تازہ ترین : 1
Qawaneen Ki chatri Tale

”قوانین کی چھتری تلے “

ایسے فیصلے جن کا عام شہری سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔ ن دنوں ایسے معاملات پر بھی فیصلے سامنے آگے جو طویل عرصہ سے لٹکے ہوئے تھے۔ ماضی میں متنازعہ یا بہت زیادہ حساس نوعیت کے مقدمات عموماًلٹکے رہتے تھے لیکن اب یہ سلسلہ ختم ہوتا نظر آرہاہے

مصنف : سید بدر سعید
گذشتہ دنوں قومی منظر نامے میں تیزی نظر آئی۔ صورتحال سے محسوس ہوتا ہے کہ اب اربابِ اختیار تیزی سے فیصلے کر رہے ہیں۔ ان دنوں ایسے معاملات پر بھی فیصلے سامنے آگے جو طویل عرصہ سے لٹکے ہوئے تھے۔ ماضی میں متنازعہ یا بہت زیادہ حساس نوعیت کے مقدمات عموماًلٹکے رہتے تھے لیکن اب یہ سلسلہ ختم ہوتا نظر آرہاہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 18 جنوری کو نواب اکبر بگٹی قتل کیس پر بھی فیصلہ سنا دیا۔
اس سلسلے میں عدلیہ نے پرویز مشرف، آفتاب احمد خان شیرپاوٴ اور شعیب نوشیروانی کو بری کر دیا۔ اسی طرح قبر کشائی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ دیگر ملزمان میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز ، سابق گورنر بلوچستان اویس غنی اور سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ عبدالصمد لاسی کو پہلے ہی مفرور قرار دیا جا چکا تھا۔ اس فیصلے پر شاہ زین بگٹی نے بھی فیصلے کو چیلنج کرنے کا کہا ہے ۔
اسی طرح ایک او ر حالیہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے شکار کی اجازت دے دی ہے۔ یاد رہے کہ یہ بھی متنازعہ کیس تھا۔تلور کے شکار کے لیے غیر ملکی شہزادے پاکستان آتے ہیں۔ دوسری جانب جنگلی حیات کی زندگی محفوظ بنانے کے خواہش مند ایسے شکار کے خلاف ہیں۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ تلور کی نسل کو خطرہ ہے لہٰذا اسے بچانے کیلئے اس کے شکار پر پابندی لگائی جاتی تھی۔
یہ دونوں معاملات طویل عرصہ سے زیر بحث تھے اور اس پر عوامی رائے عامہ بھی مضبوط ہو چکی تھی۔
ایک طرف عدلیہ نے ماضی کے برعکس معاملات لٹکانے کی بجائے فیصلے سنانے شروع کر دئیے ہیں تو یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بظاہر یہ فیصلے بااثر افراد کے حق میں گے ہیں۔بگٹی قتل کیس میں پرویز مشرف سمیت اہم شخصیات بچ گئی ہیں تو تلور کے شکارکے کیس میں عرب شہزادوں اور حکومت کی سنی گئی ہے۔
دوسری جانب صوبائی اور مرکزی حکومتیں بھی اکثریتی بنیاد پر اہم بل منظور کر رہی ہیں۔اس سلسلے میں سندھ کی حکومتی جماعت نے اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود مقدمات واپس لینے اورپراسیکیوٹر تبدیل کرنے کا اختیار سیکرٹری سے پراسیکیوٹر جنرل کو دیدیا ہے۔ اس بل کے مطابق عدالتی رضا مندی سے سندھ حکومت کسی کے خلاف بھی کسی بھی جرم کے تحت مقدمہ واپس لے سکتی ہے۔
اس سلسلے میں کہا گیا ہے کہ اس بل کا مقصد زیادہ تر سیاسی مفادات کی حفاظت ہے اور بعض اہم افراد کو بچانے کی کوشش ہے ۔ اس کے جواب میں مسلم لیگ ن نے بھی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے شدید احتجاج کے باوجود ٹیکس ایمنسٹی بل منظور کر الیا۔ اسی طرح پی آئی اے کو کارپوریشن سے لمیٹڈ کمپنی میں بدلنے کا بل بھی منظور کر لیا گیا ۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے یہاں تک کہا ”نواز شریف ! آپ کو اٹک قلعہ کے آنسووٴں، ہتھکڑی کی قسم، چوروں کو بچانے کے لیے بل مت لاوٴ۔
“ یاد رہے کہ پی آئی اے کو لمیٹڈ کمپنی میں بدلنے کا بل بھی ایجنڈے سے ہٹ کر پشن کیا گیا۔ اس موقت پر اپوزیشن نے احتجاج کے ساتھ ساتھ واک آوٹ بھی کیا لیکن حکومت نے اس موقع کے فائدہ اٹھاتے ہوئے بل منظور کر لیے۔
اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ چند روز سے اندرون خانہ تیزی آگئی ہے اور اہم حلقے اپنے مفادات کے لیے قانون کا سہارا لیتے ہوئے جلد از جلد فیصلے کر رہے ہیں۔
سندھ اسمبلی سے لیے کر قومی اسمبلی تک سیاسی جماعتوں کے فیصلے آئینی طریقہ کار کے ہی تابع ہیں۔ لیکن ان کے مقاصد عوام کے لیے نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق سیاسی قیادت اب آئینی اور قانونی چھتری تلے اپنے مفادات اور تحفظ کے لیے متحرک ہو چکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح انہیں قانونی طور پر مجرم بھی نہیں گردانا جائے گا اور وہ اپنی ”وادات“ میں بھی کامیاب رہیں گے۔ ذرائع بھی کہہ رہے ہیں کہ اگلے چند ہفتوں میں مزید ایسے اقدامات متوقع ہیں جو آئینی طور پر عام شہری کے لیے تو کسی صورت فائدہ مند نہ ہوں گے لیکن مخصوص طبقے کے مفادات کے تحفظ فراہم کریں گے۔
وقت اشاعت : 2016-02-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

Syed Badar Saeed

مصنف کا نام : سید بدر سعید

سید بدر سعید کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

اپنی رائے کا اظہار کریں