تازہ ترین : 1
R S S Dehshat Gard Tanzeemo Ki Aalmi Fehrist

آر ایس ایس دہشت گرد تنظیموں کی عالمی فہرست میں شامل

امریکہ نے سنگھ پریوار کانام”تھریٹ گروپ پروفائل“ میں ڈال دیا مودی حکومت میں کھلبلی

رابعہ عظمت:
امریکی حکومت کی ویب سائٹ نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کو دہشت گرد تنظیموں کی عالمی فہرست میں شامل کردیا ہے جس سے سنگھ پریوار اور بی جے پی میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اس ویب سائٹ کے مطابق سنگھ ایک ایسا گروپ ہے جو ہندوراشٹر قائم کرنا چاہتا ہے اور اپنے تربیتی کیمپوں میں ہندو نوجوانوں کو دہشت گردی ہتھیار چلانے کی تربیت دیتا ہے۔
www.terrorism.com نے اپنی ویب سائٹ میں لکھا ہے کہ سیوک سنگھ کو بی جے پی کی نظریاتی بنیاد مانا جاتا ہے ۔ اس ویب سائٹ کا امریکی تھنک ٹھینک بین الاقوامی اورعالمی دہشت گردی سے وابستہ گروہوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ مذکورہ ویب سائٹ نے آر ایس ایس کو ”تھریٹ گروپ پروفائل“ میں ڈال دیا ہے۔ اس سائٹ کو آبزور ‘ آرنیٹ‘ یسائیڈ‘ ایکٹ نام کی امریکی حکومت کی تنظیم چلاتی ہے۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بھارت کی انتہا پسند تنظیموں کی ماں ہے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں نے اسی بطن سے جنم لیا ہے۔ بی جے پی کے دور اقتدار میں پورے ہندوستان میں سنگھ پریوار کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا دائرہ کار کئی ممالک تک پھیل چکا ہے۔ مودی حکومت میں آر ایس ایس کی شاخوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔ اورروز بروز ان کا دہشت گردی نیٹ ورک تمام بھارتی ریاستوں میں پھیلتا جارہا ہے۔
آر ایس ایس 1925 ء میں وجود میں آئی تھی اور وہ روز اول سے ہی بھارت میں ہندو راشٹریہ کے نفاذ کے لئے ہندوؤں کی ذہن سازی کرتی چلی آرہی ہے۔ کیثو بلرام ہیڈ گیوار اس کے بانی اور پہلے لیڈر منتخب ہوئے۔ ہیڈ گیوار نے آر ایس ایس کو بھارتی سیاست میں اہم مقام دلوانے کے لئے کافی تگ ودو کی۔ گیوار کے نظریات پرآج تک سنگھ پریوار عمل پیرا ہے۔ کیشو بلرام نے آر ایس ایس تنظیم کو Street Fighting مشین بنانے کے لئے اپنے کارکنوں پر ہتھیار چلانے اور لڑنے ٹیننگ لازمی قراردی ہے۔
1940ء میں ہیڈ گیوار کی وفات کے بعد گوالکراس اس کا لیڈر بن گیا۔ گوالکر کرنے کھلم کھلا ہٹلر کے پیروکار ہونے کا اعتراف کیا۔۔۔ آر ایس ایس کے تربیتی کیمپوں میں روزانہ دعا ہوتی ہے اور اس وقت زعفرانی جھنڈا لہرا کر اپنے گورو کو سلامی پیش کی جاتی ہے۔ آر ایس ایس کا نعرہ ہے۔ ”بھارت ماتا کی جے“آر ایس ایس کا مشن ہندودھرم کے ماننے والوں کو بھارت ماتا کے جھنڈے تلے متحد کرنا ہے۔
تاہم آر ایس ایس کا محور”ہندوتوا“ ہے جس کے نفاذ کے لئے مودی حکومت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے کہ اگر انہیں ہندوستان میں رہنا ہے تو ہندو بن کر رہنا ہوگا وگرنہ پاکستان چلے جانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ آر ایس ایس کے موجودہ سربراہ موہن بھاگوت نے اپنی تقریر میں کہا تھا۔ ” انسانی جسم کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جسم کے کسی بھی عضو کی اہمیت اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ اس سے جڑارہے اور اگریہ جسم سے علیحدہ ہوجائے تو دونوں کو ہی تکلیف ہوتی ہے۔
جسم کو بھی اور اس کے عضو کو بھی۔ اسی طرح افغانستان ، سری لنکا، نیپال،میانمار،تبت، پاکستان جیسے ممالک کی علیحدگی نے ان ملکوں کے لئے مسائل پیدا کر رہے ہین۔ چنانچہ ہندوستان کی سرحدیں سکڑتی جارہی ہیں اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہندوستان میں ہندوؤں کے رہنے کے لئے کوئی جگہ نہ رہے گی“۔آر ایس ایس کے پہلے سنچالک گرو گوالکر کی کتاب Bunch of Thoughs میں ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے کس طرح فرقہ وارانہ خطوط پر کام کیا جائے اس کے لیے پوری رہنمائی موجود ہے۔
وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے 1952ء میں کہا تھا کہ بھارتیہ جن سنگھ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی ناجائز اولاد ہے۔ جن سنگھ 21 اکتوبر 1951ء کو قائم کی گئی تھی ۔ یہ 1977ء میں دوسری پارٹیوں کے ساتھ جنتا پارٹی میں ضم ہوگئی اور اپنی حکومت بنالی۔ لیکن1980 ء میں علیحدہ ہوگئی اور بھارتیہ جنتا پارٹی بی جے پی کے نام سے نمودار ہوئی۔ علیحدگی کی وجہ یہ تھی کہ دوسری پارٹیوں کو آر ایس ایس کے ساتھ اس کے تعلقات پر شدید اعتراضات تھے۔
اس کی پیش روجن سنگھ کو آر ایس ایس کا سیاسی بازو بنادیا گیا۔ بی جے پی کا یہ کردار آج بھی باقی ہے۔ آر ایس ایس نے بی جے پی کو اپنے سخت کنٹرول میں رکھا ہوا ہے جو ہندوستانی جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔ دراصل مودی حکومت کا ریموٹ کنٹرول آر ایس ایس کے ہاتھ میں ہے اور اسے سنگھ پریوار کے ہیڈ کواٹر ناگیور سے چلایا جارہا ہے۔ آر ایس ایس نے مختلف شعبوں میں الگ الگ تنظیمیں بنا رکھی ہیں جن سے ہزاروں افراد وابستہ ہیں۔
آر ایس ایس اپنے قیام کے وقت سے ہی اس کوشش میں رہی ہے کہ ہندوستان پر اس کی حکومت قائم ہوجائے تاکہ وہ دیش بھکتی کا نظریہ بھارت پر تھوپ سکے۔ آر ایس ایس نے اپنی طاقت میں اس قدر اضافہ کر لیا ہے کہ وہ بہت کم وقت میں پور ی دنیا میں اپنی بات پہنچانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ سنیا کے دیگر ملکوں میں بھی اس کے رضاکار ہیں اور اس کی شاخیں قائم ہیں۔
ان شاخوں کو ”شاکھائیں“ کہا جاتا ہے۔ اس کا ترسیلی نظام اس قدر پختہ اور طاقتور ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ کئی سال قبل اس نے ایک افواہ پر پوری دنیا میں گنیش دودھ پلوادیا تھا۔ آر ایس ایس کی نظریاتی اساس ہندی ہندو ہندوستان پر ہے۔ یعنی ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے باقی غیر ہندوؤں کو ہندوستان میں رہنے کے لئے انہیں گھر واپسی کا نعرہ دیا اور زبردستی مسلمانوں عیسائیوں کو ہندو مذہب قبول کروایا گیا۔
بی جے پی کے مطابق اگر کوئی یہ نعرہ ”بھارت ماتا کی جے“ نہیں لگاتا تو وہ دیش بھگت نہیں ہے۔ دیش کا دشمن ہے، دیش دروہی ہے اور پاکستانی ہے ۔ جواہر لعل یونیورسٹی تنازعہ کے بارے میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے پس پردہ آر ایس ایس تھی۔ اس مقصد ہندوستان میں دیش بھگتی کا آغاز کرتا ہے۔ اس میں وہ کامیاب بھی رہی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ تنظیم فاشٹ سیاسی نظریات سے متاثر جمہوریت کی بجائے آمریت کی حامی ہے اور مضبوط تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ اس کے رہنماؤں نے ہٹلر اور مسولینی کے قومی وسیاسی نظریات سے براہ راست استفادہ کیا ہے۔
اس کے بڑے بڑے لیڈروں نے جرمنی جا کر فاشزم کی تعلیم وتربیت حاصل کی۔ چنانچہ ہندو سماج کوفوج تربیت دینے کی ضرورت واہمیت انہوں نے اٹلی و جرمنی کے ماؤلوں کو دیکھنے کے بعد ہی محسوس کی ۔آج بھارت میں اس کی شاخوں کا جو جال پھیلا ہوا ہے اور انہیں شاخوں کے ذریعے ہندو فاشزم کے زہریلے جراثیم نئی نسل کے اندر سرایت کئے جاتے ہیں۔ نہرو میمیوریل میوزیم لائبریری دہلی میں ایسے متعدد ریکارڈ محفوظ ہیں جن میں ہٹلر اور مسولینی سے ان کے تعلقات کے ثبوت ہیں۔
اس ریکارڈ کے مطابق سنگھ کے بانی ہیڈ گیوار کے قریبی ساتھی دوست اور ہندو وادی جی ایس منجے ہندوستان کے اولین لیڈر ہیں۔ جن کا اٹلی و جرمنی کے ان فاشت حکمرانوں سے رابطہ ہوا ۔ فروری 1931ء میں گول میز کونفرنس سے واپسی پر منجے نے اٹلی کا سفر کیا اوروہاں کے اہم فوجی سکولوں اور تعلیمی اداروں کا بغور جائزہ لیا اور اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی سے بھی ملاقات کی۔
نیز اٹلی میں فاشزم کی تعلیم وتربیت کے لئے جو تنظیمیں اس وقت سرگرم عمل تھیں انہیں بھی قریب سے دیکھا منجے نے اپنی ڈائری میں ان تنظیموں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” ان میں تنظیم کا ڈھانچہ اور اس کا نظریہ مجھے بہت پسند آیا اور میں اس سے بے حد متاثر ہوں“ منجے نے مزید لکھا ہے کہ فاشزم کا نظریہ کس طرح لوگوں کو اتحاد کے بندھن میں باندھ سکتا ہے۔
اس کا پتہ اس تنظیم کے دیکھنے سے اچھی لگ جاتا ہے۔ ہندوستان خاص کر ہندو بھارت کو بھی ایسی تنظیموں کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر ہیڈ گیوار کی قیادت میں ہماری تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بھی اسی طرز پر بنی ہے۔ منجے نے اپنی ڈائری میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ”19 مارچ 1930ء کو سہ پہر 3 بجے میں مسولینی سے ملنے گیا ۔ دروازہ تک آکر انہوں نے میرا پرتپاک استقبال کیا ۔
دوران گفتگو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا میں نے ان کی یونین سٹی دیکھی ہے۔ میں نے بتایا کہ میں ان کی قائم کردہ تنظیم سے کافی حد تک متاثر ہوں اور میں مانتا ہوں کہ ہندوستان کو ایسی تنظیموں کی ضرورت ہے۔“ بھارت واپس آکر منجے نے ہیڈ گیوار کو کافی متاثر کیا جس کے نتیجے میں آر ایس ایس نے اپنے پلیٹ فارم سے منجے کو فاشٹ نظریات کی اشاعت وتبلیغ کی کھلی چھوٹ دیدی۔
چنانچہ اسی سلسلہ میں 31 جنوری1932ء کو ”فاشزم اور مسولینی“ کے عنوان سے اک کانفرنس منعقد کی گئی جس کی صدارت خود ہیڈ گیوار نے کی تھی۔ 1938ء میں آر ایس ایس لیڈر ساور کرنے ہٹلر کی یہود دشمن پالیسی کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ملک کی تعمیر اس کے اکثریتی فرقہ کولے کر ہوتی ہے نہ کہ اقلیتی فرقے کو لے کر، اس لئے جرمنی میں یہودیوں نے کیا کام؟ اچھا ہوا کہ اقلیت ہونے کی بنا پر انہیں ملک بدر کردیا گیا“۔
مذکورہ بیان کی روشنی میں بھارت میں رہ رہی اقلیتوں کے سلسلہ میں ان کے نظریہ کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ ہندو قوم پرستوں کے فاشٹ نظرئیے کی وضاحت نہرو میموریل میوزیم لائیبریری میں محفوظ منجے کے اس خط سے بھی ہوتی ہے جو انہوں نے ”کھاپڑے“ کو لکھا تھا اس میں منجے بڑی صراحت سے لکھتے ہیں ” مسلمان شرارت پسند ہوگئے ہیں کانگریس ان کا مقابلہ کرنے کے بجائے ان کے آگے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے اس لئے ہمیں گاندھی اور مسلمانوں دونوں سے لڑنا ہوگا۔
اس چرخے کا مقابلہ آخر کار رائفل سے کرنا ہوگا“۔ بی جے پی کا جنم آر ایس ایس ہی کے توسط سے ہوا ۔ آر ایس ایس کے اشاعتی ادارے سروچی پرکاش سے شائع کتاب’ آر ایس ایس ایک تعارف “ میں جن تنظیموں کا ذکر ہے ان میں ایک بی جے پی کا نام بھی شامل ہے۔ بھگوا وزیراعظم نریندر مودی آر ایس ایس کے چے پرچارک ہیں ۔ وہ فرقہ پرستی، اقلیت دشمنی اورفساد انگیزی میں اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔
گجرات فسادات میں مسلمانوں پر جو ظلم ڈھایا گیا اورخاص طور پر مسلم نسل کشی ان اور مسلم دشمنی کا واضح کی عملی نمونہ ہے۔ سابق آئی پی ایس افسر ایم مشرف عالم نے آر ایس ایس سے متعلقہ اپنی کتاب میں لکھا کہ ”آر ایس ایس ملک کی سب سے خطرناک تنظیم ہے اور یہ جمہوری نظام کے بجائے برہمنی حکومت کے قیام کے لئے کوشاں ہے اور ہندوستان میں کروائے گئے بیشتر دھماکوں میں آر ایس ایس کا ہاتھ ہے“۔
وقت اشاعت : 2017-10-13

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں