تازہ ترین : 1
Qomi Zuban 2015 se 2016

قومی زبان 2015 سے 2016

2015 اپنی تمام تر خوبیوں خرابیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اسلامی دنیا زوالی اور پسپائی کے مراحل میں رہی۔ پاکستان کے حوالے سے سابقہ چند سالوں سے کچھ بہتری ہوئی۔ پاک فوج کی عظیم قربانیوں پر مشتمل ضرب عضب نے قوم کو دہشت گردی اور بربادی سے بچایا ہی نہیں بلکہ انتہا پسندوں کی کمر توڑ دی۔

عزیز ظفر آزاد:
2015 اپنی تمام تر خوبیوں خرابیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اسلامی دنیا زوالی اور پسپائی کے مراحل میں رہی۔ پاکستان کے حوالے سے سابقہ چند سالوں سے کچھ بہتری ہوئی۔ پاک فوج کی عظیم قربانیوں پر مشتمل ضرب عضب نے قوم کو دہشت گردی اور بربادی سے بچایا ہی نہیں بلکہ انتہا پسندوں کی کمر توڑ دی۔ ملک میں بلدیاتی انتخابات احسن طریقے سے ہوئے۔
مشرقی سرحد پورا سال عسکری شرارتوں اور زبانی زہر فشانی کے بعد مودی کے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے رویے دوستی اور امن کے راگ الاپتے دیکھا۔2015 قومی زبان تحریک کے حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سا ل قابل ذکر پیشرفت ہوئی۔ یوں تو قیام پاکستان کے موقع پر ہی اردو کو قومی زبان کے طور پر اپنا لیا گیا تھا۔ بعد ازاں 73ء کے مشترکہ اور متفقہ آئین میں آرٹیکل 251 کے تحت پندرہ سال میں نافذ العمل قرار دیا گیا۔
بعد کے حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کے باعث عمل نہ ہو سکا۔ حیرت کی بات ہے کہ اتنے بڑے قومی مسئلے پر اردو سے وابستہ ادیب شاعر مصنف صحافی اور اشاعتی ادارے جنہیں اردو نے عزت شناخت اور روزی روٹی دی مگر سب نے مل کر اردو کے ساتھ بے وفائی ہی نہیں بلکہ طوطا چشمی سے کام لیا۔ آج بھی اردو کی پسپائی و رسوائی سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ قومی زبان تحریک نے 2009ء میں اردو کا جو چھوٹا سا دیّا روشن کیا آج ایک ملک گیر تحریک بننے کے قریب ہے۔
راقم کا دعوی ہے کہ ہماری ستر سالہ تاریخ میں اردو کے حق میں اتنا نہیں لکھا گیا جتنا صرف 2015ء میں شائع ہوا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ معروف قانون دان کوکب اقبال خواجہ کی نفاذ اردو کے لئے 2003ء میں عدالت عظمیٰ میں دائر کر دہ درخواست جنوری 2015ء میں سنوائی شروع ہوئی۔ عدالت عظمیٰ کے سینئر جج جواد ایس خواجہ نے مختلف مواقع پر حکومت کو نفاذ اردو کے لئے زور دیا جو بے سود رہا جس کے بعد 8 ستمبر 2015ء کو منصف اعظم جواد ایس خواجہ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا جس کی رو سے نفاذ اردو نہ ہونے کی صورت میں ہر خاص و عام عدالت عظمیٰ رجوع کر نے کا حق رکھتا ہے۔
اسی فیصلہ کے پس منظر میں کوکب اقبال خواجہ نے توہین عدالت کی درخواست عدالت عظمیٰ میں دائر کی۔ قومی زبان تحریک کے رہنما پروفیسر سلیم ہاشمی نے کوکب اقبال ایڈووکیٹ کو لاہور آنے کی دعوت دی لہٰذا 2 جنوری 2016ء کو ایک وفد کے لاہور آنے کا پتہ چلا، معروف دانشور رفیق عالم مرحوم کے صاحبزادے تحریک کے جواں سال رہنما عدنان عالم نے اپنے گھر میں تقریب کا اہتمام کیا۔
محترمہ فاطمہ قمر کا میسج بوکس ہر جانب گھوم گیا۔ چوبیس گھنٹے کے قلیل نوٹس پر ایک باوقار اور کامیاب پروگرام ہوا۔ 2 جنوری ٹھیک تین بجے محبان اردو کا وفد کوکب خواجہ کی رہنمائی میں عظیم تر قومی جذبوں سے سرشار تحریک کے کارکنان سے مشاورت ہم آہنگی خیر سگالی کے پیغام کے ساتھ آئندہ 2016ء میں مشترکہ جدوجہد کی فکر لائے۔ وفد میں قومی تنظیم نفاذ اردو کے سربراہ لفٹیننٹ کمانڈر محمود اقبال جواں سال آئی ٹی سپیشلسٹ عامر رفیق اور طارق عزیز ایڈووکیٹ شامل تھے۔
تلاوت کلام جاوید بٹ نے کی اور قومی زبان تحریک کے حوالے سے سالانہ رپورٹ برائے 2015ء عدنان عالم نے پڑھ کر سنائی۔ راقم نے بطور صدر مجلس وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے آئندہ مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا عہد کیا۔ جناب کوکب خواجہ نے اپنے کلیدی خطاب میں بتایا کہ دوران سماعت مقدمہ حکومت پاکستان نے نفاذ اردو کے لئے تین ماہ کا وقت مانگا تھا جو کہ 8 ستمبر کے عدالتی فیصلے میں دے دیا گیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ فیصلے کے بعد تین ماہ کی مہلت گزرنے کے بعد ایک تو کوئی قابل ذکر پیشرفت نظر نہیں آئی دوسرے حکومت عدالت نے فیصلے پر نظرثانی کی التجا کرتے ہوئے نفاذ اردو کے عمل کو ناممکن قرار دے رہی ہے۔ کوکب خواجہ نے بتایا کہ ہم نے اس عہد شکنی کے خلاف عدالت عظمیٰ میں حکومت کی جانب سے بنائی گئی، نفاذ اردو کمیٹی (جس میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید ، وفاقی مشیر عرفان صدیقی ، بیرسٹر ظفر اللہ اور سیکرٹری کابینہ ڈویڑن شامل ہیں) کے خلاف آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کا مقدمہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 5 ہر شہری کو آئین و قانون کا پابند بناتا ہے۔ حکومت آئین کے آرٹیکل 251 کے حوالے سے مجرم ہے جبکہ آرٹیکل 14 انسانی وقار اور عزت کو تحفظ دیتا ہے جبکہ انگریزی تعلیم سے طبقاتی خلیج بڑھ رہی ہے۔ قوم غریب اکثریت کی صلاحیتوں سے محروم ہو رہی ہے۔ کوکب خواجہ نے بتایا وہ یکساں نظام تعلیم اور قرار داد مقاصد پر عمل کے لئے بھی عدالت عظمی سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
آئی ٹی سپیشلسٹ عامر رفیق نے انکشاف کیا کہ نفاذ اردو کے راستے میں ہر رکاوٹ کا حل ہمارے پاس موجود ہے۔ حکومت ارادہ ظاہر کر کے ہم سے رجوع کرے۔ عامر رفیق نے کہا کہ”اردو سورس“ کے نام سے بارہ ہزار رضا کار وطن اور بیرونی دنیا میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی ٹیکنالوجی کے بڑے ادارے سے بھی مکمل رابطہ واسطہ قائم ہے۔ ”اردو سورس“ عام آدمی سے لے کر بڑے سے بڑے سرکاری اور نجی ادارے کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے سافٹ ویئر بناتا، اس سلسلے میں مختلف کام کرنے والوں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔
ایک بڑے نیٹ ورک کا ذریعہ مختلف جہتوں میں حکومت کی معاونت کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اجلاس سے فاطمہ قمر ، پروفیسر سلیم ہاشمی، عرفان احمد خان، مجید غنی، خالد اعجاز مفتی ، رفیق نثار اور دیگر خواتین و حضرات نے بھی اظہار خیال کیا اور تجاویز پیش کیں۔ قبل ازیں 26 دسمبر کو کاسمو کلب باغ جناح میں قومی زبان تحریک نے جناب ایس ایم ظفر کے ہمراہ حضرت قائداعظم کی سالگرہ کا کیک کاٹا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے شرکت کرکے حضرت قائد کی حیات و کردار پر روشنی ڈالی۔
قائداعظم اور قومی زبان کے حوالے سے جناب ایس ایم ظفر نے قائد کی سیرت و اخلاص پر مبنی بیشمار واقعات سنائے۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر جنرل ہاؤس میں 438 روپے کا ایک بل آیا۔ تفصیل یہ تھی کہ کچھ حضرت قائد اور کچھ مادر ملت باقی گورنر ہاؤس کا خرچہ تھا جس پر آپ نے حکم دیا کہ فاطمہ کا خرچہ اس کے اور میرا میرے اکاؤنٹ سے لیا جائے، جناب ایس ایم ظفر نے کہا کہ میرے قائد کے کردار پر ان کے بدترین دشمن بھی یہ کہنے پر مجبور تھے کہ پورے ہندوستان میں سچی کھری اور ایماندار شخصیت ہے تو وہ محمد علی جناح ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ قومی زبان کے بارے میں فیصلہ کرنے والا قائد ایماندار تھا وہ اردو بولنا نہیں جانتا تھا مگر اردو کی وسعت اور اہمیت کو پہچانتا تھا۔ بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے اہم آئین پاکستان ہے جو اردو کے نفاذ کا متقاضی ہے۔ میرا قائد آئین سے بھی بڑا تھا۔ اجلاس سے سلمان عابد ، صدر کاسمو کلب زاہد توثیق ، شبنم ناگی کے علاوہ دیگر خواتین و حضرات نے خطاب کیا۔
وقت اشاعت : 2016-01-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں