بند کریں
منگل مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
طالبان مخالف قوتوں کا اتحاد
ملا منصور اختر کی مبینہ موت انہیں مضبوط کر سکے گی؟
فلک شیر آفریدی:
قندوز پر قبضے کے بعد طالبان افغان حکمرانوں اور امریکی اتحادیوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر اُبھرے تھے۔ اس کا اندازہ جنوبی افغانستان میں طالبان کی ترسیل کو روکنے کے لیے کمانڈر نعیم کے فائٹرز گھوڑوں اور موٹر بائیک پر گشت سے لگایا جا سکتا ہے جو انہیں روکنے کے لیے ہمہ وقت تیار دکھائی دیتے ہیں۔
فریاب کے تمام راستوں پر ملیشیا پھیلی ہوئی ہے۔ چیک پوسٹس پر بھی ملیشیا کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ جو شارٹ ٹرم سکیورٹی پالیسی کے تحت علاقے کو مزید ہلاکتوں سے بچانے کے لیے تعینات کئے گئے ہیں۔
یہ شدت پسند گروپ 1990 کی خانہ جنگی کے بعد اُبھرے تھے۔ ان کی باہمی لڑائی سے فائدہ اٹھا کر طالبان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔یوں افغانستان ایک ایسی گہری کھائی میں دھکیل دیا گیا جسے دائمی لڑائی کا نام دیا جاتا ہے۔
صوبہ فریاب میں کمانڈر نعیم کی ملیشیا کا نیٹ ورک 200 فائٹرز پر مشتمل ہے ۔ یہ علاقہ ترکمانستان سے جڑا ہواہے یہاں پشتونوں کی بڑی تعداد اپنے تحفظ کے لیے جمع ہو چکی ہے۔
افغان جنگجوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ انہوں نے اپنی سرزمین پر دراندازی کرینے والوں کے سامنے کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے۔ کمانڈر نعیم کے جنگجو کندھوں پر بھاری مشین گن لٹکاے گھوڑے کی پشت پر سوار ہمہ وقت گشت کرتے ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر رآرپی جی وارہیڈز سے بھی مسلح ہوتے ہیں جو جمشیدی کے قریب ایک گاوٴں کے پہاڑوں پر گشت کرتے پائے جاتے ہیں اور یہاں دراندازی کرنیوالے طالبان کو روکنے کیلئے سرکاری فورسز کی مدد کرتے ہیں ۔ طالبان اکثر کھات لگاکر ان پر حملہ آور ہو چکے ہیں۔
کمانڈر نعیم طالبان کے کٹر مخالف کمانڈروں میں سے ایک ہیں۔ وہ افغانستان میں طالبان کے کسی بھی قسم کے کردار کے سخت مخالف ہیں۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق طالبان کے نئے امیر ملا منصور اختر کی ہلاکت کی افواہیں سرگرم ہیں۔افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ بھی ان کی ہلاکت کا اعلان کر چکے ہیں۔ چینی میڈیا بھی اس کی تصدیق کر چکا ہے جبکہ طالبان رہنماوٴں نیا س کی تروید کی ہے۔ ملا منصور اختر کی موت کی افواہ چند منٹوں میں فریاب اور اس کے ڈسٹرکٹ پر دوبارہ قبضے کے دعویدار ہیں ۔
ستمبر میں قندوز پر طالبان کا اقتدار سے محروم ہونے کا 14سال بعد دوبارہ قبضہ اس کا عملی ثبوت بھی ہے۔
ایک مغربی آفیشل کا کہنا ہے کہ فریاب میں 5000 ہزار فوجی اور نیم فوجی مسلح اہلکار تعینات ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی ہزاروں مسلح جنگجووٴں کی کمک یہاں بھیجی جا رہی ہے۔ ایک اعلیٰ افغان اہلکار کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میمانا میں اے کے 47 رائفل کی قیمت پچھلے دو سال کے دروان دوگنی ہو چکی ہے۔

افغان صدر اشرف غنی مقامی افغان پولیس فورس کی بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں امریکی کی سرپرستی میں 3000 دفاعی فورسز بھی فریاف کی 45000 ملیشیا کی معاونت کے لیے موجود ہے۔ پچھلی کرزئی حکومت ملیشیا کو غیر مسلح کرنے میں مصروف رہی جبکہ اب افغان صدر اشرف غنی اپنی حکومت بچانے کے لیے کردار سونپ رہے ہیں۔
نامناسب تربیت، حکومتی رٹ کی کمی، کرپشن کلچر اور مادر پدر آزادی نے انٹی طالبان ملیشیا کو کریمنل گینگ میں تقسیم کر دیا ہے۔
فریاب میں ایک اے پی ایل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ سانپوں سے بھرے ہوئے کنویں کو ٹارچر سیل کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔چوری، ریپ اور ڈرگ ٹریفکنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے چند قصبوں کو گھوسٹ قصبوں میں بدل دیا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں رہائش کے لیے جانے والوں کو شدت پسندی سے منسلک ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ افغان تھنک ٹینک کے رسیرچر عبیدعلی کا کہنا ہے کہ ملیشیا کے قیام کا مقصد سمگنگ اور اپنے معاشی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
ملیشیا کا ابھرناملٹی بلین ڈالر امریکی سرپرستی میں خود انحصار افغان فورسز کی خامیوں کو بھی آشکار کرتا ہے جو روزانہ بڑی تعدادمیں ہلاکتوں اور کئی محاز وں پر شدت پسندی سے نمٹنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔
فریاب کے پہاڑی علاقے آج کل شدت پسندوں کا مرکز بن چکے ہیں جو صوبائی دارالحکومت اور اہم ڈسٹرکٹ کے لیے زبردست خطرہ ہیں۔
کمانڈر نعیم کا کہنا ہے کہ 4اکتوبر کو طالبان نے میامانا پر قبضہ کر لیا تھا۔
انہیں سیکورٹی آفیشلز کی جانب سے طالبان سے نمٹنے کے لیے فون کال آئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ”میں نے سرکاری سیکورٹی فورسز سے کہا تھا کہ اگر تم نے میامانا پر گرفت ڈھیلی کی تو فریاب کے عوام تمہیں کبھی معاف نہیں کریں گے“۔ افغان سیکورٹی فورسز طالبان کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئیں تو عام دکانداروں اور کسانوں کو لڑائی کیلئے کھڑا نہیں ہونا پڑے گا اور نہ ہی انہیں اپنے زیورات ،گائے اور بیلوں کو فروخت کر کے نیا اسلحہ خریدنا پڑے گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان