بند کریں
منگل مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کشمیر بر صغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔۔۔۔
جنرل راحیل شریف نے یوم دفاع کے موقع پر قومی موقف بیان کر دیا۔۔۔جنرل راحیل شریف نے مزید کہا کہ سنہ 1965 کے بعد سے ملک میں بہت اتار چڑھا ؤآئے ہیں لیکن ملک اب پہلے سے زیادہ مضبوط اور قوم پرعزم ہے
مصنف : ذبیح اللہ بلگن
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ کشمیر تقسیمِ برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے اور مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔یوم دفاع پاکستان کی پچاس سالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے ظلم و بربریت برداشت کر رہے ہیں اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔
جنرل راحیل شریف نے مزید کہا کہ سنہ 1965 کے بعد سے ملک میں بہت اتار چڑھا ؤآئے ہیں لیکن ملک اب پہلے سے زیادہ مضبوط اور قوم پرعزم ہے۔جنرل راحیل شریف نے بجا طور پر درست کہا ہے کہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے ۔دراصل صرف کشمیر ہی نہیں دیگر متعدد علاقوں کے معاملے میں بھی ریڈ کلف ایوارڈ نے نا انصافی اور بد دیانتی سے کام لیا تھا ۔
آج اڑسٹھ سال گزرنے کے باوجود اگر بھارت اور پاکستان تنازعات کی زد میں ہیں تو اس کی وجہ بر صغیر کی غیر منصفانہ تقسیم ہی ہے ۔ جنرل راحیل شریف نے بر صغیر کی تقسیم کے حوالے سے درست حقائق بیان کئے ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری سول قیادت بھی ان حقائق کا ادراک حاصل کرتے ہوئے قومی خارجہ پالیسی مرتب کرے۔ذیل میں بر صغیر کی تقسیم کے معاملے میں اختیار کی گئی بد دیانتی اور انصافی کا مفصل ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ روزنامہ”نئی بات“کے قارئین پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے بیان کی حقیقی روح تک رسائی حاصل کر سکیں ۔

ریڈ کلف ایوارڈ اور باؤنڈری کمیشن
3جون کے منصوبے کے تحت بنگال اور پنجاب کی قانون ساز اسمبلیوں کے تقسیم کے حق میں دیے گئے فیصلے کے بعد دونوں صوبوں میں دو باؤنڈری کمیشن قائم کئے گئے جن کا چےئرمین لارڈ ریڈ کلف تھا۔ پنجاب کے باؤنڈری کمیشن میں پاکستان کی طرف سے جسٹس دین محمد، جسٹس محمد منیر جبکہ ہندوستان کی طرف سے جسٹس مہر چند مہاجن اور جسٹس تیجا سنگھ نے نمائندگی کی۔
اسی طرح بنگال کا باؤنڈری کمیشن جسٹس بی کے مکرجی، جسٹس سی سی وسواس، جسٹس ابو صالح محمد اکرم اور جسٹس ایس اے رحمان پر مشتمل تھا۔ سرحدوں کے تعین کے فارمولے کے مطابق مذکورہ کمیشن کے ارکان کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکے کیونکہ انگریز کانگریس کو فائدہ پہنچانا چاہتے تھے۔ لہٰذا 17 اگست 1947ء کو ریڈ کلف نے اپنی طرف سے اعلان کرتے ہوئے بٹالہ، فیروزپور، جالندھر، گورداسپور کے مسلم اکثریتی اضلاع ہندوستان کے حوالے کر دیے۔
اسی طرح بنگال میں بھی پراسرار طور پر سرحدوں کا تعین کرتے ہوئے فارمولے کی خلاف ورزی کی گئی اور کلکتہ کا شہر مرشد آباد ہندوستان کو دے دیا گیا جس سے پاکستان کو6ہزار مربع میل کے علاقے سے محروم ہونا پڑا۔ مسلم لیگ جو پہلے سے چےئرمین کے فیصلے کو قبول کرنے پر متفق ہو چکی تھی نے اسے قبول کر لیا۔ قائداعظم اور مسلم لیگ نے اقوام متحدہ یا پریوی کونسل کے ذریعے حد بندی کے مسائل کو نبٹانے کی تجاویز بھی دیں جنہیں لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کانگریس نے حیلوں بہانوں سے مسترد کر دیا۔
کانگریس اور ماؤنٹ بیٹن نے ایک خفیہ سمجھوتے کے تحت کشمیر اور جونا گڑھ پر قبضہ کرنے کی اسکیم تیار کر رکھی تھی جس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کسی بیرونی ادارے کی موجودگی اس میں رکاوٹ بن سکتی تھی۔ ریڈ کلف جو وائسرائے ماؤنٹ بیٹن کی آشیرباد سے کمیشن کا چےئرمین مقرر ہوا تھا 8جولائی 1947ء کو دہلی پہنچا۔ اس نے چار دن بعد کلکتہ اور پھر لاہور کا دورہ کیا اور واپس دہلی چلا گیا۔
چودھری ظفراللہ جوپاکستان کی طرف سے اس کام میں وکالت پر مامور تھے نے انکشاف کیا کہ ریڈ کلف نے لاہور قیام کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ہوائی جہاز کے ذریعے ایک خاص علاقے پر پرواز کر کے اسے دیکھنا چاہتا ہے۔یہ خاص علاقہ پٹھانکوٹ تحصیل میں مادھوپور ہیڈورکس اور تحصیل گورداسپور بٹالہ اور ضلع امرتسر کے ملحقہ علاقوں پر مشتمل تھا۔
ریڈ کلف کمیشن کے رکن جسٹس دین محمد کو بھی اس دورے پر اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا مگر ان کی صحت نے اجازت نہ دی۔تاریخی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ ماؤنٹ بیٹن 3جون کے منصوبے میں ردوبدل کی ہاں پنڈت نہرو سے کر چکا تھا جس کے مطابق مسلم اکثریت والا ضلع گورداسپور مکمل طور پر پاکستان میں شامل کرنے کی بجائے اسے تقسیم کر کے پٹھانکوٹ کی تحصیل ہندوستان کو دینے کی منافقانہ چال چلی گئی۔
ماؤنٹ بیٹن کی اس ناانصافی اور سازش کی سزا آج تک پاکستان اور کشمیری مسلمان بھگت رہے ہیں۔
پٹھانکوٹ کی تحصیل بھارت کو دینے کا مطلب یہ تھا کہ اسے کشمیر تک راستہ مل گیا۔ اس تحصیل کا شمالی سرا جموں وکشمیر کے علاقے سے ملتا ہے۔ پٹھانکوٹ میں چونکہ ہندوؤں کی اکثریت تھی اس لئے اسے باقی ضلع سے کاٹ کر بھارت میں شامل کرنے کا بہانہ موجود تھا۔
لیکن دیگر کئی مقامات پر اس فارمولے کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔ پاکستانی جج جو کمیشن کے ارکان تھے فوری طور پر یہ سمجھ گئے کہ ریڈکلف اس علاقے کا فضائی دورہ کیوں کرنا چاہتا تھا۔ جسٹس دین محمد نے اپنے موکل ظفراللہ خان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مطالبات مرتب کرنا مسلم لیگ کا کام ہے، میرا کام صرف مطالبات کی وکالت کرنا ہے۔ اس طرح بھارت کی عیاری نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔

ماؤنٹ بیٹن کے پبلسٹی سیکرٹری کیمبل جانسن نے اپنی سوانح عمری میں انکشاف کیا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن کو ریڈکلف ایوارڈ 9 اگست کو دہلی میں موصول ہوا لیکن اس نے اس ایوارڈ، جس میں فیروز پور اور زیرہ کو پاکستان میں شامل کر دیا گیا تھا، میں تبدیلی کر کے بھارت میں شامل کر دیا اور 8 دن بعد 17 اگست کو اسے شائع کیا۔ ریڈ کلف اور ماؤنٹ بیٹن نے جو سلوک پاکستان سے کیا اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح بنگال میں بھی مرشد آباد، کلکتہ شہر اور نادیہ اور بندرگاہ کے علاقے بھی بھارت میں شامل کر دےئے گئے۔ یہ ایوارڈ انتہائی غیرمنصفانہ، ناقابل فہم اور غیر معقول تھا جس سے پاکستان کے ذرخیز ترین علاقے کاٹ کر بھارت کے سپرد کر دیے گئے۔ سب سے زیادہ شدید ضرب ضلع گورداسپور پر پڑی جس کی دو تحصیلیں گورداسپور اور بٹالہ جن میں مسلمانوں کی آبادی 52.1 اور 55.6 فیصد تھی بٹالہ جیسے صنعتی شہر سمیت بھارت میں شامل کر دی گئیں۔
لیکن پٹھانکوٹ کو جس اصول کے تحت بھارت میں شامل کیا گیا اس اصول کو امرتسر کی تحصیل انبالہ جہاں 60 فیصد مسلم آبادی تھی کو بھارت میں شامل کر کے یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ اسی طرح فیروزہ اور زیرہ میں بھی مسلمان اکثریت میں تھے لیکن مختلف حیلوں بہانوں سے ان کو بھارت میں شامل کر کے انصاف کا خون کیا گیا۔ اس کا مقصد سوائے ہندو راہنماؤں کو خوش کرنے کے اورکچھ نہ تھا جنہوں نے پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا تھا اور متحدہ ہندوستان پر حکومت کرنے کے سہانے خواب دیکھے تھے۔
قائداعظم نے باؤنڈری کمیشن کے فیصلے کو غیر منصفانہ اور مکروہ قرار دیتے ہوئے کہا ”ہم اس کو قبول کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں لیکن سرحدوں کے تعین میں ہمیں ضرب لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی“۔
جونا گڑھ، مناؤ اور منگرول
ہندوستان کے جنوب مغربی ساحل پر بمبئی اور کراچی کے درمیان جونا گڑھ کی ریاست واقع تھی۔
اس چھوٹی ریاست کی آبادی کی اکثریت ہندو تھی مگر اس کا حکمران مسلمان تھا جو کہ نواب آف جونا گڑھ کہلاتا تھا۔ تقسیم ہند کے قانون کے تحت اس نے مسلمان ہونے کے ناطے جوناگڑھ کی پاکستان میں شمولیت کا اعلان کر دیا اور اس کی اطلاع قائداعظم کو بھی دے دی۔ قائد اعظم نے 5 ستمبر 1947ء کو الحاق کی باقاعدہ منظوری دے دی اور اس کارروائی سے ہندوستان کو بھی آگاہ کر دیا۔
حکومت ہند کو مناؤ اور منگرول کے نوابوں نے بھی اپنی پاکستان میں شمولیت کے فیصلے سے مطلع کر دیا۔ حکومت ہندوستان نے جوناگڑھ کے نواب اور مناؤ اور منگرول کے شیوخ کے الحاق کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا۔ ہندوستان نے جو استدلال دیا وہ یہ تھا کہ ان ریاستوں کے پاکستان میں شامل ہونے سے بھارت کی علاقائی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا۔ جوناگڑھ کے نواب کو رائے شماری کروانا چاہئے تاکہ وہاں کے عوام کی رائے معلوم کی جا سکے اور یہ رائے شماری ہندوستان اور جوناگڑھ ریاست کی مشترکہ نگرانی میں ہونی چاہئے۔
تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اس سے کچھ ہفتے قبل بھارت کشمیر میں رائے شماری کے اصول کو ٹھکرا کر وہاں کے ہندو راجہ کے الحاق کی خواہش کی رٹ لگا رہا تھا مگر جوناگڑھ کے معاملے میں وہ حکمران کی خواہش کے برعکس عوام کی صوابدید کا پرچار کرنے لگا۔ یہ نظریاتی تضاد درحقیقت ہندوستان کی جارحانہ حکمت عملی کا ایک حصہ تھا۔ اس وقت اس کی حیثیت ایک باؤلے کی مانند تھی جو کہ ہر ایک کو کاٹنے کے لئے پاگل پن میں کبھی ادھر دوڑتا ہے اور کبھی اُدھر۔
بہرحال اس رائے شماری کا مطالبہ تو محض دکھلاوا تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ وہ اس ریاست کو ہڑپ کرنے کے منصوبے پر عمل کرنا چاہتا تھا۔ہندوستان نے احتجاج کے ساتھ اپنی فوجیں ریاست جوناگڑھ میں داخل کر دیں اور اس سے قبل اس نے ریاست کے تمام رسل و رسائل کے ذرائع کو منقطع کر دیا۔ ریلوے اور سڑکوں کو کاٹ دیا گیا جس کے نتیجے میں ریاست کی حیثیت پر برا اثر پڑا۔
ہندوستان نے ایک اور قدم یہ اٹھایا کہ بمبئی میں ایک عبوری حکومت قائم کر دی گئی جس نے رضا کار بھرتی کر کے ریاست کے نظم ونسق کو مفلوج کر دیا۔ پھر اس نے بین الا قوامی رائے عامہ کو دھوکہ دینے کے لئے گفت وشنید کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کی حکومت نے رائے شماری کی تجویز پیش کی مگر ہندوستان نے اس تجویز سے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا۔ ادھر ریاست میں اندرونی حالات انتہائی خطرناک شکل اختیار کر رہے تھے۔
معاشی مقاطع کی وجہ سے ریاست میں ابتری پھیل رہی تھی ۔ ان حالات میں ہندوستان کی حکومت اس کو بزور شمشیر ہڑپ کر گئی۔
یکم نومبر1947ء کو ہندوستانی افواج نے مناؤ اور منگرول کی ریاستوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ 7نومبر 1947ء کو جدید اسلحہ سے لیس بیس ہزار فوج نے ریاست جونا گڑھ کا انتظام سنبھال لیا۔ ریاست پر قبضہ کرنے کے بعد حکومت ہندوستان نے حکومت پاکستان کو یہ اطلاع دی کہ دیوان کی درخواست پر ہندو عوام کی حفاظت کے لئے فوج جونا گڑھ میں داخل ہوئی ہے۔
پاکستان نے اس جارحیت پر احتجاج کیا اور ہندوستانی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا۔ ریاست پر قبضہ کرنے کے بعد بین الاقوامی رائے عامہ کو دھوکہ دینے کے لئے بھارت نے اپنی نگرانی میں رائے شماری کرائی اور یک طرفہ نتائج مرتب کر کے یہ اعلان کر دیا کہ ریاست کے عوام نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔ یہ غاصبانہ قبضہ آج تک قائم ہے اور اب ریاستوں کا الحاق ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے۔
پاکستان میں قائد اعظم کی وفات کے بعد گروہی سیاست نے جنم لیا اور مسلم لیگ کے دور حکومت میں اس جانب کوئی جرأت مندانہ قدم نہ اٹھایا گیا۔ یہ معاملات تا حال اقوام متحدہ میں زیرغور ہیں۔
پختونستان کا شوشہ
قیام پاکستان کے وقت صوبہ سرحد ( آج کا خیبر پختون خواہ)میں ریفرنڈم کروایا جا رہا تھا تو سرحدی گاندھی عبدالغفار خان عوام کو بھارت کے حق میں ووٹ ڈالنے پر آمادہ نہ کر سکے۔
اس لئے رائے شماری کا بائیکاٹ کر دیا گیا جس میں صوبہ سرحد کے عوام سے پاکستان میں شامل ہونے سے متعلق رائے لی گئی تھی۔ اپنے ارادوں میں ناکامی کے بعد انہوں نے پختونستان کا شوشہ چھوڑ دیا اور خان عبدالغفار خان نے اعلان کیا کی پختونستان کے قیام کے لئے زندگی بھر جدوجہد کرتا رہوں گا اور 1930ء میں جن اصولوں پر کاربند تھا آج بھی ان پر عمل پیرا ہوں۔
میرا راستہ قطعی صاف ہے اس راستے سے نہیں ہٹو ں گا۔ خواہ دنیا میں تنہا ہی کیوں نہ رہ جاؤں۔ قائداعظم اور حکومت پاکستان کو اس سیاسی مسئلہ سے بھی نمٹنا پڑا۔
کشمیر کا تنازع
اب ہم جنرل راحیل شریف کے کشمیر کے حوالے سے بیان کو سامنے رکھتے ہوئے ریاست کشمیر پر بھارتی غاصبانہ تسلط کا جائزہ لیتے ہیں ۔ پاکستان کی نئی مملکت معرض وجود میں آئی تو اس کے سامنے سب سے زیادہ اہم اور خطرناک کشمیر کا تنازعہ تھا۔
برصغیر کی تقسیم کرتے وقت تمام اخلاقی اصولوں کو پامال کر کے دھونس و دھاندلی کی گئی اور انگریز ہندوؤں کے ساتھ مل کر ایک ایسا جھگڑا پیدا کر گیا جو دونوں ممالک کے درمیان وجہ کشیدگی بنا ہوا ہے۔3جون 1947ء کے منصوبے کے تحت ریاستوں کو اختیار دے دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان اور ہندوستان میں جس کے ساتھ چاہیں شامل ہو جائیں۔ ریاست جموں و کشمیر بھی دیگر ریاستوں کی مانند آزاد اور خود مختار تھی، اسے بھی حق حاصل تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرے یا ہندوستان کے ساتھ یا وہ خود مختار بھی رہ سکتی تھی مگر عملاً یوں ہوا کہ تمام ریاستیں ہر دو ممالک کے ساتھ الحاق پر مجبور تھیں کیونکہ ان کی علیحدگی کے امکانات کم تھے۔
جموں و کشمیر کی ریاست کی 80 فیصد آبادی مسلمان تھی۔ ریاست کے باشندے اور پاکستانی باشندے نسلاً ایک تھے۔ اس کی سرحد کئی میل پاکستان کے ساتھ مشترک ہے ،ان کی تہذیب وتمدن ایک ہے، ان کی معاشی زندگی کا ایک دوسرے پر انحصار ہے ۔جغرافیائی اعتبار سے جموں وکشمیر پاکستان ہی کا حصہ ہے۔ ماؤنٹ بیٹن نے ریڈ کلف کے ساتھ مل کر پنجاب میں سے کشمیر تک پہنچے کا ایک ایسا راستہ تلاش کیا کہ اس معاملے میں وہ مسلم اکثریت کے علاقے ہندوستان کے حوالے کرنے پر تیار ہو گیا۔
جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ اس نے بھارت کی کشمیر پر قبضہ کی راہ ہموار کرنے کے لئے ریڈ کلف ایوارڈ میں بنیادی ردوبدل یہ کیا کہ بٹالہ، گورداسپور اور اجنالہ کی مسلم اکثریت کی تحصیلیں ہندوستان کے حوالے کر دیں یہ صریحاً دھاندلی اور دریدہ دہی تھی۔کشمیر کی ابتدائی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو بات یوں سامنے آتی ہے کہ انگریزوں نے سکھوں کی پنجاب حکومت کے خاتمے پر ان پر تاوان جنگ عائد کیا۔
لاہور کی سکھ حکومت مطلوبہ رقم ادا نہ کر سکی چنانچہ انگریزوں نے جموں وکشمیر کا سکھ علاقہ گلاب سنگھ ڈوگرا کے ہاں فروخت کر کے لاکھ روپے کی رقم وصول کر لی۔ یہ کشمیری عوام کے ساتھ انگریزوں کی پہلی زیادتی تھی۔ یہ راجہ ظالم اور جابر تھا ،اس نے کشمیری عوام پر جبرواستبداد سے حکومت کی اور ان کو بیگاری و مزدور بنا کر ہی رکھا۔ کشمیری مسلمان راجہ کے اس ظالمانہ طرز عمل کے خلاف متعدد بغاوتیں کرتے رہے۔

ہندوستان کی تقسیم عمل میں آئی تو ہندو راجہ کے مظالم کے پیش نظر یہ لازمی امر تھا کہ کشمیری مسلمان پاکستان کے ساتھ شامل ہوں گے۔ چنانچہ اس نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اگست 1947ء میں پاکستان کے ساتھ حالت موجودہ کو برقرار رکھنے کا معاہدہ کر لیا۔ ادھر شمالی پنجاب میں سکھوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھا اور اس سازش میں مہاراجہ کشمیر بھی شریک تھا۔
مسلح ہندوؤں اور سکھوں نے جموں و کشمیر کے مسلمانوں پر حملے شروع کر رکھے تھے۔ پونچھ کے مسلمانوں نے مجبور ہو کر راجہ کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے اور جموں وکشمیر کی خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ چنانچہ یہ شکستہ دل اور بدحال مسلمانوں کے قافلے پاکستان کے سرحدی علاقوں کے قریب پہنچے تو ان میں کشمیری بھائیوں پر مظالم سے جوش وخروش پیدا ہوا تو وہ کشمیری مسلمانوں کی امداد کے لئے سربکف ہو کر نکل پڑے۔
آزادی کی اس جنگ میں مجاہدین کا پلڑا بھاری تھا ۔مہاراجہ اور اس کی سینا بھاگ چکی تھی۔ ان حالات میں جبکہ مجاہدین جموں کے گرد ونواح میں پہنچ چکے تھے، مہاراجہ نے ہندوستان سے الحاق کی درخواست کر دی۔ اس پر ہندوستان نے راجہ کی درخواست پر اپنی فوجیں ہندوستان میں داخل کر دیں۔ بھارت نے الحاق کی درخواست اس شرط پر منظور کی کہ اس کا قطعی فیصلہ کشمیری عوام کی رائے سے ہو گا۔
بھارت کے اس جارحانہ اقدام سے پاکستانی عوام میں اشتعال پھیل گیا۔ صورتحال ایسی تھی کہ پاکستان بھارت کے اس اقدام کے خلاف جنگی کارروائی کرتا تو وہ اس میں بالکل حق بجانب تھا مگر قائداعظم نے کشمیر کا مسئلہ امن و آشتی کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ہندوستان نے یہ شرط لگائی کہ قبائلی لشکر کشمیر سے چلا جائے اور امن وامان کے قیام کے ساتھ ہی ہندوستان کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا۔
پنڈت نہرو نے یہ تجویز پیش کی کہ پاکستان اور ہندوستان کی حکومتیں مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کو درخواست کریں کہ وہ جلد از جلد کشمیر میں رائے شماری کرادے۔ تاہم یہ دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے قدم اٹھایا گیا۔ ہندوستان کی اصل نیت جموں وکشمیر کو ہڑپ کرنے کی تھی اور وہ اپنی حیثیت کو مستحکم کرنے کے لئے ٹال مٹول سے کام لے کر اپنے عزائم کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
لیاقت علی خان نے نومبر 1947ء کو بحیثیت وزیراعظم پاکستان اقوام متحدہ کو کشمیر میں مسلمانوں پر ہندوستان کے مظا لم بند کرانے کے لئے کہا۔ انہوں نے اس عالمی ادارے کو غیر ملکی فوجوں کی واپسی کا اہتمام کرنے کو بھی کہا اور استصواب کروانے کے لئے غیر جانبدار حکومت کے قیام پر زور دیا۔ ہندوستان کی حکومت کو کہا گیا تو اس نے شیخ عبداللہ کو دہلی بلایا اور شیخ صاحب نے مہاراجہ کے مظالم کی داستان کو دہرایا اور پنڈت نہرو کو عوام پر اعتماد کرنے اور ریاست میں ذمہ دار حکومت کے قیام کا مشورہ دیا۔
ادھر یہ مذاکرات جاری تھے کہ کشمیر کے آزاد کردہ علاقے میں آزاد کشمیر حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا گیاجس کا سربراہ سردار محمد ابراہیم کو نامزد کیا گیا۔ پلندری صدر مقام قرار پایا۔ سردار محمد ابراہیم نے شیخ عبداللہ سے تعاون کی اپیل کی مگر پنڈت نہرو اسے دوسری جانب کھینچ رہے تھے۔ ان نازک حالات میں 7اکتوبر 1947ء کو کشمیر کا نئی دہلی سے الحاق کا اعلان کر دیا گیا۔
اس وقت ماؤنٹ بیٹن بھارت کا گورنر جنرل تھا ۔اس نے فوراً الحاق کی توثیق کر کے فوجوں کو ریاست میں بھیج دیا۔ مجاہدین مقابلے پر آئے تو ہندوستان نے پاکستان کو جارح قرار دے کر اقوام متحدہ کو ثالثی کی تجویز پیش کر دی جسے پاکستان نے منطور کر لیا اور بعد ازاں بھارت اس سے بھی منحرف ہو گیا ۔ وہ آج تک کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کئے ہوئے ہے۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے برصغیر کی غیر منصفانہ تقسیم کی جانب اشارہ کر کے محب وطن پاکستانیوں کی ترجمانی کی ہے ۔
بلاشبہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا دونوں مماک کے مابین مخاصمت جوں کی توں رہے گی اگر بھارت چاہتا ہے کہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو تو پھر برصغیر کی تقسیم میں ہونے والی ناانصافیوں کا فوری ازالہ کرے اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراددادوں کے عین مطابق حل کرے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-08

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ذبیح اللہ بلگن

ذبیح اللہ بلگن کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان