بند کریں
جمعہ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سقوط ڈھاکہ سے سانحہ پشاور تک
دسمبر پاکستان کی تاریخ کا ایسا مہینہ ہے جس کے ساتھ ہماری دردناک یادیں وابستہ ہیں اسکی وجہ دو قیامت خیز واقعات ہیں جنہوں نے پاکستان کا منظر نامہ ہی تبدیل کر کے رکھ دیا۔
عمران قصوری:
دسمبر پاکستان کی تاریخ کا ایسا مہینہ ہے جس کے ساتھ ہماری دردناک یادیں وابستہ ہیں اسکی وجہ دو قیامت خیز واقعات ہیں جنہوں نے پاکستان کا منظر نامہ ہی تبدیل کر کے رکھ دیا۔گزشتہ برس پشاور میںآ رمی پبلک سکول پر ملکی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کی کارروائی سے پہلے اس دن کو سقوط ڈھاکہ کی نسبت سے یاد رکھا جاتا تھا کہ اس دن مشرقی پاکستان نے ارباب اختیار کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت اور اغیار کی سازش کے تحت بنگا دیش کا روپ دھار لیا تھا۔
بد قسمتی سے ہمارے یہاں ماضی کے تلخ حقائق اور دردناک واقعات کو ایک ڈراوٴنا خواب سمجھ کر بھلا دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ماضی اپنا آپ دہراتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کسی المناک سانحے کا روپ دھار کر ہمارے سامنے آن کھڑا ہوا ہے۔ 16دسمبر کو پیش آنے والے ان اہم سانحات کے عوامل اور محرکات میں سب سے اہم چیز ارباب اختیار کی روایتی بے حسی تھی۔
پاکستان کے دشمنوں نے روز اول سے ہی اس کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کیا اور اسے زیادہ سے زیادہ جانی ومالی نقصان پہنچانے کے مذموم ارادے و منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ ان دشمنوں میں پاکستان کا ازلی دشمن بھارت سرفہرست ہے جو پاکستان کے صوبوں میں نسلی تعصب اور لسانیت کی آگ بھڑکا کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے۔ بھارت نے سقوط ڈھاکہ میں اہم کرداد ادا کیا ۔
اس نے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کوایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑا کر دیا۔ ملک کے دونوں حصے باہمی طور پر دست وگریبان ہوئے اس کا نقصان متحدہ پاکستان کو ہوا۔ قیام پاکستان کے وقت بنگال کے مسلمان تجارت اور تعلیم دونوں شعبوں میں نہایت پسماندہ تھے اس کا انداز اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ صرف ایک بنگالی سول سروس میں تھا۔مشرقی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ہندو اساتذہ کی اکثریت غالب تھی۔
ان ہندو اساتذہ نے بنگالی قومیت کا پرچار کرنا شروع کردیا۔ اردو اور بنگلہ زبان میں کتابیں کلکتہ سے آئی تھیں۔ دشمن نے مسلم قومیت کو دبا کر بنگالی قومیت کو ابھار دیا۔ شیخ مجیب نے بنگلہ کو قومی زبان بنانے کی تحریک چلائی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پڑھ اور کم تعلیم یافتہ افراد کی سادہ لوح کا فائدہ اٹھا کر مغربی پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا شروع کر دیا کہ وہ مشرق پاکستان لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قیام پاکستان سے قبل مشرق پاکستان کے لوگ تجارتی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ تھے اور ان کے برعکس ہندو ان دونوں شعبوں پر چھائے ہوئے تھے۔ دوسری طرف تعلیم سے قبل ہی مغربی پاکستان میں بسنے والے مسلمان تجاری اور تعلیمی لحاظ سے مشرقی پاکستان سے بہت بہتر تھے۔ اس بات کو بنیاد بنا کر دشمنوں نے دونوں بھائیوں کو آپس میں لڑوایا۔
حکمرانوں نے بھی مشرقی پاکستان پر زیادہ توجہ نہ دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام میں حکمرانوں کے خلاف بے چینی میں اضافہ ہوا اور ملک کے دونوں حصوں میں خلیج بڑھتی گئی اور بھارت اپنے ناپاک منصوبے میں کامیاب ہو گیا۔ بنگلہ دیش کے وجود میں آنے پر اندرا گاندھی نے کہا کہ ہم نے مسلمانوں سے اپنی غلامی کا بدلہ لیتے ہوئے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔
سقوط ڈھاکہ کے چوالیس برس بعد پاکستان کے دشمنوں نے 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے سکول میں معصوم طالب علم اور اساتذہ کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا۔ اس واقعہ کی ذمہ داری طالبان نے انتہائی فخریہ انداز میں قبول کی۔ دراصل پاکستان کے دشمن نے اس واقعے کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ وہ ملک کا مستقبل تباہ برباد کر دکے رکھ دے گا۔ کسی بھی ملک کے بچوں کو اس کا مستقبل قرار دیا جاتا ہے یہی بچے بڑے ہو کر ملک کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں اسی لیے ان کو ٹارگٹ کرکے ظلم وستم کی نئی داستان رقم کی گئی۔
اس واقعہ کے بعد پاکستانی قوم نے ڈرنے کی بجائے متحدہو کر یہ فیصلہ کر لیا کہ معصوم بچوں کو قتل کرنے والے دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے اس لیے ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کر کے انسانیت کے دشمنوں کو واصل جہنم کیا جائے۔ حکومت اور فوج نے قوم کا جوش وجذبے کو دیکھتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا دائرہ وسیع کر دیا شدت پسندوں پر پوری آب و تاب کے ساتھ حملے کئے گئے۔
اس آپریشن میں حکومت اور افواج کو انتہائی اہم کامیابیاں ملی ہیں اور ہماری قابل فخر فوج نے اللہ کی نصرت وتائید سے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ دہشت گردوں کی اکثریت ماری جاچکی ہے اور بہت سے شرپسند افغانستان فرار ہو چکے ہیں ۔اگر ان سماج دشمن عناصر کے خلاف پہلے ہی پوری شدت کے ساتھ آپریشن کیا جاتا تو ان آستین کے سانپوں کو بہت پہلے ہی کچلا جا سکتا تھا اور اس طرح ان معصوم قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا جو اپنی آنکھوں میں سنہرے مستقبل کے خواب سجائے شہادت کے ربتے پر فائز ہوگے۔
درجنوں اساتذہ اور پرنسپل طاہرہ قاضی درندوں سے لڑتے ہوئے جرات اور بہادری کی داستان رقم کر کے شہید ہو گے۔ یہ دھستگرد اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنے کے لیے اسلام دشمن ممالک سے اسلحہ فنڈز اور دوسرے آلات وساز وسامان حاصل کرتے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ لوگ اسلامی ریاست میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لئے اسلام دشمن قوتوں سے ہاتھ ملانا بھی معیوب نہیں سمجھتے اور یہ درندے اب تک 60ہزار سے زائد پاکستانی شہری وسکیورٹی اہلکاروں کو شہید کر چکے ہیں اور معیشت کو 100ارب ڈالز سے نقصان پہنچایا گیا ہے۔
موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کیا تھا لیکن اس شقی القلب گروہ نے اپنے ہر فعل سے یہ ثابت کیا کہ ان کا معطمعِ نظر اسلام کی تبلیغ اور نفاذ شریعت نہیں بلکہ پاکستان کو معاذ اللہ ختم کرنا ہے۔ہماری حکومت ابتداء میں اچھے اور برے طالبان کی اصطلاح میں الجھی ہوئی تھی لیکن جب آرمی پبلک سکول پر طالبان نے حملہ کر کے معصوم پھولوں کو مسل دیا تو حکومت کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ اچھے برے طالبان کا کوئی تصور نہیں ہے اور یہ سب انسانیت کے دشمن اور بیرونی قوتوں کے آلہ کار ہیں اس لیے ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔
اب ہماری حکومت اورفوج اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ ہمیں ان عفریتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے زور بازو پر بھروسہ کرنا ہو گا اور اس کام میں اب تاخیر کی گنجائش ہرگز نہیں ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان