تازہ ترین : 1
Saneha Model Town Kis Ne Kis K Khilaf Sazish Ki

سانحہ ماڈل ٹاؤن

کس نے کس کے خلاف سازش کی !۔۔۔۔ ان حقائق پر جو اس انسانیت کے خلاف جرم کے تحرک میں ابھی تک راز کے دبیز پردوں میں مخفی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ عوام شاید کبھی یہ جان بھی نہ پائیں گے

سلیم بخاری:
سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر ابھی تک اسکا کوئی منطقی انجام سامنے نہیں آیا نہ ہی عوام کو یہ پتہ چل سکا کہ کس نے کس کے خلاف کیا سازش کی۔ ان حقائق پر جو اس انسانیت کے خلاف جرم کے تحرک میں ابھی تک راز کے دبیز پردوں میں مخفی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ عوام شاید کبھی یہ جان بھی نہ پائیں گے کہ یہ پلان کہاں بنا اور کیوں بنا تھا۔
گزشتہ برس پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جو کچھ ہوا وہ ویسے تو تاریخ کا حصہ بن چکا ہے مگر 17 جون 2014ء کو ایک معمولی نوعیت کا واقعہ کیسے خونی حادثے کی شکل اختیار کرگیا اس پر بہت سے سوال ایسے ہیں جن کے جوابات سامنے نہیں آئے۔ ادارہ منہاج القرآن اور اسکے سربراہ علامہ طاہرالقا دری کی رہائش گاہ کے سامنے بیرئرز ہٹانا اتنا بڑا واقعہ نہیں تھا کہ اس کی پادا ش میں درجن پھر لاشیں گرا دی جائیں اور درجنوں افراد کو زخمی کر دیا جائے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ الیکٹرانک میڈیا کے کیمروں کے سامنے ہوا جسے گھروں میں بیٹھے لاکھوں افراد نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ درج ذیل سطور میں یہی کوشش کی جائے گی کہ ان پوشیدہ عوامل کو سامنے لا کر یہ سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے کہ درحقیقت اس پورے سانحہ میں کس کا کیا کردار تھا اور کون کس کے کہنے پر کیا کر رہا تھا۔ مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کیا جائے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ 30 مئی 2014ء کو لندن میں علامہ قادری، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے درمیان ہونے والی ملاقات میں جو کچھ طے ہوا سانحہ ماڈل ٹاؤن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اس ملاقات میں آئی ایس آئی کا ایک سابق اعلیٰ افسر بھی شریک تھا۔ کچھ کا ماننا یہ ہے کہ وہ جنرل شجاع پاشا تھا۔
اس ماقات کو بعد میں لندن پلان کا نام دے دیا گیا۔ اس ملاقات سے قبل علامہ قادری کینڈا میں بیٹھ کر پاکستان میں اسلامی انقلاب لانے کی باتیں کر رہے تھے اور خود کو آیت اللہ خمینی سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے نوازریف اور انکے بھائی شہباز شریف کے بارے جو اشتعال انگیز گفتگو کی وہی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی بنیاد بنی۔ علامہ قادری نے ٹارزن کے سے انداز میں اپنی واپسی کا اعلان کیا اور اپنے کارکنوں کو انقلاب کے راستے پر چلتے ہوئے راستے کی ہر دیوار کو گرانے کی ترغیب دی لہٰذا کارکن پوری طرح بپھرے ہوئے تھے جس کا اندازہ لگائے بغیر ڈی سی او لاہور نے منہاج القرآن اور علامہ کی رہائش گاہ کے باہر لگے بیرئرز کو ہٹانے کا احمقانہ فیصلہ کیا۔
اس فیصلے کو احمقانہ کہنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حالات کا جائزہ لئے بغیر اور علامہ کی طرف سے ورکروں کو انقلاب کی نوید کو سنجیدگی سے نہ لیکر اتنا بڑا فیصلہ کر لیا گیا جس نے ایک ایسی صورت حال کی بنیاد رکھی جسے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر بھی سنبھال نہ سکیں اور وزیراعظم کے علاوہ وزیراعلیٰ کئی وزیروں اور مشیروں کے خلاف قتل کے مقدمات قائم ہوگئے۔
آگے چل کر یہی سانحہ دھرنا سیاست میں تبدیل ہوا جس نے مسلم لیگ (ن) کی وفاق اور پنجا میں حکومتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور عوامی تحریک کے سربراہ کی خواہ پر ایک ایسی ایف آئی آر درج ہوئی جس میں نوازشریف، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ خواجہ سعد رفیق کو نامزد ملزم قرار دیا گیا۔ اب ذرا سانحہ کی نوعیت پر غور کرلیا جائے ۔ 16 اور 17 جون کی درمیانی شب ڈی سی او لاہور کی سربراہی میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے بلڈوزروں کے ساتھ پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ ماڈل ٹاؤن میں واقع منہاج القرآن کے دفتر اور علامہ طاہر القادری کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا اور جواز یہ پیش کیا کہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہاں قائم بیریئرز ہٹا دئیے جائیں۔
آپریشن کے پہلے مرحلے میں جسے تمام ٹی وی چینلز لائیو دکھا رہے تھے پولیس اور دیگر عملہ ان بیریئرز تک پہنچنے میں ناکام رہا اور کارکنوں کی طرف سے خاصی مزاحمت کا سا منا کرنا پڑا۔ یہ ساراآپریشن مانیٹر کرنے کیلئے جو آپریشن کنٹرول روم بنایا گیا تھا وہاں یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی تھیں کہ مشتعل کارکنوں نے کچھ پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے ان سے اسلحہ چھین لیا ہے اور ان کی وردیاں اتروا کر انہیں میڈیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔
اس نے صورت حال کو اور بھی سنگین بنا دیا۔ لہٰذا دوپہر کے بعد پوری قوت کے ساتھ جب آپریشن دوبارہ شروع ہوا تو معاملہ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ پولیس کو بھاری مزاحمت کا سامنا تھا اور مشتعل کارکن پولیس والوں پر پتھر زنی کرنے کے ساتھ ساتھ لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے حملہ آور ہو رہے تھے اور ایک مرحلہ ایسا آیا کہ گولی چلانے کی آواز آئی۔ آج تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سب سے پہلے فائرنگ کس نے کی۔
میڈیا کی آنکھ نے ملحقہ عمارتوں کی چھتوں پر کچھ افراد کو سول کپڑوں میں اسلحہ سمیت دیکھا جن میں سے کچھ نے فائرنگ بھی کی۔ عوامی تحریک کا کہنا ہے کہ سفید کپڑوں میں پولیس والے تھے جبکہ پولیس کا موقف یہ ہے کہ وہ عوامی تحریک اور مجلس وحدت مسلمین کے مسلح دہشت گرد تھے جو برائے راست علامہ ناصر عباس کی ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔ اس دن جو کچھ ہوا کیسے 10 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے اور درجنوں گولیوں کا شکار ہو کر زخمی ہوئے یہ سب اب ریکارڈ کا حصہ ہے۔
میڈیا نے گلو بٹ کی کارروائی کو تو درجنوں بار دکھایا مگر کاموکی میں 55 پولیس والوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر 15 گاڑیوں کو نذر آتش کرنا، بھکر تھانہ کا گھیراؤ کر کے پولیس ملازمین پر تشدد کی فوٹیج کہاں گئی یہ ابھی صیغہ راز میں ہے مگر اس سے میڈیا کی غیر جانبداری مشکوک ہو جاتی ہے۔ 17 جون کو وزیراعلیٰ شہباز شریف نے 80 ماڈل ٹاؤن میں سینئر ایڈیٹرز سے ملاقات کی۔
اس کے دوران وہ بہت دکھی دکھائی دے رہے تھے اور انہوں نے حلفاً اس سانحے کے آغاز بارے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا کہ انہوں نے اس نوعیت کے کسی آپریشن کی منظوری نہیں دی تھی۔ انہوں نے لاہور میں اس روز جو کچھ بھی ہوا اسے انسانی المیہ قرار دیا۔ وہ صورت حال کو درست کرنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے مگر عمران خان اور شیخ رشید میڈیا کے ذریعے عوام کو اکسا رہے تھے اوریوں انکی خواہش دل ہی میں دم توڑ کر رہ گئی۔
اس کے بعد عدالتی معاملات طول پکڑتے چلے گئے۔ پہلی جے آئی ٹی نے سارا ملبہ پنجاب حکومت وزیراعلیٰ اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ پر ڈال دیا۔ دوسری جے آئی ٹی رپورٹ نے اب تینوں کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے اور معاملہ عدالتی فیصلے پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اب کچھ مخفی رازوں کی طرف آتے ہیں۔ پہلا اور اہم سوال یہ ہے کہ علامہ قادری اچانک دھرنا چھوڑنے پر مجبور کیوں ہوئے اور توقع کے عین مطابق بیماری کا جواز بنا کر کینیڈا کیسے چلے گئے۔
کچھ لوگوں کو یقین ہے کہ کوئی سودے بای ہوئی ہے ورنہ ایک ایسا شخص جو اعلان کر رہا ہو کہ دھرنے سے واپس آنے والے کو شہید کر دیا جائے جو نعرہ لگ رہا ہو کہ حکومت کے خاتمے، نوازشریف، شہباز شریف کی حکومتوں کے خاتمے سے کم وہ کسی اور بات پر دھرنا ختم کرنے پر آمادہ نہ ہو نگے وہ اتنی آسانی سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گوشہ عافیت کینیڈا تشریف لے گئے یہ بھی کہا گیا اور کہا جا رہا ہے کہ علامہ نے دیت قبول کرنے سے انکار کرنے کے باوجود حکومت سے 7 ار ب روپے ہرجانہ وصول کیا ہے جس کا ابھی تک کوئی منطقی جواب نہیں دیا گیا۔
علامہ جلد واپسی کے لئے بھی بے قرار نظر نہیں آتے۔ مرنے والوں کے لواحقین اور ورثاء بھی کوئی شور و غوغا نہیں کرتے تو پھر یہ سب کیا ہے۔ دھرنا تحریک کے دوران جو افراد علامہ قادری کے اردگرد دکھائی دیتے اور بڑی جذباتی تقاریر کرتے تھے وہ علامہ موصوف کی شان میں اب جو گفتگو کرتے ہیں وہ لائق شنید نہیں۔ رانا ثناء اللہ جو پورے طمطراق سے دوبارہ وزارت کے منصب پر فائز ہو چکے ہیں نے میرے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ دھرنوں کے د وران اور ان کے بعد وہ علامہ قادری سے مذاکرات کا حصہ رہے ہیں مگر اسکی تفصیل بتانے سے معذور ہیں کیونکہ انہوں نے رازداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن نے جہاں مسلم لیگ (ن) کو دباؤ میں رکھا وہیں علامہ قادری اور عمران خان کے غباروں سے بھی ہوا نکال دی ہے۔ اس حقیقت میں بھی اب ذرہ بھر شبہ کی گنجائش نہیں کہ دھرنوں نے جس طرح حکومت کو حواس باختہ رکھا اسکا سارا کریڈٹ عمران خان اور علامہ قادری کو نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کا سہرا زیادہ تر مجلس وحدت المسلمین کے ان کارکنوں کے سر ہے جنہوں نے تمام تر مخدوش حالات کے باوجود ثابت قدم رہنے کا تہیہ کئے رکھا ورنہ جس طرح پاکستان تحریک انصاف کے متوالے باقاعدہ تیار ہو کر بوقت شام میلہ دیکھنے آتے تھے یہ دھرنے چند ہفتوں بھی جاری نہ رہ سکتے تھے۔
تاہم اس پوری صورت حال کے ایک اور پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ تمام تر اشتعال انگیزی کے باوجود فوج نے جمہوری سیٹ اپ کو نہیں چھیڑا اور آج بھی ایک منتخب حکومت قائم ہے۔ عمران خان نے دھرنوں سے قبل اور انکے دوران جو زبان استعمال کی اور جو انداز اپنایا اس سے تو یہ یقین کرنا آسان تھا کہ فوج مکمل طورپر تبدیلی کے حق میں ہے۔ ایمپائر انگلی کھڑی کرے گا تو نوازشریف حکومت کا تختہ ہو جائے گا یا پھر ایمپائر کل انگلی کھڑی کر دے گا وہ جملے ہیں جنکو سمجھنے میں کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں اور جب عمران خان اور طاہرالقادری باچھیں کھلا کر مذاکرات کے نام پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملنے گئے تھے وہ کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔
یہ الگ بات کہ جنرل راحیل نے بھی انہیں نوازشریف کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مشورہ دیا اور یہ دونوں رہنما اپنے ان دعوؤں کے باوجود کہ حکومت سے مذاکرات کسی صورت ممکن نہیں دم دبا کر کنوشنسینٹر پہنچ گئے جہاں حکومتی ٹیم ان کی منتظر تھی۔ علامہ قادری تو اپنے معاملات طے کر کے عازم لندن ہوئے اور بعد ازاں ٹورنٹو جا بسے جبکہ عمران خان کچھ عرصہ کنٹینر سے خالی سڑکوں کو مخاطب کرتے رہے اور حماقت میں کئی بار یہ دعویٰ بھی دہراتے رہے کہ اگر انہیں اکیلے بھی دھرنا دینا پڑا تو وہ اجتناب نہیں کریں گے۔
ان کے لئے اپنی غیرت بچانے کا موقع اس وقت میسر آیا جب انسانیت کے دشمنوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کر کے سینکڑوں معصوم بچوں کو شہید کر دیا۔ اس بزدلانہ کارروائی کے بارے میں آئی ایس پی آر کی طرف سے جوگیت فلمایا گیا اس کے ایک جملے میں اتنی طاقت تھی کہ بزدل دشمن آج بھی منہ چھپاتا پھر رہا ہوگا۔ ”بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے ڈرتا ہے“ علامہ طاہرالقادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ابتدا سے لیکر اپنی تیسری جلاوطنی تک جس مقدار اور جس رفتار سے جھوٹ بولے ہیں اسکی کوئی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے لاہور کے واقعے میں دعویٰ کیا کہ سینکڑوں افراد کو گولیوں سے بھون دیا گیا جو بعد میں دس سے چودہ ہلاکتوں تک محدود رہی۔ اسی طرح انہوں نے اسلام آباد میں درجنوں افراد کے قتل کئے جانے کا دعویٰ جبکہ ایف آئی آر درج کرانے تک یہ تعداد صرف دو رہ گئی۔ پھر انہوں نے وزیراعظم ہاؤس پر یلغار کر کے اسے اپنے ورکروں پر پولیس تشدد کا نام دے دیا۔
پی ٹی وی ہیڈ کواٹر پرقبضہ کے موقع پر اپنے ورکروں کو مبارکباد جس کی وڈیو موجود ہے اور اب بارے پولیس کچھ بیاں ہو جائے۔ یہ واحد محکمہ ہے جو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہر لحاظ سے معیوب قرار پاتا ہے۔ حکومت کی مانے یا ساتھ دے تو حزب مخالف کے زیرعتاب اور اگر خاموش تماشائی بن جائے تو عذاب کی مستحق ،دھرنوں کے دوران اگر پولیس افسران نے فائرنگ کرنے سے گریز کیا تو قابل تعزیر یا الہی یہ ماجرا کیا ہے۔
ایس ایس پی محمد علی نیکو کار کو نوکری سے صرف اس لئے ہٹا دیا گیا کہ اس نے جلوس پر گولی چلانے کی ہدایت تسلیم نہیں کی تھی۔ اسلام آباد کے سابق آئی جی آفتاب چیمہ بھی ایسے ہی جرم کی پاداش میں زیر عتاب ہیں۔ حکومت کو یہ علم ہونا چاہیے کہ پولیس افسران کے خلاف ایسے انتہائی اور ناجائز اقدامات ایک دن ضرور اس کے گلے پڑیں گے۔ حکومت اگر اپنی حاکمیت ثابت کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنے اداروں اور افسران کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔
بصورت دیگر وہ ہر گزرے دن کے ساتھ کمزور سے کمزور ہوتی چلی جائے گی۔ رانا ثناء اللہ جو ایک مرتبہ پھر پنجا ب حکومت میں اہم عہدے پر فائز ہوگئے ان پر لازم ہے کہ محکمہ پولیس میں پھیلی بددلی کا نوٹس لیکر اس کا اعتماد بحال کریں۔ ہر ذی شعور انسان کو حکومتی دہشت گردی اور ظلم و تشدد کی مذمت کرنی چاہیے تاکہ کوئی بھی انسانی جانوں سے خون کی ہولی کھیلنے کا تصور بھی نہ کرے مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ ایسے افراد کی گرفت بھی ہونی چاہیے جو اپنے کارکنوں کی لاشوں کا سودا کر کے خود اپنے اوپر جلا وطنی طاری کرے۔
علامہ قادری کو یہ جواب دینا ہوگا کہ اگر انہوں نے دیت یا قصاص وصول نہیں کیا تو شہدا کے ورثاء سراپا احتجاج کیوں نہیں اور وہ کہاں ہیں اور شیخ رشید جنہوں نے گھراؤ جلاؤ اور قتل کر دو جیسے نعرے ایجاد فرمائے تھے اور جن کی سیاست صرف ٹی وی سکرین تک محدود ہے اب کہاں ہیں۔ کتنی بار وہ دھرنوں کے دوران قتل غارت گری کا شکار ہو کر شہید ہونے والے کارکنوں کے گھر جا کر ان سے تعزیت یا ان کی مالی مداد کر چکے ہیں۔
چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی بھی یقینی طور پر دھرنوں میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے پر شرمندہ ہونگے کہ علامہ قادری اور عمران خان نے معاملہ بندی کرتے ہوئے انہیں مشاورت کے قابل بھی نہیں سمجھا۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تلخ یادیں ذہنوں سے محو ہوتی جا رہی ہیں مگر ان کے لئے جن کے جوان شہید ہوئے ان کے زخم بھرنے میں شاید کافی عرصہ درکار ہوگا۔
نوازشریف، شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو صرف اس پر خوش نہیں ہونا چاہیے کہ جی آئی ٹی نے انہیں بے گناہ قرار دے دیا ہے۔ اس سانحے کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا۔ یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور انصاف کا تقاضا بھی۔ اسی طرح عدالتوں پر بھی لازم ہے کہ وہ حکومتی دباؤ سے بالاتر ہو کر انصاف کو یقینی بنائیں اور وہ افراد جو انسانیت کے خلاف اس جرم کا کسی صورت بھی حصہ رہے ہیں سزا سے نہ بچ سکیں۔
مٹ جائیگی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو توپھر حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
وقت اشاعت : 2015-06-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں