تازہ ترین : 1
Saneha Youhana Abad

سانحہ یوحنا آباد۔۔۔ قوم کو تقسیم کرنے کی سازش

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تشدد ہمارے معاشرے کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک جانب مشتعل مظاہرین کا تشدد پر اتر آنا افسوس ناک ہے دوسری جانب دہشت گردوں کی ظالمانہ کار روائیوں کا بھی کوئی جواز نہیں

کھئیل داس کوہستانی:
سانحہ یوحنا آباد کے بعد لاہور، گوجرانوالہ سمیت بعض شہروں میں شدید احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کرنا شہری کا حق ہے۔ لیکن احتجاج ہمیشہ پر امن طور پر کیا جانا چاہیے۔ لیکن 2 روز تک ہونے والے احتجاج کے دوران کچھ شرپسند عناصر نے سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا ۔ جبکہ مظاہرین میں شامل کچھ شرپسند عناصر کی جانب سے اس وقت تو ظلم کی انتہا کر دی گئی جب 2افراد کو محض شک کی بنیاد پر زندہ جلا دیا گیا۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تشدد ہمارے معاشرے کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک جانب مشتعل مظاہرین کا تشدد پر اتر آنا افسوس ناک ہے دوسری جانب دہشت گردوں کی ظالمانہ کار روائیوں کا بھی کوئی جواز نہیں۔ مظاہرین جس طرح دو روز تک سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے اس پر حکومتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیر کا مران مائیکل سینیٹر نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کے پاس پہنچ کران سے پرامن رہنے کی اپیل کی اور مسیحی پرداری کی یقین دلایا کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔

کامران مائیکل نے مسیحی برداری کے جذبات ٹھنڈے کرنے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ رانا ثناء اللہ اور صوبائی اقلیتی و انسانی امور خلیل طاہر سندھو بھی مظاہرین کو پر امن رکھنے کیلئے کوشش کرتے رہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف اوروزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف پورے واقعے پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ شہباز شریف صاحب نے مظاہرین سے مذکرات کی کامیاب کوشش کیں۔
میری رائے میں آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کیلئے قومی سطح پر سیاسی ومذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی، اقلیتی تنظیموں اور دیگر حلقوں کی مشاورت سے ایک ایسا ضابطہ اخلاق بنایا جائے جس پر تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں سوس سوسائٹی اور دیگر عمل پیراہوں ایسے تکلیف دہ واقعات سے بچنے کیلئے مظاہروں کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرنا سب کی ذمہ داری ہو گی۔
سانحہ یوحنا آباد سراسر دہشتگردوں کی کارروائی تھی لیکن بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے اس واقعہ کو حکومت کے خلاف استعمال کرنے کی کو شش کی گئی۔ ایسے انسانی المبوں پر سیاست کرنا نہایت افسوس ناک امر ہے۔
وزیراعظم محمد نواز شریف ہوں یا وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ہوں دونوں رہنما اقلیتی برادری کے حقوق کا ہمیشہ خیال رکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں مسلمان ہند و اور عیسائی سب کے حقوق برابر ہیں۔
یہ مسلم لیگ نواز کی اقلیتی برادری کے حوالے سے پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مسلم لیگ نے حکومت سازی کرتے وقت ہمیشہ اقلیتی برادری کے نمائندہ افراد کو حکومت کا حصہ بنایا ہے۔ پہلی بار مشیر خزانہ پنجاب کامران مائیکل کو بنایا بعد میں سینیٹر اور پھر وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ کے قلم داری سے نوازا ۔ جبکہ خلیل طاہر سندھو کو پنجاب کا صوبائی وزیر بنایا گیا ہے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے کارکن خیل جارج بھٹو کو ایم این اے جبکہ سندھ سے ہندو برادری کے 3لوگوں کو رکن قومی اسمبلی منتخب کرا یا گیا ہے۔
محمد نواز شریف نے ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق کی بات کی ان کے مسائل میں بھر پور دلچسپی لی ہے نواز شریف اقلیتوں کے ساتھ انصاف کی کوشش ہی نہیں کرتے بلکہ جہاں ضرورت محسوس کرتے ہیں وہاں وہ ان کی مالی امداد بھی کرتے ہیں۔چونکہ راقم الحروف کا تعلق بھی اقلیتی برادری کے مسائل پر جب بھی وزیر اعظم محمد نواز شریف سے رابطہ کیا تو انہوں نے ہ ہمیشہ مجھے اس کا مثبت جواب دیا اور بعض معاملات میں فوری ایکشن بھی لیا۔
اس صورت حال میں یہ ہی کیا جا سکتا ہے کہ مسیحی بھائیوں کو صبروتحمل سے کام لینا چاہیے اوریہ تو قع رکھنی چاہیے کہ حکومت دہشتگردوں کو ٹھکانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
ہماری فوج نے ضرب عضب میں کامیابی حاصل کی اور ہمارے فوجی جوانوں اور پولیس ملک سے دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے اپنی جانوں کا نذارانہ دے رہے ہیں اور یہ جنگ ضرور کامیاب ہوگئی اور سکتے ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔
وقت اشاعت : 2015-04-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں