بند کریں
اتوار مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سانحہ پشاور
خفیہ اداروں کو ملی بڑی کامیابی سانحہ پشاور کے بعدسکیورٹی کے ذمہ دار ادارے دہشت گردوں کیخلاف پوری طاقت سے کمربستہ ہو چکے ہیں۔ خفیہ ادارے سانحہ پشاور میں استعمال ہونے والی سموں کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں
صابر بخاری:
وطن عزیزمیں قانون نافذ کرنیوالوں کی نااہلی اور ناقص طرز حکمرانی کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر ملکی قوانین کا مذاق اڑانے لگے اور غیر قانونی دھندے عروج پر پہنچ گئے جس کی آڑ میں دہشت گرد ملک میں خون کی ہولی کھیلتے رہے۔سانحہ پشاور کے بعدسکیورٹی کے ذمہ دار ادارے دہشت گردوں کیخلاف پوری طاقت سے کمربستہ ہو چکے ہیں۔ خفیہ ادارے سانحہ پشاور میں استعمال ہونے والی سموں کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں۔
اس سارے واقعہ سے پردہ اٹھائیں تو گلبرگ لاہور کے ایک بڑے پلازہ میں کاشف ضیاء جی ایس ایم فرنچائز چلاتا تھا۔ قارئین آپکو یاد ہو گا کہ شروع میں شناختی کارڈ کے بغیر بھی سم مل جاتی تھی۔ اس کے بعد سموں کا اجراء بائیو میٹرک سسٹم پر کردیا گیا۔ سانحہ پشاور میں استعمال ہونے والی سم لاہور کے علاقے صدر میں بسم اللہ موبائل سنٹرسے جاری ہوئی۔اس موبائل سنٹر کا مالک اعظم تھا۔
قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے اعظم کو گرفتار کر لیا۔ اعظم نے بتایا کہ سم کا اجراء کرنے والی مشین صرف 20 دن اس کے پاس رہی جس کے بعدجی ایس ایم فرنچائز کا منیجر مبشر رضوان ناقص پرفارمنس کا بہانہ کرتے ہوئے مشین اپنے ساتھ لے گیا۔ اعظم کا کہنا ہے کہ سانحہ پشاور میں استعمال ہونے والی سم مبشر رضوان کے مشین لے جانے کے بعد جاری ہوئی جب قانون نافذ کرنیوالوں نے مبشر رضوان کو گرفتار کیا تو اس نے کہا کہ فرنچائز کے مالک عتیق نے اس کو مشین لانے کیلئے بھیجا تھا۔
سانحہ پشاور میں استعمال ہونے والی ایک سم پتوکی میں بیکری پر کام کرنے والے رحمن علی کے نام پر ایشو ہوئی۔ ہوا یوں کہ رحمن علی نے موبائل وین سے ایک سم لی۔ رحمن علی کیونکہ سادہ لوح تھا اس لیے اس سے دو تین بار انگوٹھے کے نشانات لگوا لیے گئے۔ عتیق نے دوران تفتیش بتایا کہ اس تمام عمل کا ذمہ دار کاشف ضیاء ہے۔وہ ایکسٹرا سیموں کے ایشو کرنے پر اسکو کو ماہانہ پانچ ہزار اضافی دیتا تھا۔
یہ لوگ سمیں حاصل پور میں دو بھائیوں زاہد اور سجاد جو جنرل سٹور چلاتے ہیں کو دیتے تھے۔ ایک سم کی قیمت چار سو روپے وصول کی جاتی تھی۔ زاہد اور سجاد سمیں آگے فروخت کرتے تھے۔ انہی سموں میں سے دو سمیں سانحہ پشاور میں استعمال ہوئیں۔ سانحہ پشاور میں استعمال ہونے والی ایک سم حاصل پور کی ایک خاتون کے نام پر ہے۔
اس پورے کھیل کے 9 کردار وں میں سے پولیس نے 4 اوکاڑہ اور 4 حاصل پور سے گرفتار کر لیے ہیں جبکہ جی ایس ایم فرنچائز کے مالک کاشف ضیاء کو پولیس تلاش کر رہی ہے۔
بطور شہری ہمیں بھی کچھ اقدامات کرنے چاہییں۔
پی ٹی اے نے آدھے گھنٹے میں صرف ایک سم ایشو کرنے کا حکم جاری کیا ہے جبکہ بہتر ہے کہ پی ٹی اے ایک دن میں صرف ایک سم جاری کرنے کے احکامات جاری کرے۔ موجودہ مخصوص حالات میں ہر بندہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ اس کے نام پر کتنی سمیں جاری ہو چکی ہیں موبائل فون گم یا چوری ہونے کی صورت میں فوری سم بلاک کروائیں۔
ان پڑھ اور سادہ لوح افراد سم لینے کیلئے جاتے ہوئے پڑھے لکھے اور سمجھدار بندے کو ساتھ لے جائیں اس طرح کی چھوٹی سی کاوش ہمیں بڑی مصیبت سے بچا سکتی ہے۔ قارئین ایک اورجرم کی داستان میں نادرا کے کرپٹ اہلکار کی بدولت ملک کا کتنا نقصان ہوا۔ کامونکی کا رہائشی شاہد حسین نادرا میں ڈیٹا انٹری آپریٹر تھا۔ اس کی ڈیوٹی وین 21 پر تھی۔ اس نے جس لڑکی سے شادی کی وہ بھی نادرا میں ہی ملازمت کرتی تھی۔
شاہد کی دوستی فیس بک پر پشاور کے رہائشی عارف خان نامی شخص سے ہو گئی۔ شاہد پشاور میں عارف خان کی دعوت پر شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے پر بھی گیا جس سے دوستی مزید گہری ہو گئی۔ اس کے بعد عارف خان نے شاہد کو آفر کی کہ اگر وہ 120 بندوں کو پشاور میں شناختی کارڈ بنوا کر دے تو وہ اس کو 20 لاکھ دے گا۔ شاہد نے لالچ میں آکر شناختی کارڈ بنانا شروع کر دیے۔
فیملی ٹری میں بڑی چالاکی سے تاریخ پیدائش کے حساب سے وہ گیپ میں ان کے نام ڈال دیتا تھا۔شاہدنے جعلی مہریں بھی رکھی ہوئی تھیں جس سے وہ کاغذات کی تصدیق کرتے تھے۔ وہ کسی اور کسٹمر کا فارم جو تصدیق شدہ ہوتا تھا اس کی تصاویر ہٹا کر بھی اس پر اپنے بندوں کی تصاویر لگا گر شناختی کارڈ بنا دیتا تھا۔ یہ لوگ ہفتہ اور اتوار کو بھی شناختی کارڈ بناتے تھے۔
یہ شناختی کارڈ چیچن،ازبک اور افغان باشندوں کو جاری کیے جاتے تھے۔ شاہد نے ابھی تک 38 شناختی کارڈ بنائے اور 8 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ 38 شناختی کارڈ میں سے 20 کے پاسپورٹ بھی بن چکے ہیں۔ خفیہ اداروں نے ایک دہشت گرد کی کال ٹریس کی جو دوچار روز بعد پکڑا گیا۔ نادرا سے تحقیق کی گئی تو اس کا شناختی جعلی نکلا،اس کا ٹری میں تعلق بھی نہیں تھا۔
پولیس نے شاہد کو گرفتار کر کے جعلی شناختی کارڈ والے متعدد دوسرے افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔پی ٹے اے کی طرف سے سموں کی بائیو میٹرک تصدیق کا عمل جاری ہے۔اس میں اکثر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شہری لمبی لائنوں میں کھڑے ہونے کے بعد جب انکی باری آتی ہے تو فرنچائز والے کہتے ہیں کہ نادرا کے ریکارڈ میں انکے انگوٹھوں کے نشانات موجود نہیں۔شہریوں کو مختلف حیلے بہانوں سے تنگ کیا جارہاہے۔جبکہ دوسری طرف نادرا ترجمان کے مطابق نادرا کے ریکارڈ میں تمام صارفین کے انگوٹھوں کے نشانات موجودہیں۔فرنچائزز کی مشینری کا نادرا ذمہ دار نہیں ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان