تازہ ترین : 1
Ubhartay Aalmi Tanazaat Main Pakistan Ka Kirdaar

ابھرتے عالمی تنازعات میں پاکستان کا کردار!

سعودی عرب میں شیعہ عالم دین نمرالنمرکو سزائے موت دیئے جانے سے جہاں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں وہاں اس صورت حال نے پاکستان کے لیے بھی خاصی مشکل صورت حال پیدا کر دی ہے اب تک صرف سعودی عرب نے ہی ایران سے سفارتی تعلقات منقطع نہیں کئے بلکہ بحرین، سودان اور سعودی عرب کے زیر اثر دیگر ممالک نے بھی سفارتی تعلقات ختم کر دیئے ہیں

نواز رضا:
سعودی عرب میں شیعہ عالم دین نمرالنمرکو سزائے موت دیئے جانے سے جہاں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں وہاں اس صورت حال نے پاکستان کے لیے بھی خاصی مشکل صورت حال پیدا کر دی ہے اب تک صرف سعودی عرب نے ہی ایران سے سفارتی تعلقات منقطع نہیں کئے بلکہ بحرین، سودان اور سعودی عرب کے زیر اثر دیگر ممالک نے بھی سفارتی تعلقات ختم کر دیئے ہیں جب کہ متحدہ عرب امارات نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے سعودی عرب میں ایک ہی روز شیخ نمرالمنر سمیت 47 افراد کا دہشت گردی میں ملوث ہونے پر سر قلم کرنا غیر معمولی نوعیت کا واقعہ ہے سعودی عرب نے تہران میں سعودی سفار خانہ پر حملہ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے پاکستان پر اثرات مرتب ہوں گے سعودی عرب اور ایران کے تنازعہ کی بازگشت پارلیمنٹ میں بھی سنی گئی ہے ۔
اپوزیشن نے اس بارے میں ”خاموشی“ پر حکومت کو آرے ہاتھوں لیا ہیجس کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کو پارلیمنٹ میں پالیسی بیان دینا پڑا۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی سے پاکستان میں بھی ان کے حامیوں کے درمیان تناوٴ کی کیفیت پیدا ہونا فطری امر ہے پاکستان میں شیعہ تنظیموں نے شیخ نمرالنمر کی سزائے موت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے جبکہ سعودی عرب کے حامی عناصر بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔
شیخ نمر کو 2014 میں بغاوت اور دیگر جرائم میں سزائے موت سنائی گی تھی جس پر عمل درآمد پر امریکہ نے خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہونے کے خدشات کا اظہار کیا تھا سعودی عرب اور ایران کے درمیان کئی سالوں کے بعد سفارتی تعلقات بحال ہوئے تھے لیکن ایک بار پھر دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہو گے ہیں دراصل شام کی صورت حال سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بی ہے۔
یمن کی صورت حال نے بھی ایران کو سعودی عرب کے مقابل لاکھڑا کر دیا تھا۔ سعودی عرب پاکستان کو یمن کے خلاف ”لشکر کشی“ میں اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتا تھا جبکہ پاکستان نے اپنی داخلی صورت حال کے پیش نظر اس اتحاد میں شامل ہونے سے گریز کیا تھا۔ مگراب پاکستان دہشت گردی کے خلاف 34 ملکی اتحاد میں پاکستان شامل ہو چکا ہے ۔ اس بات کا قوی امکان ہے پاکستان اپنا وزن کسی فریق کے حق میں ڈالنے کی بجائے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
اس لیے پاکستان سعودی عرب کی طرف جھکاوٴ ہونے کے باوجود دونوں ملکوں کو قریب تر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی کے ایوان میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدہ صورت حال پر پالیسی بیان دیا ہے۔سرتاج عزیز کا شمار پاکستان کے خارجہ امور کے سینئر ترین ماہرین میں ہوتا ہے انہوں نے ایوان میں انتہائی محتاط انداز میں بیان جاری کیا ہے لیکن اپوزیشن ان کے بیان سے مطمئن دکھائی نہیں دیتی تھی وہ ان سے جو کچھ سننا چاہتی تھی شاید وہ اسے سنانا نہیں چاہتے سید خورشید شاہ سرتاج عزیز کے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدہ صورت حال کے بارے میں دئیے گے پالیسی بیان پر بحث کرنا چاہتے تھے لیکن قائم مقام سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کو قومی اسمبلی کے قاعدہ 289 کے تحت بحث کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
جس پر سید خورشید شاہ نے احتجاج کی دھمکی دے کر قائم مقام سپیکر کو بحث کی اجازت دینے پر مجبور کر دیا۔ سید خورشید شاہ نے سرتاج عزیز کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”اخباروں میں چھپا بیان سرتاج عزیز کو لکھ کر دے دیا گیا جو انہوں نے پڑھ کر سنا دیا ہے ہمیں صرف یہ بتایا جائے ک دونوں ملکوں کے درمیان بحران پر پاکستان کاکیا کردار ہے؟ سری لنکا کا دورہ اہم نہیں بلکہ اس وقت جنگ کا خدشہ ہے کہیں یہاں بھی میدان جنگ نہ بن جائے اگر وزیراعظم سری لنکا کی بجائے ایران یا سعودی عرب کا دورہ کرتے تو کتنا اچھا ہوتا۔
ایوان کو ان کیمرہ بریفینگ دے کر اعتماد میں لیا جائے تاکہ ہمیں معلوم ہو کر حکومت کو کن مسائل کا سامنا ہے؟ اگر سرتاج عزیز نے ایسا بیان ہی ایوان میں پیش کرنا تھا تو اس سے بہتر تھا کہ وہ تشریف نہ لاتے کیونکہ ان کا بیان کمزور پاکستان کی عکاسی کر رہا ہے۔ انہوں نے سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد پالیسی بیان دینے پر بھی اعتراض کیا ہے البتہ سرتاج عزیز نے ایشو پر ان کیمرہ بریفنگ دینے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے مسلم لیگ (ق) کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے بھی کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی موجودہ صورتحال میں مسلم امہ کے مفاد میں نہیں ہے۔
امت مسلمہ اس وقت ایک بحران کی حالت میں ہے اور ایسے وقت میں دو مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی ساری امت میں بے چینی بڑھانے کا سبب بن گی ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے تجویز پیش کی ہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف سعودی عرب ، ایران کے مابین کشیدگی ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور اس سلسلہ میں فوراََ آل پارٹیز کانفرنس منعقد کر کے متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے۔
اب دیکھنا یہ ہے وفاقی حکومت ان کی تجویز پر کس حد تک عمل درآمد کرتی ہے فی الحال اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے مغربی روٹ کو اپوزیشن کی بعض جماعتوں کی جانب سے ایک بار پھر متنازعہ بنانے کی کوشش سے وفاقی حکومت پریشان کن صورت حال سے دوچار ہو گئی ہے۔ژوب میں سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو مدعونہ کرنے پر انہوں نے مغربی روٹ کے خلاف خیبر پختو نخوا کی سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے وفاقی حکومت کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی ہے۔
جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان اور خیبر پختونخوا کے وزیر مغربی روٹ کے ایشو پر ایک ”صفحہ“ پر نظر آتے ہیں جبکہ ژوب میں مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم محمد نواز شریف کے ہمراہ مغربی روٹ کے دو سیکشنوں کاسنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کی اور اپنی تقریر میں مغربی روٹ کے بارے میں کسی شک و شبہ کا اظہار نہیں کیا بلکہ ہوائی جہاز میں سفر کے دوران وزیراعظم سے براہمہ جھنگ باہتر سے ڈیرہ اسماعیل خان تک 6 رویہ موڑوے بنانے کا مطالبہ بھی منوایا لیا۔
وزیراعظیم نے انہیں 6 رویہ موٹروے کے لیے زمین حاصل کرنے کی یقین دہانی بھی کرادی تاہم کہا کہ فی الحال 4رویہ ایکسپریس وے تعمیر کیا جائے گی بعد ازاں اس کو 6رویہ کر دیا جائے گا۔ لیکن اب خیبر پختو نخوا کی جماعتوں نے مغربی روٹ تعمیر ہونے سے قبل ہی مطالبات کی طویل فہرست وفاقی حکومت کو تھما دی ہے۔ مولانا فضل الرحان بھی تحریک انصاف کے ہمنوا بن گئے ہیں۔
پرویز خٹک نے عجب بات کہی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ سڑکوں کا نام نہیں وہ یہ سڑکیں تو خود بھی تعمیر کر سکتے ہیں انہیں ان سڑکوں کی ایشائی ترقیاتی بنک کی طرف سے فراہم کر دہ فنڈز تعمیر پر بھی اعتراض ہے وہ ژوب میں سڑکوں کی اپ گریڈیشن کو مغربی روٹ ہی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کی ہدایت پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال مغربی روٹ پر خیبر پختونخوا حکومت کے شکوک شبہات دور کرنے کے لیے پشاور گے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے ک و پاک چین اقتصادی راہداری کو منصوبہ کو متنازعہ بنانے والوں کے تحفظات کس حد تک دور کرتے ہیں سوال کا بھی جلد جواب مل جائے گا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سفند یار والی نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کے دوران مغربی روٹ کو دو دریہ کی بجائے 4رویہ بنانے کا مطالبہ منوالیا تو ان کے تمام اعتراضات دور ہو گئے اب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے وفاقی حکومت سے عجیب مطالبہ کر دیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے مشرقی روٹ پر شروع کئے گئے تمام منصوبے اُس وقت تک روک دئیے جائیں جب تک خیبر پختونخوا حکومت کے تحفظات دور نہیں کئے جاتے۔
اس منصوبے سے متعلق تمام حقائق کو منظر عام پر لایا جائے، وزیراوعلیٰ انہیں وزیراعظم کے کسی دورہ چین یا چینی حکام کے ساتھ اس سلسلے میں ہونے والی با ت چیت میں شامل نہیں کیا گیا۔ جبک پنجاب کے وزیراعلیٰ پنجاب کو تمام پیش رفت سے آگاہ رکھا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہزارہ میں اقتصادی راہداری کے سلسلے میں سڑک کی تعمیر کا جو منصوبہ شامل کیا گیا ہے اس میں بھی ایل این جی، بجلی کی پیداوار، گیس پائپ لائن، اور اکنامک فائبر، انڈسٹریل پارکس، ریلوے لائن اور اکنامک زون جیسے وہ منصوبے شامل نہیں ہیں جو پنجاب سے گزرنے والے مشرقی روٹ میں شامل کئے گئے ہیں۔
پروفیسر احسن اقبال جو اس منصوبہ پر پورا عبور رکھتے ہیں نے قومی اسمبلی کے ایوان میں اپنے خطاب میں کھل کر کہا ہے کہ ”بعض عناصر اقتصادی راہداری کو متنازعہ بنا کر گیم چینجر منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ نام نہاد این جی اوز کی جانب سے اہم منصوبے کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا چین توانائی کے شعبے میں 38 ارب ڈالر سرمایہ کاری کر رہا ہے جس سے پاکستان میں توانائی بحران ختم ہوگا چین کی حکومت نے 46 ارب ڈالر سے پاکستان کی جیب میں نہیں ڈال دئیے بلکہ 38 ارب ڈالر کے توانائی کے منصوبے آئی پیز کے توسط سے لگائے جا رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے وفاق حکومت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کو متنازعہ بنانے کی کوششوں کو کس طرح غیر موثر بناتی ہے اس بارے میں جلد حکومت کی حکمت عملی سامنے آجائے گی۔
وقت اشاعت : 2016-01-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں