تازہ ترین : 1
Security Kay Naam Par VIP Protocol

سکیورٹی کے نام پروی آئی پی پروٹوکول

سیاسی اشرافیہ کے نزدیک زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی

ایس بی ایس:
گزشتہ دنوں ایک دفعہ پھروی آئی پی پروٹوکول اوراس کے خلاف احتجاج ملکی منظر نامے پرچھا گیا۔بلاول بھٹوکے سول ہسپتال کے دورے کے موقع پرسکیورٹی اوروی آئی پی پروٹوکول کی وجہ سے 10 ماہ کی بچی ہسپتال کے دروازے پردم توڑ گئی۔بچی کا والد انتظامیہ سے ہسپتال داخلے کے لئے دہائیاں دیتا رہالیکن اسے اجازت نہ ملی اور10ماہ کی بسمہ اپنے باپ کے ہاتھوں میں ہسپتال کے دروازے پرہی دم توڑگئی۔
بچی کی لاش اُٹھائے اس باپ پراس وقت ایک اور قیامت ٹوٹ گئی جب ڈاکٹرنے اسے بتایا کہ اگروہ دس منٹ قبل آجاتاتوبچی کی جان بچ سکتی تھی۔وی آئی پی پروٹوکول کی وجہ سے جان کی بازی ہارنے کایہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔اس سے قبل بھی ہماری سیاسی اشرافیہ کاوی آئی پی پروٹوکول اور سکیورٹی متعدد جانیں لے چکاہے۔بلاول زرداری کے پروٹوکول نے ہسپتال کے گیٹ پرایک بچی کی جان لی تودوسری جانب آصف زرداری کے پروٹوکول کی وجہ سے سڑک پرولادت کے واقعات پیش آئے۔
دیگر سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کے پروٹوکول کی وجہ سے بھی متعدد افراد ایمبولینس میں دم توڑرہے ہیں۔اس صورتحال پرافسوس کااظہار توکیاجارہاتھا لیکن جلتی پرتیل پیپلزپارٹی کے دیگر راہنماؤں نے چھڑکا۔بچی کی ہلاکت پرسینئروزیرنثار کھوڑوکاکہناتھاکہ انہیں اس واقعہ پرافسوس ہے۔لیکن چیئرمین کی سکیورٹی زیادہ ضروری ہے۔ یادرہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نہ توکسی آئین سازاسمبلی میں ہیں اور نہ وہ کسی سرکاری عہدے پرفائزہیں ۔
لیکن اس کے باوجودعوامی نمائندگی کے دعویدار منتخب نمائندے ایسے بیانات جاری کرتے ہیں جن سے تاثر ملتاہے کہ ان کے نزدیک عام شہری کی زندگی پروٹوکول کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وی آئی پی پروٹوکول کی وجہ سے بچی کی جان جانے پرپیپلزپارٹی کی قیادت نے معذرت کااظہار بھی کیا۔دوسری جانب اس بچی کی لاش پرسیاست بھی چمکائی جاتی رہی۔سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اسے عوامی مسئلہ کی بجائے محض سیاسی مسئلہ بنا دیا اور پوائنٹ سکورنگ شروع کردی۔
تحریک انصاف کے چیئرمین نے کے پی کے کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ وہاں وزیراعظم بھی آجائیں تووی آئی پی پروٹوکول نہیں دیاجائے گا۔دوسری جانب کے پی کے میں خوعمران خان اور ان کی سابقہ بیگم ریحام خان وی آئی پی پروٹوکول کے مزے لوٹتے رہے ہیں۔یہی صورت حال مسلم لیگ کے عہدیداروں کے ہاں بھی نظر آتی ہے اور مسلم لیگ(ق)سمیت طاہرالقادری اور دیگر راہنمابھی وی آئی پی پروٹوکول کے شوقین نظر آتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سکیورٹی اور وی آئی پی پروٹوکول میں زمین آسمان کافرق ہے۔ سکیورٹی کاتعلق مینجمنٹ اور سکیورٹی پلان کیساتھ ہوتا ہے۔ اس میں صرف یہ خیال رکھاجاتاہے کہ عام عوام کوتنگ کیے بنااس طرح وی آئی پی پیزکاروٹ ترتیب دیاجائے کہ ان کی گاڑی کوہراشارہ کھلا ملے۔اس دوران دیگر اشارے اتنی ہی دیرکیلئے بندرکھے جاتے ہیں جتنی دیرکیلئے عام طورپربندرہتے ہیں۔
صرف ترتیب تبدیل کرکے وی آئی پیزکوگزاراجاتاہے۔اسی طرح دیگرمقامات پرپوری عمارت کوسیل کرنے کی بجائے وی آئی پیزکے اردگردمخصوص سکیورٹی رکھی جاتی ہے۔ہمارے ہاں سکیورٹی کی بجائے وی آئی پی پروٹوکول کوترجیح دی جاتی ہے جس کامقصد محض اپنی ظاہرکرناہے۔حالیہ وی آئی پی پروٹوکول اور بچی کی ہلاکت کے بعدسیاسی اشرافیہ کے غیرذمہ دارانہ بیانات اور پوائنٹ اسکورنگ ان کی حقیقی سوچ واضح کرچکے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ جس روزبلاول زرداری کے وی آئی پی پروٹوکول اور بچی کی ہلاکت کی خبریں”بریکنگ نیوز“بنی رہیں اگلے ہی روزقومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈراور پیپلزپارٹی کے سینئرراہنماکے بیٹے کی شادی کی تقریب کے دوران ایک بار پھربھرپوری وی آئی پی پروٹوکول کا مظاہرہ کیاگیاجوبچی کی ہلاکت پراحتجاج کرنیوالے عوام کوسیاسی اشرافیہ کاواضع پیغام تھا۔ا
وقت اشاعت : 2016-01-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں