بند کریں
جمعرات مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قائد ملت خان لیاقت علی خان
ایمان اتحاد اور تنظیم ہمیشہ آپ کے پیش نظر رہے۔۔۔ جب تک زندہ ہے استحکام پاکستان کیلئے کام کرتے رہے۔۔۔ بابائے قوم قائداعظم نے وزیراعظم کیلئے اپنے جان نثار ساتھی لیاقت علی خان کاانتخاب کیا
عبدالغنی ادیب:
دہلی سے60میل دوری پر واقع شہر’کرنال”میں ایک معزز گھرانہ رہتا تھا جس کے سربراہ رکن الدولہ شمشیر جنگ نواب رستم علی خان تھے جن کے ہاں یکم اکتوبر1897ء کو ایک بچے کی ولادت ہوئی۔ اس وقت کسے خبر تھی کہ یہ بچہ بڑاہو کراپنے آباؤ اجداد کے نام سے بھی بڑا نام کمائے گا اور تاریخ کے اوراق پر امر رہے گا۔نواب خاندان کایہ چشم وچراغ بچپن سے ہی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اتنا بے چین تھا حالانکہ اس وقت نواب خاندان میں پڑھائی کااتنا شوق نہ تھا لیکن اس نوجوان میں شروع ہی سے تعلیم حاصل کرنے کی لگن تھی۔
ابتدائی مراحل کے بعد یہ منازل تیزی سے طے کرتا رہا۔یہ سلسلہ 1918ء تک جاری رہا۔علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد یہ نوجوان الہٰ آباد چلا آیایہاں بھی کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلینڈ کارخت سفر باندھا۔کیونکہ اس وقت مزید تعلیم کے لئے برصغیر سے نوجوان انگلینڈ ہی جایا کرتے تھے۔اس نوجوان نے بی اے کی ڈگری تو علی گڑھ سے حاصل کرلی تھی جبکہ انگلینڈ میں ”بارایٹ لا“ کی ڈگری حاصل کرکے واپس آگیا۔
اس نوجوان کوزمانہ طالب علمی کے دوران ہی ملکی حالات وواقعات سے بے حد دلچسپی تھی لہٰذا انگلینڈ سے واپسی پر اس نے قانونی موشگافیوں میں الجھنے کی بجائے قوم کی الجھی گتھیاں سلجھانے کاعزم کیا۔
1923ء میں یہ نوجوان عملی طور پر سیاست کے میدان خارزار میں بے خوف وخطراترااورمسلم لیگ کے جھنڈے تلے آگیااور تین سال بعدیعنی1926ء کواپنے آبائی شہر کرنال سے پنجاب اسمبلی کے ممبر کے لئے الیکشن لڑا۔
لیکن بدقسمتی سے اس انتخابات میں شکست ہوئی بعدازاں مظفر نگر سے صوبائی انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔وقت تیزی سے گزرتارہا1937ء میں مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل کا اعزاز حاصل کرنا بھی ان کے لئے فخر کی بات تھی کیونکہ جس مسلم لیگ کے سکرٹری جنرل ہونے کااعزاز نہیں حاصل ہوا تھا اس صدر قائداعظم محمد علی جناح تھے جنہوں نے بالآخر مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کے لئے تن من دھن سے کام کیا۔
ہندوستان میں کانگریس اور مسلم لیگ ہی دو بڑی جماعتیں تھیں۔ 23مارچ1940ء کادن ہماری تاریخ کاوہ روشن دن تھا جب مسلمانوں نے منٹوپارک میں ایک علیحدہ وطن کے لئے قرار دیا پاکستان منظور کروائی اور اس دن یہ ملے ہوگیا کہ اب مسلمان اور ہندواکٹھے نہیں رہ سکتے۔آزادی کی اس جدوجہد میں قائداعظم کے ساتھ علامہ اقبال کے تصور کابھی بڑادخل ہے اور ساتھ ساتھ جس نے کام کیا وہ کرنال کاوہی لڑکا تھا جسے آج ہم سب قائدملت لیاقت علی خان‘کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

لیاقت علی خان قدم قدم پر قائداعظم کے ساتھ ساتھ تھے اور انہی رہنماؤں کی کوششوں سے 1941ء کے انتخابات میں کانگریس کے مقابلے میں مسلم لیگ کو مسلمانوں نے ووٹ دیا۔1946ء میں ہونے والے انتخابات کے بعد بننے والی عارضی حکومت میں لیاقت علی خان کووزیر خزانہ جیسااہم عہدہ سونپا گیا۔لیاقت علی خان کو وزیر خزانہ جیسااہم عہدہ سونپا گیا۔اس وقت لیاقت علی خان نے اس موقع پر جوبجٹ پیش کیاا ٓج بھی سالہا سال گزرنے کے بعد اس بجٹ کو”عوامی بجٹ“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
ہندوؤں اور انگریزوں کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ مسلمانوں میں بھی کوئی شخص ہوگا جو بجٹ بناسکتا ہے لیکن بجٹ آنے کے بعد پورے ہندوستان میں لیاقت علی خان کی شہرت دو چند ہوگئی۔ 14اگست1947ء کو جب دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک پاکستان لاکھوں انسانوں کی قربانیوں سے معرض وجود میں آیا تو قائداعظم کو اس پاک وطن کاپہلا گورنرجنرل بننے کا اعزاز حاصل ہوا جبکہ وطن عزیز کے اہم عہدے کے لئے قائدنے اپنے جاں نثار ساتھی لیاقت علی خان کاانتخاب کیا۔

قائداعظم کے بعد قائدملت لیاقت علی خان کوپاکستان کی سیاسی تاریخ کے بنیادی کردار کی حیثیت حاصل ہے ان کو وطن عزیز کے تاریخی آئینے میں ایک غیر متنازعہ مقام حاصل ہے۔ان کا شمار پاکستان کے صف اول کے رہنماؤں اور معماران وطن میں ہوتا ہے ان کی قومی خدمات اور عظمت کردار زروشن کی طرح واضح ہیں۔ان کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ برصغیر پاک وہندو میں جب ایک عبوری حکومت کاقیام عمل میں لایا گیاتو مسلم لیگ کے نمائندے کے طور پر ان کی خدمات کو”فنانس کی وزارت خزانہ“ کے سپرد کردیا گیا تھا۔
جب بھارت کی طرف پاکستان پر حملے کاخطرہ ہوا تو اس سے اہل پاکستان کوسخت تشویش تھی۔اس موقع پر قائدملت لیاقت علی خان نے قوم سے خطاب کرکے اطمینان دلایا کہ ان کی حفاظت مکمل انتظار موجود ہے۔وہ کسی قسم کی پریشان کو اپنے پاس نہ پھٹکنے دیں۔ساری قوم منظم اور متحد ہو کر سکون سے زندگی بسر کرے ہم دشمن کا مقابلہ کرنے کوتیارہیں۔خدا کے فضل سے ہمیں کسی دشمن سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔
اس موقع پر انہوں نے اپنا مُکا ہوا میں لہرایا اور کہا آج سے ہر دشمن کے غلط عزائم کے مقابلے کیلئے ہمارا قومی نشان یہ مُکا ہے۔دراصل لیاقت علی خان کایہ مکادشمن کے خلاف قوم کے اتحاد یکجہتی اور ایک قوم کی علامت تھا۔دشمن پر اس مکے کا ایسا رعب پڑا کہ اسے پاکستان کے خلاف جارحیت کرنے کی جرات نہ ہوئی۔اس وقت جنرل محمد ایوب خان پاک افواج کے کمانڈر انچیف تھے۔
وہ اپنی کتاب”فرینڈزناٹ ماسٹرز“ اے طائرلاہوتی اس رزق سے موت اچھی “ میں لکھتے ہیں جب ہمارے وزیراعظم نے دشمن کو مکاد کھایا تو پنڈت نہروڈرگیا تھا۔حالانکہ میرے پاس صرف تیرہ ٹینک تھے۔ اس کاسبب واضح تھا کہ دشمن مسلم قوم کے جذبہ جہاد اور اس کے بیباک لیڈر سے خائف تھا۔
آج جبکہ ہمیں قدم قدم پر بحران اور دشواریوں کاسامنا ہے ۔
بھارت پاکستان کو کسی بھی وقت نیچا دکھانے سے نہیں چونکتا ہمارے رہنماؤں میں دشمن کے سامنے ڈٹنے اور اپنا موقف بیان کرنے کی جرات نہیں۔درحقیقت آج لیاقت علی خان جیسے لیڈروں کا فقدان ہے۔لیڈر شپ یاقیادت پر قائدملت کی طرح ہر رہنما پورا نہیں اترسکتا۔لیکن قائدملت کے جذبہ کوساتھ لیکر چلنے اور قوم کے درد کو محسوس کرنے سے اس مسئلے کاحل ممکن نہیں ہے۔
سیاستدانوں کی باہمی کشمکش اور تصادم کے باعث عوام ایک دوسرے کامنہ دیکھ رہا رہے ہیں لہٰذا ایسے میں قائدملت جیسا رہنما وقت کی ضرورت ہے۔
16اکتوبر1951ء کوقائدملت راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ عام سے خطاب کرنے کے لئے تشریف لائے۔ ابھی انہوں نے صرف برادان ملت ہی کہا تھا کہ سیداکبرنامی شخص نے آپ پر گولیاں چلادیں۔زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ انتقال کرگئے۔ایک بار انہوں نے پر جوش انداز میں فرمایا تھا کہ پاکستان کی حفاظت،عزت اور بقاکیلئے اگرخون بہانے کی ضرورت پیش آئی تو لیاقت کاخون اس میں شامل ہوگا۔تاریخ گواہ ہے کہ آپ نے اپنا قول سچا کر دکھایا۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-19

(0) ووٹ وصول ہوئے