تازہ ترین : 1
Trump ke Muslim Mumalik ko Dhamki

ٹرمپ کی مسلم ممالک کو دھمکی

اسرائیلی فوج کی فلسطین بچوں بوڑھوں پر فائرنگ۔ ہم امریکہ کو دکھا دئے گے کہ وہ بین الاقوامی سطح پہ تنہا ہے۔فلسطینی وزیر خارجہ۔ محمود عباس یروشیلم سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کے خلاف مسلم دنیا کو متحد کرنا چاہتے ہیں۔

رمضان اصغر:
امریکی دھمکیوں کے باوجوداقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کیخلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی گئی امریکہ کے خلاف قرارداد پاکستان مصر،یمن اور عراق نے پیش کی قرار داد کے حق میں 128 جبکہ مخالفت میں صرف 8 ووٹ آئے۔جبکہ35 ارکان غیر حاضر 21 اجلاس میں موجود ہونے کے باوجود لاتعلق رہے اور وو ٹ نہ ڈالا برطانیہ،جاپان،فرانس،جرمنی،روس اور چین نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا جبکہ اسٹریلیا اور کینیڈا کے مندب اجلاس میں نہ آئے غیر حاضر ممالک میں ارجنٹینا،چیک ریپبلک،کروشیا ،ہنگری،لٹویا،میکسیکو،فلپائن،رومانیا،اور روانڈا بھی شامل ہے یوکرائن جس نے سکیورٹی کونسل میں امریکہ کی حمایت کی تھی نہ بھی ووٹ نہ ڈالا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے منظور کردہ قراردار میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے قرار دار کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی حیثیت کے بارے میں جو فیصلہ باطل اور کالعدم ہے اس لئے منسوخ کیا جائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ مذکورہ قرارداد کے حق میں رائے دینے والوں کو مالی امداد بند کردی جائے گی پاکستان مندوب ملیحہ لودھی نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا کہ جنرل اسمبلی میں تقریباً ایک تہائی ممالک نے امریکہ کیخلاف ووٹ دیا ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو دنیا کی پارلیمنٹ کہا جاتا ہے اگر دنیا کی پارلیمنٹ میں امریکہ کیخلاف ووٹ پڑا ہے تو یہ امریکہ کیلئے ٹھوس پیغام ہے امریکہ اگر دنیا کے ممالک کو امداد دیتا ہے تو مفت نہیں دیتا بلکہ اپنے مفادات حاصل کرتا ہے فلسطین کے حقوق میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا اور دیگر ممالک کا اصولی فیصلہ ہے پاکستان نہ پیسوں کا بھوکا ہے اور نہ دھمکیوں سے ڈرتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ وہاں سے منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ امریکہ اقوام متحدہ کا سب سے بڑا کنٹری بیوٹر ہے اقوام متحدہ کے لیے مخلصانہ کام کرتے ہیں اقوام متحدہ کو بھی امریکی فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ امریکی فیصلہ 1995 ء میں بننے والے قانون کے تحت کیا گیا فیصلے سے امن کوششوں کو نقصان کا خطرہ نہیں امریکی سفارتخانہ کی جگہ منتخب کرنا ہمارا جائز حق ہے بہت سے ممالک نے ہماری امداد اور اثرورشوخ سے فائدہ اٹھایا ہے امریکہ اپنے سفارتخانہ یروشلم میں منتخب کرے گا اقوام متحدہ کی ووٹنگ سے امریکی فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑئے گا آزاد ملک کی حیثیت سے امریکہ اپنا سفاتخانہ کہیں بھی قائم کرسکتا ہے جنرل اسمبلی میں یمن کے مستقل مندوب نے بیت المقدس کے معاملے پر امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد پیش کی فلسطین وزیر خارجہ ریاض المالکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل میں امریکہ نے قرارداد ویٹو کردی تھی 15 میں سے 14 ارکان نے قرارداد کی حمایت کی تھی ٹرمپ کے فیصلے کے بعد بھی امریکہ ثالث کی حیثیت کھوچکا ہے امریکہ کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں فلسطین کا مسئلہ حل کرنا تمام ممالک کی ذمہ داری ہے المقدس مشرق وسطیٰ میں امن اور جنگ کی کنجی ہے المقدس سے متعلق قرارداد کا مقصد اس کی قانونی حیثیت کا تحفظ ہے قرارداد امریکہ کے خلاف اعلان دشمنی نہیں انہوں نے کہا کہ متنازعہ امریکی فیصلے نے مذہبی جذبات کو بھڑکایا ۔
امریکی فیصلے نے اسرائیل کو فائدہ پہنچایا ہے عالمی برادری نے المقدس پر فلسطین کاحق تسلیم کیا۔یہ ہماری فتح ہے امن کیلئے کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔آج کے اجلاس سے غیر قانونی فیصلے کیخلاف واضح پیغام جائیگا ہم فلسطین اور ان کے جائز مطالبات کے حق میں ہے امریکہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ دنیا برائے فروخت نہیں۔
بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے کو رد کرتے ہیں فلسطینیوں سے آزادی کا حق نہیں چھینا جاسکتا سکیورٹی کونسل میں قرارداد کو ویٹو کرنا امریکہ کی بڑی غلطی تھی فلسطینیوں کی جدوجہد کی حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے اقوام متحدہ فلسطین کے لوگوں کی آخری امید ہے اقوام متحدہ فوری طور پر امریکی فیصلے کو مسترد کرے وہ ریاستی حل کے علاوہ فلسطینیوں کو کئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ کھڑاہے مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت بدلنے والا کوئی منصوبہ قابل قبول نہیں ترک وزیر خارجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو پوری دنیا کی طرح آزادی سے جینے کا حق ہے فلسطین تنہا نہیں یہ مسئلہ ہمارا ہے ہم امن چاہتے ہیں اجلاس سے پہلے امریکہ نے دھمکی دی جو ناقابل قبول ہے مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اسرائیلی نمائندہ نے کہا کہ اس حوالے سے جنرل اسمبلی کا اجلاس بلانا شرمناک ہے امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس پر ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے کئی ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ امریکی صدر کے خلاف ووٹ نہ دیں فلسطین نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور ہونے کا خیر مقدم کیا ہے ترجمان فلسطینی صدر نے ردعمل میں کہا کہ فیصلے سے ایک بار پھر فلسطین کو عالمی برادری کی حمایت حاصل ہوگئی کسی دوسرے فریق کا فیصلہ حقائق تبدیل نہیں کرسکتا۔
برطانوی جنرل سر ایڈمند ایلن بی کو یروشیلم کے تقدس کا اس قدر خیال تھا کہ جب وہ عثمانی فوجوں کو شکست دے کر یروشیلم پر قبضے کی غرض سے باب الخیل کے راستے شہر میں داخل ہوئے تو انہوں نے گھوڑے یا گاڑی پر سوار ہونے کی بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دی یہ واقعہ آج سے ایک سو سال پہلے 11 دسمبر1917 کو پیش آیا تھا۔برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ لوئڈ جارج نے اس موقعے پر لکھا کہ دنیا کے مشہور ترین شہر پر قبضے کے بعد مسیحی دنیا نے مقدس مقامات کو دوبارہ حاصل کرلیا ہے تمام مغربی دنیا کے اخباروں نے اس فتح کا جشن منایا امریکی اخبار نیو یارک ہیرلڈ نے سرخی جمائی برطانیہ نے 673 برس اقتدار کے بعد یروشیلم کو آزاد کروالیا ہے مسیحی دنیا میں زبردست خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کے ٹھیک سو سال بعد اعلان کردیا کہ یروشیلم اسرائیل کا دارلحکومت ہے حالانکہ دنیا بھر کے ملکوں نے انہیں خبردار کیا کہ اس اعلان سے خطے میں تشدد کی نئی لہر پھوٹ سکتی ہے یروشیلم متعدد بار تاخت و تاراج ہوا ہے یہاں کی آبادیوں کو کئی بار زبردستی جلا وطن کیا گیا ہے اور اس کی گلیوں میں ان گنت جنگیں لڑی جاچکیں ہے جن میں خون کے دریا بہہ چکے ہیں۔
یہ دنیا کاواحد شہر ہے جسے یہودی،مسیحٰ اور مسلمان تینوں مقدس مانتے ہیں یہودیوں کا عقیدہ ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی اور یہیں پیغمبر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کی تیاری کی تھی مسیحی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو یہیں مصلوب کیا گیا تھا اور یہیں ان کا سب سے مقدس کلیسا واقع ہے مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق پیغمبر اسلام نے معراج پر جانے سے قبل اسی شہر میں مسجد اقصیٰ میں تمام نبیوں کی امامت کی تھی یہی وجہ ہے کہ مسلمان اور مسیحی ایک ہزار برس تک اس شہر پر قبضے کے لیے آپس میں برسرِ پیکار رہے ہیں مسلمانوں نے سب سے پہلے 636 میں دوسرے خلیفہ حضرت عمر کے دور میں بازنطینیوں کو شکست دے کر اس شہر پر قبضہ کیا تھا دنیا میں یہ واقعہ عظیم سانحہ کی حیثیت رکھتا تھا آخر1095 میں یورپ اربن دوم نے یورپ بھر میں مہم چلا کرمسیحوں سے اپیل کی کہ وہ یروشیلم کو مسلمانوں سے آزاد کروانے کے لیے فوجیں اکٹھی کریں ۔
نتیجتاً 1095 میں عوام امرا اور بادشاہوں کی مشترکہ فوج یروشیلم کو آزادکروانے میں کامیاب ہوگئی یہ پہلی صلیبی جنگ تھی البتہ1229 میں مملوک حکمران لکامل نے بغیر لڑے یروشیلم کو فریڈرک روم کے حوالے کردیا لیکن صرف15 برس بعد خوارزمیہ نے ایک بار پھر شہر پر قبضہ کرلیا جس کے بعد اگلے673 برس تک یہ شہر مسلمانوں کے قبضے میں رہا امریکی اخبار نے انہیں673 برسوں کی طرف اشارہ کیا تھا 1517 سے 1917 تک یہ شہر عثمانی سلطنت کا حصہ رہا اور عثمانی سلاطین نے شہر کے انتظام و انصرام کی طرف خاصی توجہ کی انہوں نے شہر کے گرددیوار رتعمیر کی سڑکیں بنائیں اور ڈاک کا نظام بھی قائم کیا جب کہ 1892 میں یہاں ریلوے لائن بچھادی گئی جنرل ایلن بی کے قبضے کے بعد شہر تین دہائیوں تک برطانوی سلطنت میں شامل رہا اور اس دوران یہاں دنیا بھر سے یہودی آآکر آباد ہونے لگے آخر1947 میں اقوام متحدہ نے اس شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دے دی جس کے تحت نہ صرف فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا بلکہ یروشیلم کے بھی دو حصے کردیے گئے جن میں سے مشرقی حصہ فلسطینیوں جبکہ مغربی حصہ یہودیوں کے حوالے کردیا گیا اس کے بعد اگلے دو عشروں تک یروشیلم کا مشرقی حصہ اردن کے اقتدار میں رہا لیکن 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے اس پر بھی قبضہ کرلیا بین الاقوامی برادری آج تک اس قبضے کو غیر قانونی سمجھتی ہے اسرائیلی پارلیمان نے 1950 ہی سے یروشیلم کو اپنا دارلحکومت قراردے رکھا ہے لیکن دوسرے ملکوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے احترام کی بجائے تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کررکھے ہیں اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس روایت کو توڑ دیا ہے اس طرح امریکہ یروشیلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے اسرائیلی شاعر یہودا عمیحائی نے لکھا تھا کہ یروشیلم ابدیت کے ساحل پر واقع ساحلی شہر ہے یہ الگ بات ہے کہ یہ سمندر اکثروبیشتر متلاطم ہی رہا ہے اس کا اندازہ یروشیلم کی اس مختصر ٹائم لائن سے لگایا جاسکتا ہے 5000 قبل مسیح ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق سات ہزار سال قبل بھی یروشیلم میں انسانی آبادی موجود تھی اس طرح یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔
1000 قبل مسیح پیغمبر حضرت داؤد نے شہر فتح کرکے اسے اپنی سلطنت کا دارلحکومت بنالیا 960 قبل مسیح حضرت داؤد کے بیٹے حضرت سلیمان نے یروشیلم میں معبد تعمیر کروایا جسے ہیکلِ سلیمانی کہا جاتا ہے 589 قبل مسیح بخت نصر نے شہر کو تاراج کرکے یہودیوں کو ملک بدر کردیا 539 قبل مسیح ہخامنشی حکمران سائرس اعظم نے یروشیلم پر قبضہ کرکے یہودیوں کو واپس آنے کی اجازت دی 30 عیسوی رومی سپاہیوں نے یسوع مسیح کو مصلوب کیا 638 مسلمانوں نے شہر پر قبضہ کرلیا 691 امویٰ حکمران عبدالملک نے قب الصخرا (ڈوم آف دا راک) تعمیر کروایا 1099 مسیحی صلیبیوں نے شہر پر قبضہ کرلیا 1187 صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کو شکست دے کر شہر سے نکال دیا 1229 فریڈرک روم نے بغیر لڑے یروشیلم حاصل کرلیا 1244 دوبارہ مسلمانوں کا قبضہ 1517 سلطان سلیم اول نے یروشیلم کو عثمانی سلطنت میں شامل کرلیا 1917 انگریزی جنرل ایلن بی عثمانیوں کو شکست دے کر شہر میں داخل ہوگیا 1947 اقوام متحدہ نے شہر کو فلسطینی اور یہودی حصوں میں تقسیم کردیا 1948 اسرائیل کا اعلان آزادی شہر اسرائیل اور اردن میں تقسیم ہوگیا 1967 عرب جنگ کے نتیجے میں دونوں حصوں پر اسرائیل کا قبضہ ہوگیا۔

وقت اشاعت : 2018-01-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں