انگریزی کو جو مقام دیا جاتا ہے درحقیقت وہ اردو کو ملنا چاہیے تھا کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ انگریزی کے مقابلے میں پاکستان کے طول و عرض میں اردو زیادہ بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
اس لیے اگر قوانین اردو میں، قانون کی کتابیں اردو میں ہوں، دفاتر میں اردو میں اندراج ہو، عدالت کی کاروائی اور فیصلے اردو میں لکھے جائیں، حکومت کی جانب سے عوام کو اطلاعات اردو میں بھیجی جائیں اور اس کے جواب اردو ہی میں وصول کیے جائیں تو ایک عام آدمی کی زندگی بہت زیادہ آسان ہوجائے گی۔ انہوں نے اہل اردو اور دیگر قومی زبانیں بولنے والوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ ہرگز اپنی زبان کو سیاسی استحصال کی نظر نہ کریں۔
اگر آپ کو اپنی زبان سے محبت ہے، اس کے لیے کام کریں، اس میں لکھنے پڑھنے والوں کو آگے بڑھائیں اور اس کے مواد میں اضافہ کریں۔ انہوں نے ذاتی تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ اب تک جتنے بھی ڈرائیور حضرات میں نے رکھے ان میں سے کوئی ہائی وے ایکٹ یا ٹریفک کے قواعد، جو انگریزی میں ہیں، نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اردو سورس کے بانی عامر رفیق اور ان کے ساتھی لائق تحسین ہیں کیونکہ وہ زبان کی سیاست میں الجھے بغیر اور زبان کے تعصبات سے بالاتر ہو کر قدم اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اردو سورس کا ساتھ دینے والے بڑھتے رہیں گے۔
بعد ازاں، اُردو پوائنٹ کی نمائندہ فوزیہ بھٹی نے اُردو کی معروف اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ویب سائٹ، اُردو پوائنٹ کا تعارف، اس کی ابتدا و ارتقا کے مراحل اوردیگر دلچسپ اعداد و شمار پیش کیے۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری، منظور حمید آرائیں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو لشکری زبان ہے اور یہ لوگوں میں تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اپنی پیدائش سے لے کر آج تک اردو نے تعلق پیدا کیا ہےمگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اس زبان کو وجہ تنازع بنا لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے دانشور اور سیاسی لیڈر اس زبان کو تعلق جوڑنے کا ذریعہ رکھتے تو شاید اس کی ترویج و اشاعت آج سے زیادہ بہتر ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی کہ دیگر زبانوں کے علوم کو اپنی زبان میں ترجمہ نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ ہم غالب یا میر تقی میر جیسے شعرا، ادیب یا رہنما نہیں پیدا کرسکے۔
ایک اور اہم مسئلہ کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے انگریزی کو تفاخر سمجھ لیا ہے یعنی جو شخص انگریزی بولتا، لکھتا یا سمجھتا ہے اس کی اعلی کلاس ہے۔
سوشل میڈیا اور اردو بلاگرز کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہ نوجوان نسل نے ویب سائٹس کے ذریعے سعادت حسن منٹو، پروین شاکر، جالب اور اردو کا وہ ذخیرہ پڑھنا شروع کردیا جو شاید وہ کتابوں میں نہیں پڑھ پا رہے تھے۔ سمٹ کے انعقاد پر انہوں نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے پروگرامات ہوتے رہنے چاہیں جن سے سوشل میڈیا میں اردو زبان کی ترویج مزید بہتر انداز سے ہوسکے۔

معروف دانشور، غازی صلاح الدین نے سبین محمود کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوشل میڈیا سے وابستہ ایک اہم شخصیت تھیں اس لیے ہمیں ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے کہ ان کے دفتر ٹی ٹو ایف (T2F) میں جتنے بھی پروگرام ہوتے تھے وہ سب اردو ہی میں ہوتے تھے۔ اردو کے حوالے سے انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں زبان کی بنیادی پر فوقیت کا مسئلہ ہے مثلاً اگر آپ کو انگریزی نہیں آتی تو اچھی نوکری نہیں ملے گی بوجود اس کے کہ گزشتہ تیس چالیس سالوں میں انگریزی کا معیار بھی بہت گر گیا ہے اس لیے اب ہمیں صحیح انگریزی بولنے والے بھی نہیں ملتے اور صحیح اردو بولنے والے بھی نہیں اس لیے میں کہتا ہوں کہ ہم بے زبان لوگ ہیں۔
غازی صاحب نے انگریزی کو سر کا تاج اور پاؤں کی زنجیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنی زبان اپنائے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔
تقریب کے ایک منفرد مہمان ایلن کیزلر تھے، جو امریکی ہونے کے باوجود پاکستان سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں اور شستہ اُردو بولتے ہیں۔ اُردو بلاگر محمد اسد اسلم نے سمٹ کے شرکا سے ایلن کیزلر کا تعارف کروایا اور ایلن سے اُن کی پاکستان سے محبت اور اردو زبان سے لگاؤ کے بارے میں سوالات کیے۔
اس دوران حاضرین حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات و احساسات میں، ایلن کی گفتگو سنتے رہے۔ ایلن نے بتایا کہ اُن کی پیدائش پاکستان کے قیام سے چند ہفتوں پہلے ہوئی اور انہوں نے انگریزی یا اردو زبان کے بجائے پنجابی کے لفظ 'ککڑ' سے بولنا شروع کیا۔ ایلن نے بتایا کہ انہوں پاکستان کے مختلف شہروں میں سفر کیا اور رہائش اختیار کی جن میں خانیوال، لاہور اور رائیونڈ بھی شامل ہے۔
انہوں نے امریکا سے پاکستان واپس آنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خاص ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور یہاں سے پوری دنیا میں سلامتی، امن پھیلے گا۔
سوشل میڈیا سے اپنا تعلق بیان کرتے ہوئے ایلن کیزلر نے بتایا کہ تین چار سال پہلے ایک پاکستانی لڑکے نے مجھے فیس بک پر ایک ویڈیو بھیجی اور یوں میرا فیس بک سے تعارف ہوا۔ اس کے بعد ریحان اللہ والا سے ملاقات ہوئی جس کے بعد میں نے فیس بک کے ذریعے اپنی ویڈیوز بنانا شروع کیں جن میں ملا نصرالدین کے سبق آموز کہانیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔

ایلن نے گفتگو کے اختتام پر پاکستان کے روشن اور تابناک مستقبل کے بارے میں اپنی اُمیدوں اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ایک گیت گنگنایا اور والہانہ رقص کرنے لگے، جس پر پورا ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔
اس کے بعد ریحان اللہ والا نے سوشل میڈیا کے بہتر استعمال کے حوالے سے گفتگو کی اور حاضرین کو اس کے زیادہ سے زیادہ مثبت استعمال کی تحریک دی۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ایک عام آدمی کو طاقت دی ہے کہ وہ اپنا پیغام دور دور تک پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا سے فاصلوں میں کمی آئی ہے، چاہے براک اوبامہ ہو، چاہے نواز شریف ہو یا عمران خان سب سے رابطے کے برابر مواقع موجود ہو گئے ہیں۔
دنیا کے دیگر ممالک میں اردو زبان کی تعلیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ دسیوں ممالک میں اردو کی تعلیم دی جاتی ہے اور یوں فیس بک کے استعمال سے بھی ہم باقی دنیا سے جڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہونے کے باوجود ہمارے ملک کا ہر شخص موبائل فون استعمال کرتا ہے جو جلد اسمارٹ فون پر آجائے گا، سوال یہ ہے کہ ہم مواد تخلیق کر رہے ہیں یا نہیں؟ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آس پاس موجود تمام لوگوں کو انٹرنیٹ سے منسلک کریں اور مثبت خبریں پھیلانا شروع کریں۔
نمازِ جمعہ اور ظہرانے کے وقفے سے قبل شعبۂ ابلاغِ عامہ جامعہ کراچی کے طلبا کی جانب سے حال ہی میں قتل کیے جانے والے پروفیسر وحید الرحمان کی یاد میں ایک پروگرام پیش کیا گیا۔

ظہرانے کا انتظام ایچ ای جے (جامعہ کراچی) کے کمرۂ طعام (ڈائننگ ہال) میں کیا گیا تھا۔ اس دوران سمٹ کے شرکا جن میں طلبا و طالبات کے علاوہ ملک بھر سے آنے والے بلاگرز اور سوشل میڈیا صارفین بھی تھے کو آپس میں مل کر بیٹھنے اور نئے لوگوں سے متعارف ہونے کا موقع ملا۔
ظہرانے کے بعد سمٹ کی اگلی نشست کا آغاز پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر، خورشید تنویر کی تقریر سے ہوا۔
آپ کے خطاب کا اہم ترین نکتہ وہ تھا جب آپ نے کہا کہ دنیا کی کوئی زبان کمتر یا افضل نہیں ہوتی۔ ہمیں بھائی چارگی اور محبت کے ساتھ دوسروں کی تہذیب، تمدن، زبان، ثقافت اور رہن سہن سے محبت کرنی چاہیے اور یہی انسانیت کے لیے آدرش ہے۔ دوسروں کی زبان کی عزت و تکریم کی صورت میں ہماری زبان کی بھی عزت ہوگی۔
بعد ازاں معروف کالم نگار اور محقق کاشف حفیظ صدیقی نے پریزینٹیشن کے ساتھ خطاب کیا۔
سب سے پہلے انہوں نے ظہرانے کے فوراً بعدتقریر کا شکوہ کیا، ان کا جملہ "ایک تو اپنا پیٹ بھرا ہوتا ہے، پھر دوسروں کے بھی پیٹ بھرے ہوتے ہیں"، اس جملے سے محفل میں مسکراہٹ کی صورت میں زندگی کی رمق دوڑ گئی۔ اردو شعراء کی شاعری پڑھنے کے بجائے ان کے گائے جانے کا شکوہ کرنے کے بعد کاشف حفیظ نے اپنی پریزنٹیشن سنبھالی۔ انہوں نے ایک سروے کا احوال بتایا کہ جو ان کے ادارے نے 2003ء، 2008ء اور 2013ء میں تین مختلف سالوں میں پاکستانی نوجوانوں بالخصوص طلباء میں کیا ۔
ان سوالات کی نوعیت میں تینوں سال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور رحجانات میں پیدا ہونے والی تبدیلی کا مشاہدہ کیا گیا۔ سروے کے بارے میں کاشف حفیظ نے بتایا کہ "جنریشن زیڈ" ڈیجیٹل عہد سے مانوس ہے، سہل پسند ہے، اپنی حفاظت کے بارے میں فکرمند اور حقائق سے فرار اختیار کرتی ہے۔ ان کی تقریر انہی چار نکات کو بیان کرنے میں گزری، جس میں انہوں نے 15 کلیدی اشاریے پیش کیے جنہوں نے دور جدید کے نوجوان کے رحجانات کو کھول کر بیان کیا۔
آخر میں انہوں نے اس امر کا شکوہ کیا کہ ہمارے معاشرے میں اب کوئی 'رول ماڈل' نہیں ہے۔ اس کے لیے انہوں نےنوجوانوں کی اردو ادب سے لاتعلقی اور اس کے پڑنے والے اثرات پر بھی چند باتیں کیں اور تالیوں کی گونج میں اپنے پروگرام کا خاتمہ کیا۔
بی بی سی اردو کے سربراہ اور مدیر عامر احمد خان نے اپنے ادارے کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال اور ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کے تیزی سے تبدیل ہوتے منظرنامے پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ وہ زمانے گزر گئے جب بی بی سی جیسے ادارے براڈکاسٹر ہوا کرتے تھے، سوشل میڈیا کے اس عہد میں اب ہر شخص براڈکاسٹر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیس بک پر بی بی سی کے 31 لاکھ اور ٹوئٹر پر ساڑھے تین لاکھ فالوورز ہیں۔ بی بی سی کا 20 فیصد ٹریفک فیس بک سے آتا ہے۔ عامر احمد خان نے مزید کہا کہ بی بی سی ریڈیو، ٹی وی اور ویب سائٹ کے بعد سوشل میڈیا کو اپنا چوتھا میدان سمجھتا ہے اور اس چوتھے میدان کے لیے ہم الگ حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
آئندہ دنوں میں سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جسے ہم سب کو بہت سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ کیونکہ جس طرح گزشتہ سالوں میں 'سیلفی' جیسا نیا لفظ سامنے آیا ہے، اس طرح آئندہ چند سالوں میں کئی نئے الفاظ میں انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی داخل ہوں گے، اور آپ ان نئے الفاظ کا سوشل میڈیا پر جیسی استعمال کریں گے، اردو کے ارتقائی عمل کی سمت ویسی ہی متعین ہوگی۔
اس لیے مستقبل قریب میں سوشل میڈیا پر اردو کا استعمال بہت اہمیت رکھتا ہے ، یہ محض محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ رابطے کا ٹول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے مستقبل کے حوالے سے جو خدشات ہیں، وہ جلد ہی چھٹ جائیں گے کیونکہ اب اس کی بقاء ہمارے ہاتھ میں ہے، ہم جس طرح اردو کو استعمال کریں گے، اس کی راہ ویسے ہی متعین ہوگی۔
اردو سوشل میڈیا سمٹ 2015ء کے دوسرے سیشن کا اہم ترین اجلاس وہ مذاکرہ تھا جس میں روایتی اور سوشل میڈیا سے وابستہ اہم شخصیات شریک تھے۔
ایک جانب بی بی سی سے وابستہ وسعت اللہ خان تھے، تو دوسری جانب جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ محمود احمد غزنوی، فیس بک پر مشہور لکھاری رعایت اللہ فاروقی، اے آر وائی سے وابستہ لیکن سوشل میڈیا پر بھی یکساں شہرت رکھنے والے فیض اللہ خان اور سماء نیوز سے بطور اینکر وابستہ اردو بلاگر فیصل کریم۔ اس سیشن کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس کی میزبانی اسلام آباد سے خصوصی طور پر آئے ہوئے اردو بلاگر مہتاب عزیز نے کی۔
جنہوں نے اپنے سوالات کا رخ سب سے پہلے وسعت اللہ خان کی جانب کیا، جن کا کہنا تھا کہ سونا بھی اگر خالص ہو تو اس سے زیور نہیں بنتا، اس میں کچھ کھوٹ ملانا پڑتا ہے، اس لیے خالص معلومات تو بہت خشک ہوتی ہے، اس کی مثال ابلے ہوئے چاولوں جیسی ہے جو زیادہ عرصے تک نہیں کھائے جا سکتے، ان میں بھی مصالحہ ضروری ہے۔ اس لیے ہمیں خالص اور کھوٹی خبروں سے آگے نکل جانا چاہیے۔
اس وقت روایتی میڈیا ایک انڈسٹری یعنی صنعت بن چکا ہے، جس طرح کارخانوں میں صابن بنتا ہے اور وہ مارکیٹ میں بیچا جاتا ہے، اس طرح اب خبریں بنانے اور فروخت کرنے کا کام ہو رہا ہے۔ خاندانی صحافیوں کا دورہ اب ختم ہوچکا ہے، اب جس کے پاس پیسہ ہے، جسے طاقت چاہیے، وہ اس کاروبار میں آ رہا ہے۔ سونا بیچنے والے بھی اس کاروبار میں شامل ہوگئے ہیں اور تمباکو بیچنے والے بھی۔
اب یہ ایک منافع بخش صنعت ہے، کوئی مقدس گائے نہیں رہی۔ اب یہ ایک دکان ہے، جس میں ہم کام کرنے والوں کی حیثیت محض کارکنوں اور کارندوں کی سی ہے۔ محمود غزنوی نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اب ذرائع ابلاغ منافع اور مارجن حاصل کرنے کی صنعت ہیں۔ ہم آفاقی سچائی اور صحافت کے نظریات کے پڑھاتے ہیں، ہم وہ پڑھاتے ہیں جو ہونا چاہیے، لیکن نوجوان چاہتے ہیں انہیں وہ پڑھایا جائے جو ہو رہا ہے، جو ہمارے لیے ممکن نہیں۔
جب طالب علم حقیقی میدان میں اترتا ہے تو اس کی مثال "نیلی چڑیا" جیسی ہوتی ہے جسے اس کے قبیلے والے بھی نہیں پہچانتے۔
رعایت اللہ فاروقی نے روایتی میڈیا میں سنسر کی پابندی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ 25 سال تک وہ صحافت میں اس اذیت کا نشانہ بنتے رہے کہ جو وہ حقیقت میں عوام تک پہنچانا چاہتے تھے، وہ نہیں پہنچتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میری 25 سالہ صحافت کے مقابلے میں سوشل میڈیا کا ایک سال کئی گنا زیادہ باثمر ہے۔
انہوں نے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد تک اپنی رائے بعینہ اسی طرح پہنچائی، جیسے وہ چا ہتے تھے۔
فیض اللہ خان نے کہا کہ صحافت شاید ہماری پیدائش سے بھی پہلے کی بات ہو اب تو چینل کی ایک لگی لپٹی پالیسی ہے، جس پر اِدھر سے اُدھر نہیں ہوا جاسکتا، اس کی سختی کے ساتھ پیروی کرنا پڑتی ہے۔ اس کے بعد جو ہمارے دل کی بھڑاس رہ جاتی ہے، وہ نکالنے کے لیے سوشل میڈیا ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم سچ لکھتے ہیں۔
چینلوں میں کام کرنے والے اکثر افراد محض نوکری کررہے ہیں،حدیں مقرر ہیں جہاں سب کے پر جلتے ہیں۔
فیصل کریم نے روایتی میڈیا پر اردو املاء کی اغلاط،خبریں نشر کرنے کے غیر پیشہ ورانہ انداز اورحقیقی اہلیت رکھنے والے افراد کے بجائے ظاہری حلیے کی بنیاد پر افراد کے انتخاب کا شکوہ کیا۔ انہوں نے ماضی کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب خبریں پیش کرنے میں نہ وہ پیشہ ورانہ انداز ہے، نہ ہی وہ لگن اور محنت دکھائی دیتی ہے۔
حالانکہ ماضی کے مقابلے میں اب کئی سہولیات بھی موجود ہیں۔
وسعت اللہ خان سے جب دوبارہ سوال کیا گیا تو انہوں نے سچ لکھنے کے خطرات کے حوالے سے سوال پر جواب دیا اور کہا کہ خوف بہرحال انسانی جبلت ہے، وہ تو رہتا ہے لیکن جو حالات ہیں ان میں ایک رویہ تو یہ ہے کہ دبک کر بیٹھ جائیں، دوسرا ردعمل یہ ہے کہ بیٹھ کر بھی کیا کرلیں گے، جس نے مارنا ہوگا مار دے گا، تو وہ کریں جو دل چاہتا ہے۔
سوشل میڈیا کے بارے میں اگر یہ تاثر ہے کہ یہ بے ضرر ہے، یہ اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ کسی ٹیلی وژن چینل کا کوئی پروگرام یا اخباری کالم ہے۔ ان دونوں مقامات پر تو آپ سنسر ہوجاتے ہیں لیکن آپ کتنے عقلمند ہیں یا کتنے جاہل ہیں، یہ سوشل میڈیا پر آئینے کی طرح شفاف ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم من حیث القوم طنز، مزاج، سنجیدہ اور غیر سنجیدہ بات میں تمیز کھو بیٹھے ہیں۔
اردو زبان کے درجے سے گھٹ کر بولی کے درجے پر آ گئی ہے، اب ہم اردو پڑھ کر نہیں بلکہ سن کر سیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے لیے پہلی ترجیح ابلاغ ہے، اگر گھٹیازبان کے ساتھ بھی ابلاغ ہو رہا ہے تو کسے ضرورت ہے کہ زبان و بیان کو درست کرے؟ معمولی تنخواہوں پر ملازمین کو رکھنے کے بعد ان سے مولوی عبد الحق بننے کی توقع رکھنا بیکار ہے۔
یہ سیشن تقریباً 46 منٹ تک جاری رہا، طوالت کے لحاظ سے یہ سوشل میڈیا سمٹ کا سب سے طویل سیشن تھا لیکن جتنی دلچسپی اس مذاکرے میں دکھائی دی، اتنی دن بھر میں کم ہی پروگراموں کو نصیب ہوئی۔
سمٹ کا آخری خطاب معروف بین الاقوامی دانشور اور آئی بی اے کراچی کے پروفیسر نعمان الحق نے کیا۔ آپ نے اردو کے دامن کو تیزی سے سکڑنے کا شکوہ کیا۔ اعراب کی معمولی تبدیلی سے مختلف معانی دینے والے الفاظ کی نشاندہی کی اور ان کے عدم استعمال سے پیدا ہونے والے خلاء کے بارے میں بات کی۔
انہوں نے کہا کہ پڑھ کے لکھنے اور بولنے اور سن کر لکھنے اور بولنے میں بہت فرق ہے۔ ہمارے ہاں پڑھنے کا کلچر مفقود ہے، سننے یا سنانے کی روایت مضبوط ہے یہی وجہ ہے کہ اردو تنزلی کا شکار ہے۔
اس کے بعد دن کے آخری اور اہم ترین سیشن کا آغاز ہوا یعنی اردو سورس سوشل میڈیا ایوارڈز کہ جن میں بہترین اردو بلاگر، بہترین فیس بک پیج اور بہترین ٹوئٹر صارف کے لیے تین خوبصورت اعزازات موجود تھے۔

یہ اعزازات دینے کے لیے اردو سورس کی مرکزی ٹیم عامر ملک، اسد اسلم، کاشف نصیر اور فہد کیہر کے ساتھ وسعت اللہ خان اور محمود احمد غزنوی اسٹیج پر موجود تھے۔ سب سے پہلے بہترین فیس بک صفحے کا اعزاز "طفلی" نے حاصل کیا۔ بچوں کی تربیت کے لیے والدین کے لیے بنایا گیا یہ صفحہ اپنے مخصوص انداز اور معلوماتی اردو مواد کی وجہ سے خاصی شہرت اور ساکھ رکھتا ہے۔
طفلی کی جانب سے عاطف بقائی نے وسعت اللہ خان سے اعزاز حاصل کیا۔
ان کے بعد ٹوئٹر پر اردو کے بہترین استعمال پر اعزاز محسن حجازی کے نام ہوا۔ محسن حجازی گزشتہ کئی سالوں نے انٹرنیٹ پر اردو کی محافل و مجالس سے منسلک رہے ہیں اور ان کا پہلا کارنامہ پاک نستعلیق نامی فونٹ بنانے کا تھا، جس نے ایک کارآمد و قابل استعمال نستعلیق فونٹ کی جانب پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا۔
بیرون ملک مقیم محسن حجازی کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ اعزاز فہد کیہر نے وسعت اللہ خان سے وصول کیا۔
اس کے بعد بہترین اردو بلاگ کے اہم ترین اعزاز کے لیے "جریدہ" لکھنے والے ریاض شاہد کی نام کی صدا سنائی دی۔ آپ نے 2009ء میں اردو بلاگنگ کے میدان میں قدم رکھا اور گزشتہ تقریباً چھ سالوں میں تاریخ، سیاست، فلسفہ، ادب اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف موضوعات پر بہت عمدہ تحاریر لکھیں جو علم کے نئے دروازے وا کرتی ہیں۔ ریاض شاہد کی عدم موجودگی میں یہ اعزاز ملتان سے تعلق رکھنے والے اردو بلاگر وجدان عالم نے ڈاکٹر محمود غزنوی سے حاصل کیا۔
پروگرام کا خاتمہ معزز مہمانوں اور شرکاء کے شکریے اور عصرانے کے ساتھ ہوا۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-16

(1) ووٹ وصول ہوئے