تازہ ترین : 1
Rana Sanaullah  ke Paishkash Tahir ul Qadri ke liye Lamha Fikriya

رانا ثناء اللہ کی پیشکش طاہر القادری کیلئے لمحہ فکریہ!

سانحہ ماڈل ٹاؤن قرآن تک پہنچ گئی،نشتند،گفتندبر خاستند اے پی سی پھوکا فائر ثابت ہوئی۔

اسرار بخاری:
عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے نام پر طلب کردہ آل پارٹیز کانفرس کے حوالے سے قیاس آرائیوں کے تیر چلائے جارہے تھے کہ اس کانفرس سے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک طوفان خیز صورتحال جنم لے گی مگر کانفرس کے اختتام پر جو مشترکہ علامیہ سامنے آیا اور اس سے کانفرس کے جو خدوخال سامنے آئے یہ نشتند گفتند اور برخواستندکے تاثر کو جنم دے رہے ہیں کیا اس کانفرس کو پیپلز پارٹی اورتحریک انصاف نے ہائی جیک کرلیا تھا مشترکہ اعلامیہ کے دس نکات میں سے ایک بھی عوامی تحریک کی جانب سے پیش نہیں کیا گیاان دس نکات میں سے پانچ تحریک انصاف کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی اور باقی پانچ نکات پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر مقرزمان کائرہ نے پڑھ کر سنائے عوامی تحریک کے کانفرس کا خرچہ پانی برداشت کیا دلچسپ بات یہ ہے کہ کانفرس میں شریک جماعتوں کی اکثریت بلاتفرق احتساب اور آزاد کے حق میں نہیں ہے اس لئے یہ دونوں ادارے اگر اپنے مینڈیٹ کے مطابق صحیح کام کریں گے تو یہ سب اس کی لپیٹ میں آئیں گے میڈیا رپورٹ کے مطابق آل پارٹیز کانفرس نے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان کے استعفے کی مہلت 7 جنوری تک بڑھادی مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے 7 جنوری تک استعفے نہ آئے تو پھر اے پی سی می بنائی گئی سینیٹرنگ کمیٹی کا 8 جنوری کا اجلاس بلا کر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اعلامیہ شاہ محموم قریشی نے پڑھ کر سنایا کانفرس نے نجفی کمشن رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا اور کہا گیا کہ عدالتی کمشن نے وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون کو ذمہ دار ٹھہرا دیا دونوں رہنما عہدے چھوڑ کر خود کو قانون کے حوالے کریں دس نکاتی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کی پرزور مذمت کرتے ہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن اورختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کی پرزور مذمت کرتے ہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن ریاستی دہشت گردی کا بدترین نمونہ ہے ذمہ داروں کو مستعفی ہونا ہوگا ماڈل ٹاؤن میں شہید اور زخمی ہونے والے پاکستان کے شہری ہیں انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا تمام جماعتوں کی ذمہ داری ہے انصاف کی فراہمی عدل اور قانون کی بالادستی کیلئے سنگ میل ثابت ہوگی شہداء کے ورثا 3 سال میں صرف جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ حاصل کرسکے شہباز شریف و دیگر ملزمان کے برسر اقتدار رہتے ہوئے شفاف تحقیقات مکمل نہیں ہوسکتیں 125 پولیس افسران کے سمن ہونے کے باوجود ایک کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا چیف جسٹس سے مطالبہ کیا گیا کہ مکمل تفشیش کے لیے غیر جانبدار جے آئی ٹی تشکیل کا حکم دیں جس کا مانیٹرنگ سپریم کورٹ کا ایک معزز جج خود کرے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں اور قومی دولت لوٹنے والوں کو این آر او نہ دیا جائے قمر زمان کائرہ لطیف کھوسہ اورکامل علی آغا سینئرنگ کمیٹی کو آر ڈی نیٹر ہوں گے ناصر شیرازی سردار عتیق خرم نواز گنڈا پور اور جہانگیر ترین بھی کمیٹی تشکیل میں شامل ہوں گے اجلاس میں شاہ محمود قریشی اور قمر زمان نے مشترکہ کو اعلامیہ کو قرار دی شکل میں پیش کیا اس کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اعلامیہ قداس کے حصول کے لیے ہے سیٹئرنگ کمیٹی کے ساتھ پاکستان کی طاقت ہوگی شہداء کے ورثا دلانا پوری قوم کی ذمہ داری ہے اور مشترکہ جدوجہد سے قانون کے انجام تک پہنچایا جائے گا 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن صرف پاکستان عوامی تحریک نے دی تھی تمام سیاسی جماعتوں کو اب اس میں شریک کیا گیا ہے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کا مطالبہ اب تمام جماعتوں کا ہے اور ہمارا اجتجاج لاہور یا کسی اور جگہ بھی ہوسکتا ہے اجتجاج کی تیاری کے لیے سیاسی جماعتوں کو وقت درکار تھا اجتجاج کس قسم کا ہوگا اس کا فیصلہ 8 جنوری کو کریں گے ایک ممکنہ فیصلہ ملک گیر اجتجاج اور دھرنے کا عمل بھی ہوسکتا ہے اے پی سی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن اور ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کی پرزو مذمت کی چیف جسٹس خود نوٹس لے کر غیر جانبدار کمشن بنائیں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ن لیگ کی قیادت پولیس اور پنجاب حکومت کے اہلکار ملوث ہے تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں ذاتی سیاسی مقاصد کے لیے سوا فراد کو گولیوں سے زخمی کیا گیا جس میں سے 14 شہید ہوئے اسمبلیوں سے استعفوں کی قرارداد منظور کرائی جائیں گی ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی آئین پاکستان پر بھی حملہ ہے نواز شریف اور مسلم لیگ ن بطور جماعت اس قانونی دہشت گردی میں ملوث ہے ایمان کے بنیادی اساس پر حملے کے ماسٹر مائینڈ تاحال منظر عام پر نہیں لائے گے ختم نبوت کے خلاف حلف نامے میں تبدیلی کے ذمے داروں کو کئی سزا نہیں ملی مسلم لیگ ن اقتدار پر مسلط رہنے کا جواز کھوچکی جب تک حلف نامے کی تبدیلی میں ملوث زمے داروں کو سزا نہیں ملتی یہ تنازع رہے گا اے پی سی ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کے ذمہ داروں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کرتی ہے ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی نطام عدل قانون کی بالادستی کے لیے سنگ میل ہوگی اے پی سی نے مطالبہ کیا کہ قومی دولت لوٹنے والوں کو این آر او نہ دیا جائے ایم کیو ایم کا وفد قرارداد سے قبل ناراض ہوکر اجلاس سے چلا گیا انہیں اعلامیہ پر تحفظات تھے ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذمے دار ٹھہرانے پر اعتراض ہے تحقیقات کے بغیر سانحے کی ذمہ داری کسی پر نہ ڈالی جائے اعلامیے میں ناموں کی بجائے ذمے داروں کا لفظ استعمال کیا جائے اے پی سی جے آئی ٹی کا مطالبہ کررہی ہے اور ذمے داروں کا تعین بھی سپریم کورٹ جے آئی ٹی بنانے ذمے داروں کا تعین کرے تو پھر کسی کا نام نہ لیا جائے کمیٹی نے ہمارے اعتراضات مسترد کرکے اعلامیہ جاری کردیں دریں اثناء عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم سے کوئی اختلافات نہیں اے ہی سی کے اعلامیے میں متحدہ کی تجاویز شامل ہیں ان کے تحفظات کے حوالے سے خبروں میں صداقت نہیں قبل ازیں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کو سڑکوں پر آنا ہوگا۔
صوبائی وزیر قانون پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خاں نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 کروڑ دیت دینے کی کوشش کی مگر کہا گیا رقم کم ہے ماڈل ٹاؤن کا واقعہ کسی مطلوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا صرف اس موقع پر پیدا ہونے والی صورتحال سے پیش نظر ایک حادثہ تھا طاہر القادری کی آل پارٹیز کانفرس میں شامل جماعتیں نواز شریف سے خوفزدہ ہیں مقصد سانحہ ماڈل ٹاؤن کو بنیاد بناکر مسلم لیگ ن کی سیاست کو ختم کرنا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز گفتگو کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا معاملے پر عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور سے بات چیت چلتی رہی لیکن انہوں نے رقم ڈبل کرنے کا اور پولیس سے تصادم کرایا طاہر القادری لاشوں پر سیاست کررہے ہیں قوم کو بیوقوف بنانے کے خواہاں ڈاکٹر طاہر القادری ان کی پارٹی کے تضادات سامنے ہیں جو مقدمہ عوامی تحریک کی طرف سے محمد جواد حامد نے ایف آئی آر نمبر 14/696 درج کروایا اس میں موقف اختیار کیا کہ ڈی سی آئی جی آپریشن عہد الجبار نے کہا کہ مجھے میاں شہباز شریف رانا ثناء اللہ نے حکم دیا کہ قادری خاندان کا نام و نشان خواہ کتنی ہی جانیں لینا پڑیں لیکن تقریباً دو سال بعد جو استغاثہ وائر کیا اس میں ایف آئی آر کے موقف سے بالکل الٹ موقف استغاثہ کے پیرا نمبر12 اور14 میں اختیار کیا گیا ہے جو ساری کہانی کو من گھڑت بے بیناد اور سازش پر مبنی اور سیاسی مقاصد ثابت کرتا ہے ایف آئی آر نمبر 14/696 میں عوامی تحریک سے 24 افراد پولیس ملازمین حکومتی عہدیداران سیاسی افراد کو نامزد کیا انہوں نے کہا کہ مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت تھا فریقین اپنا اپنا موقف پیش کرنے میں آزاد اور عدالتی فیصلے کے پابند ہیں تاہم اپنی کرتوتوں سے کیس خراب کرنے والی عوامی تحریک خائف ہے کہ فیصلہ ان کے خلاف آئے گا اس لئے عدالت کی بجائے اجتجاجی سیاست کررہے ہیں اپوزیشن کی جانب سے میرے استعفیٰ کے مطالبہ کی خواہش ساڑھے چار سال سے پوری ہوئی نہ 2018 کے انتخابات سے قبل پوری ہوگی ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر کسی کو گنہگار قرار نہیں دیا جاسکتاباقر نجفی کی رپورٹ پبلک ہوچکی جس میں کسی کو گناہ گار نہیں ٹھہرایا گیا اپوزیشن یہ رپورٹ لیکر عدالت جائے پنڈی کا شیطان جتنا مرضی شور حدیبیہ کیس ہمیشہ کے لیے بند ہوچکا ہے دوسری طرف خرم نواز گنڈا پور نے تمام الزمات مسترد کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کو ڈبل آفر کردی انہوں نے کہا کہ 10 کروڑ کیا چیز ہے اتنے کا تو ایک پلاٹ آتا ہے ڈبل آفر کرتا ہوں یہ بندے دیں ہم ایک ایک بندے کا 10 کروڑ دیں گے انہوں نے کہا کہ وقت بتائے گا جب ان کو پھانسی ہوگی اس دن پتہ چلے گا کہ کون ڈیل والا ہے اور کون نہیں اے پی سی میں بیٹھنے والوں کے آپس میں اختلافات ہیں ان کی آرزو پوری آرزو پوری نہیں ہوگی کوئی بہت شقی القلب ہوگا جو ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو انصاف ملنے کی مخالفت کرے گا ان کا آئینی و قانونی حق ہے انہیں انصاف ملنا چاہیے لیکن حصول انصاف کے لیے ائینی و قانونی طریقوں کو اختیار کیا جاتا ہے دھرنوں مظاہروں اور اجتجاجوں سے زیادہ قانونی جنگ لڑنی پڑی ہے رائج قانونی تقاضوں کو پورا کرنا پڑتا ہے ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے اتنی پارٹیوں کا ایک جگہ جمع ہونا مظلوموں سے اظہار ہمدردی کا قابل تحسین مظاہرہ سمجھا جاسکتا ہے مگر کیا اس منظر کو دیکھ کر ان لواحقین کے دل و دماغ میں یہ سوچ جکھڑ بن کر حشر برپا کرے کہ کیا وہ جو نشتر پارک میں 56 بے گناہ افراد گولیوں کا نشانہ بنے اور جو کراچی میں وکلا کو جلا دیا گیا اور وہ جو بلدیہ ٹاؤن کراچی میں ڈھائی سو افراد جل کر راکھ کردئیے گے وہ اظہار ہمدردی کے مستحق نہیں ہے کیا وہ بھی اتنے ہی پاکستانی نہیں تھے وہ بھی اتنے ہی بے گناہ نہیں تھے کیا ان کے پیاروں ان کے لواحقین کے کلیجے اتنے ہی زخمی نہیں ہوئے تھے اس لئے اگر(ن) لیگ کے حلقوں کی جانب سے اس آل پارٹیز کانفرس کو لاشوں کی سیاست کا نام دیا جائے تو اس کی تردید میں کیا دلیل دی جاسکتی ہے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جمعرات کے روز پریس بریفنگ میں جو چشم کشا حقیقتیں بیان کی ہے جن کا خلاصہ ہے کہ امریکہ مہم جوئی پر اترا ہو اہے پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کے لیے داعش اور پی ٹی پی کے لوگوں کو خصوصی تربیت دی جارہی ہے بھارت سے سرجیکل سٹرائیک کرانے اور سی پیک منصوبوں پر ڈرون حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اگرچہ پاکستان کی مسلح افواج نے اس مہم جوئی سے نمٹنے کے لئے پوری تیاری کرلی ہے تاہم صورتحال سنگین ہے اور اس کے خلاف پوری قوم کا متحد ہونا بھی ضروری ہے جس امریکی مہم جوئی کی نشاہدی کی گئی ہے اس ناپاک منصوبے کا ایک حصہ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا بھی ہے۔
لہٰذا لمحات میں موجود میں حب الوطنی کا تقاضا ہے ہر ایسے عمل سے گریز کیا جائے جس کے بطن سے عدم استحکام جنم لے سکتا ہو ان حالات میں ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کی جانب سے سڑکوں پر آنے تحریکیں چلانے کے منصوبے لاشعوری یا دانستہ طور پر ملک میں عدم استحکام کے غیر ملکی ایجنڈے کی تقویت کا باعث بن سکتے ہیں پھر ایسی صورت میں جبکہ عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے حصول انصاف کے لیے اس کے دروازے چوپٹ کھلے ہیں ڈاکٹر طاہر القادری تحریکیں چلانے کی بجائے عدلیہ پر بھروسہ کیوں نہیں کررہے ہیں باقر نجفی رپورٹ کے لئے ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی وہ رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی مقصد واقعی شہدائے ماڈل ٹاؤن کے لواحقین کو انصاف دلانا ہے تو پھر ساری توجہ عدالت پر مذکور کرنے کی بجائے تحریکیں چلانے کا جواز کیا ہے کیا عدالت پر اعتماد نہیں کہ باقر نجفی رپورٹ کی روشنی میں انصاف پر مبنی فیصلہ کیا جائے گا اس حوالے سے عمران خان اور آصف زرداری کا ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریکوں کا حصہ بننا محفل سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے سوا کچھ نہیں ہے دوسرے اگر نوا ز شریف سے پرخاش ہے تو اب حکومت نواز شریف کی نہیں شاہد خاقان عباسی کی ہے جو ملکی دفاع کے لیے قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ مکمل طور پر ایک صفحہ پر ہے موجودہ حالات میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے بھی توقع کی جانی چاہئے کہ وہ تحریک عدل وغیرہ جیسے معاملات کی بجائے مقدمات پر سنجیدگی سے توجہ دیں ان کے کسی قول و فعل سے ملک میں عدم استحکام کی راہ ہموار نہیں ہونی چاہیے اور خیال رکھیں ملک کو ایٹمی قوت بنانے موٹر ویز بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے سی پیک جیسے عظیم منصوبے کو حقیقت بنانے جیسے اقدامات کو ان کے ہی کسی عمل سے نقصان نہ پہنچ جائے پیر حمید الدین سیالوی لائق احترام ہیں وہ جیسی بھی تحریک چلائیں یہ ان کا آئینی حق ہے مگر یہ خیال ضرور رکھیں کہ ان کے جذبہ حب رسول کو سیاسی بازیگر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے نہ اچک لیں میں نے تحریک نظام مصطفی میں ایسی باپردہ خواتین کومال روڈ پر لاٹھیاں کھاتے دیکھا ہے جنہوں نے ناگریز ضرورت کے بغیر کبھی گھر کی دہلیز پار نہیں کی تھی مگر یہ سب سیاسی مقاصد کی بھینٹ پر چڑھ گیا تھا۔
پاکستان بنانے میں دیگر مکاتب فکر اور طبقات کے ساتھ علمائے اہلسنت کے کردار تاریخ کا جھومر ہے جس کا تحفظ بھی علماء اہلسنت کی ذمہ داری نہیں فریضہ ہے خبردار امریکہ اور بھارت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی جو سازشیں کررہے ہیں فوج کے ترجمان نے پوری دنیا کے سامنے کھول کر بیان کردی ہے،اسے نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیا جائے ہٹلر کا بیان ہے کسی ملک کو شکست دینی ہو اس کی فوج اور عوام میں فاصلے پیدا کردئیے جائیں بھارت پاکستان کے لیے اس حوالے سے بھی ناپاک عزائم رکھتا ہے بیوروآف پولیٹیکل ریسرچ انیلیسز جو ”را“ کی فرنٹ لائن پبلی کیشن کمپنی ہے کے 30 نومبر کے شمارے میں "pakistan disastrous obsession with india۔
کے عنوان سے شائع شدہ آرٹیکل میں پاکستان کی فوج کے خلاف زہر اگلاگیا ہے کہ پاکستان میں سوبلین تو بھارت سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں فوج نہیں ہونے دیتی اور فوج کی مدد سے پاکستان میں جاری جیوڈیشل ایکٹوازم کے ذریعہ عوام کو باور کرایا جارہا ہے کہ عدلیہ نجات دہندہ ہے مقصد فوج کے حوالے سے عوام میں شکوک و شہبات پیدا کرنا ہے جبکہ قائد نے 21 فروری1948 کو ملیر کینٹ میں ایک رجمنٹ کے افسروں اور جوانوں سے خطاب میں فرمایا اب تم لوگوں کو اس امر کی نگرانی کرنی ہے کہ اسلامی جہموریت اسلامی عدل اجتماعی اور انسانی مساوات کی ترقی خود تمہاری اپنی سرزمین کے اندر ہو ملک میں جہموریت عدل اجتماعی اور انسانی مساوات کی ترقی کے عمل کی نگرانی قائد کی تفویض کردہ ذمہ داری ہے تاہم فوج کی منصبی ذمہ داری ملک کی اندرونی سلامتی اور ملکی سرحدوں کا تحفظ ہی ہے لیکن اس میں مکمل کامیابی تب ہی ممکن ہے جب ملک کے اندر استحکام ہو قائد کی دوررس نگاہوں نے ایسے عزائم بہت پہلے بھانپ لئے تھے 21 مارچ1948 کو ڈھاکہ جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا تھا تمہارے دشمن جب قیام پاکستان کی مہم روکنے میں ناکام ہوگئے تو اب انہوں نے اپنی نامردی سے بدحواس ہوکر اس بات پر توجہ مرکوز کردی ہے کہ خود مملکت پاکستان کو درہم برہم کریں مسلمانان پاکستان کے اندر تفرقہ اندازیاں کریں اور ان کو باہم متصادم کریں کیا دشمن آج بھی یہی سازشی کھیل نہیں کھیل رہے تصور کیا جائے بلکہ ایسے عزائم طشت ازبام ہے کہ ملک میں عدم استحکام کی فضا پیدا کرکے افراتفری اور انتشار کے ماحول میں افغانستان کی جانب سے بلوچستان اور خیبر پی کے اور بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر فائرنگ و گولہ باری میں اضافہ کے ساتھ سرجیکل سٹرائیک کرائی جائے ایسی صورت میں فوج ان سرحدوں کو سنبھالے گی یا اندرونی ملک مخدوش صورتحال پر قابو پانے کے لیے سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی اس لئے یہ فیصلے کی گھڑی ہے کس کے اعمال و کردار دشمنوں کے عزائم میں رنگ بھرنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور کس کی حب الوطنی ان گھناؤ نے عزائم کو خاک میں ملانے مقدس فریضے کو تقویت پہنچاتی ہے کیا یہ تعجب خیز نہیں ہے کہ جب عدالتی افعال سیاسی عمل جاری اور پارلیمنٹ موجود ہے تو مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر مظاہروں دھرنوں اور اجتجاجوں کا چلنا کیوں اختیار کیا جائے عدلیہ پر تو ظاہر ہے کوئی کنٹرول نہیں ہے وہاں سے آئینی اور قانونی طریقے اختیار کرکے ہی سرخروئی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن اگر پارلیمنٹ غیر موثر ادارہ بن چکی ہے تو پیپلز پارٹی تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کو اس سے چمٹنے رہنا کیا ضروری ہے ویسے بھی اب رانا ثناء اللہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قرآن پاک کو درمیان میں لے آئے ہیں طاہر القادری جو اپنے نام کے ساتھ شیخ السلام بھی لکھنے لگے ہیں انہیں کسی موقف کے بغیر یہ پیشکش قبول کرلینی چاہیے رانا ثناء اللہ نے ماڈل ٹاؤن سانحہ کا معاملہ حل کرنے کی پیشکش کی کہ طاہر القادری کے روبرو بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں طاہر القادری پر بیان دیں ہم سے یکنا ہی ثابت کریں کہ ماڈل ٹاؤن سانحہ کی نہ منصوبہ بندی کی اور نہ کسی نے گولی چلانے کا حکم دیا اپنی بے گناہی انکوائری میں ثابت کرچکے ہیں بطورمسلمان یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ رانا ثناء اللہ نے اگر قرآن عظیم پر جھوٹا بیان دیا تو وہ کسی صورت اللہ العظیم کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گی اور اگر طاہر القادری نے قرآنی فیصلے کو ماننے سے اجتناب کیا تو اس کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں کسی شیخ السلام کو سمجھانا سورج کو چراغ دکھانا ہے۔

وقت اشاعت : 2018-01-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں