تازہ ترین : 1
Taleemi Idaroon Main Manshiyat

تعلیمی اداروں میں منشیات ۔۔طلباء کا مستقبل داؤ پر

تعلیمی اداروں میں منشیات کی بڑھتی ہوئی وباء نے ہر کسی کو پریشان کر رکھا ہے۔بالخصوص والدین کی تشویش اور اضطراب میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ جبکہ دوسری طرف تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے اور نوجوان نسل کو منشیات کی لت سے آزاد کروانے کے لئے حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات بھی ناکافی نظر آ رہے ہیں جس سے جلتی پر تیل کا کام ہو رہا ہے

احمد جمال نظامی:
تعلیمی اداروں میں منشیات کی بڑھتی ہوئی وباء نے ہر کسی کو پریشان کر رکھا ہے۔بالخصوص والدین کی تشویش اور اضطراب میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ جبکہ دوسری طرف تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے اور نوجوان نسل کو منشیات کی لت سے آزاد کروانے کے لئے حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات بھی ناکافی نظر آ رہے ہیں جس سے جلتی پر تیل کا کام ہو رہا ہے۔
نتیجتاً احتجاج اور تشویش کے اظہار کا سلسلہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اس وقت پنجاب کے دوسرے اور وطن عزیز کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں بھی تعلیمی اداروں میں منشیات کی بڑھتی ہوئی وباء کے خلاف احتجاج اور تشویش کے اظہار کا سلسلہ سنائی دیئے جانے لگا ہے۔ فیصل آباد آبادی کے لحاظ سے بھی پنجاب کا دوسرا بڑا شہر ہے اور اسی بناء پر فیصل آباد کے مسائل میں بھی بدرجہ اتم اضافہ جاری ہے۔
آبادی کے بڑھتے ہوئے عفریت کے باعث مختلف مسائل کے ساتھ ساتھ جرائم کی شرح میں بھی خاطرخواہ اضافہ سامنے آ رہا ہے۔ منشیات گز شتہ کئی سالوں سے فیصل آباد میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے شہر کے تمام پوش علاقوں، مختلف مارکیٹوں اور مقامات زندگی پر منشیات کے عادی افراد گرے پڑے نظر آتے ہیں۔ ان افراد کی ایک واضح اکثریت چوکوں اور شاہراہوں پر گداگروں کی صورت میں بھیک مانگتے بھی نظر آتی ہے جو لوگوں سے اللہ اور رسول کے نام پر صدقہ خیرات کی رقم اکٹھی کرنے کے بعد اس سے منشیات خریدتے ہیں اور اس کو اپنی رگوں میں اتار کر موت کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
یہ افراد صرف چرس، ہیروئن اور دیگر اقسام کی منشیات ہی استعمال نہیں کرتے بلکہ میڈیکل سٹوروں سے نشہ آور ادویات آسانی سے بغیر کسی ڈاکٹری نسخے کے خرید کر نشے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں نوائے وقت کی طرف سے اس ضمن میں کئے گئے سروے کے دوران منشیات کے عادی افراد کی ایک بڑی تعداد نے جو طارق آباد قبرستان کے باہر موجود تھی نے بتایا کہ وہ ہیروئن کے عادی نشہ باز ہیں اور ہیروئن چونکہ بہت مہنگی ہو چکی ہے ان کی دسترس سے باہر ہے اس لئے وہ میڈیکل سٹوروں سے بلاخوف و خطر و رکاوٹ نشہ آور ادویات خرید کر اسے منشیات کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
یہ معمول کا المیہ بن چکا ہے اور اسے معمول کا المیہ کہنا بھی انتہا درجے کی شرمناک بات ہے لیکن کیونکہ معمول زندگی میں یہ المیہ رواں دواں ہے اس لئے معمول کا المیہ ہی قرار دیا جاتا ہے تاہم اس معمول کے المیے پر ہماری بے حسی اور تمام متعلقہ اداروں سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی کے بعد بالآخر گزشتہ کچھ عرصے سے منشیات کی وباء تعلیمی اداروں کے درودیوار کے اندر داخل ہونے لگی ہے۔
کالج اور یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ سکولوں کے ہائی کلاسز کے بچے بھی کئی اقسام کی منشیات کے استعمال میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں گزشتہ رپورٹ میں بھی لکھا گیا تھا کہ کئی پوش تعلیمی اداروں کے طالب علموں کے والدین نے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کر کے نوائے وقت کو اپنی شکایات اور تلخ حقائق سے آگاہ کیا۔ جس کے مطابق یہ بات سامنے آئی کہ بعض امراء کے بچوں میں جو ابھی سکول کے بھی طالب علم ہیں اور بہت سا رے جو تعلیمی اداروں میں ابھی انٹر کے طالب علم ہیں ان کے اندر آئیس نام کے ایک نئے نشے نے جڑ پکڑی ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی زندگیوں کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔
افیون کے استعمال کی بڑھتی ہوئی شکایات بھی سامنے آئیں۔ شہر کے سب سے بڑے ہوٹل اور اس کے ساتھ واقع ایک کلب سے کھلم کھلا فروخت کی شکایت بھی سامنے آئی۔ ایک ایسے گروہ کا بھی انکشاف ہوا جو گاڑی اور موٹرسائیکل پر کسی بھی ڈیمانڈ کرنے والے کو ان کے گھروں کی دہلیز پر تمام پولیس ناکوں کو پار کرتے ہوئے پہنچاتا ہے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی پکڑنے والا نہیں کیونکہ یہ مسلسل اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہمیں تو بعض ذرائع نے یہاں تک بتایا کہ کئی پولیس ذمہ داران ان کے ایسے گاہک بھی ہیں جو منتھلی کی بجائے ایک بوتل لے لیا کرتے ہیں۔ اس طرح کی شکایات میں مسلسل اضافہ جاری ہے جبکہ ایسی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ بہت سارے منشیات فروش جو سمن آباد کے علاقہ نوابانوالہ، ڈھڈی والا، غلام محمد آباد، مدینہ ٹاوٴن اور شہر بھر میں موجود ہیں ان کو بعض سیاسی احباب کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔
کئی ارکان اسمبلی بھی ان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے پولیس ان پر ہاتھ نہیں ڈالتی اور اب یہ قانون شکن، سماج دشمن عناصر اس قدر مضبوط ہو چکے ہیں اور ان کا نیٹ ورک اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کے اندر داخل ہونے لگے ہیں۔ اس ضمن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے شہر کے سی پی او افضال احمد کوثر بار بار اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ منشیات کا خاتمہ کرنے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہیں۔
وہ بار بار منشیات کے خاتمے کے لئے احکامات اور بیانات جاری کرتے ہیں۔ مختلف میٹنگز میں اس سلسلہ میں لب کشائی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود منشیات فروشی کے خلاف حقیقی معنوں میں گھیرا تنگ کیوں نہیں ہو رہا۔ کیا وجہ ہے کہ جتنے بھی پولیس کے ہینڈآوٴٹ سامنے آتے ہیں ان میں صرف اور صرف منشیات کے عادی افراد کو منشیات فروش ظاہر کر کے مقدمات کا اندراج کیا گیا ہوتا ہے یا پھر چھوٹے موٹے منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا ہوتا ہے۔
چھوٹے موٹے منشیات فروشوں کی بھی گرفتاری ضروری ہے کہ کل کلاں انہوں نے ہی بڑے مگرمچھ بننا ہے لیکن اس وقت موجود بڑے مگرمچھوں کا قلع قمع کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ سٹی پولیس آفیسر کو چاہیے کہ وہ تمام تعلیمی اداروں کے باہر چھٹی اور ہر طرح کے اوقات میں غیرمتعلقہ افراد کے کھڑے ہونے یا دندنانے پر پابندی عائد کریں۔ تمام بدنام زمانہ منشیات فروش جو نوابانوالہ، غلام محمد آباد، ڈھڈی والا، مدینہ ٹاوٴن، وارث پورہ اور جدھر جدھر موجود ہیں ان کا چارٹ تیار کر کے تمام تھانوں کے انچارجز کو متنبہ کریں کہ ان کو فوری طور پر گرفتارکر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
شہری توقع اور یقین رکھتے ہیں کہ سٹی پولیس آفیسر اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور کسی بھی سیاسی دباوٴ کو قبول نہیں کریں گے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر تعلیمی اداروں اور معاشرے میں جس قدر بھی منشیات کی وباء پھیلے گی اس کی ذمہ داری منشیات فروشوں کے ساتھ ساتھ پولیس پر بھی عائد ہو گی۔
وقت اشاعت : 2017-04-19

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں