تازہ ترین : 1
Punjab me tashadud say Mutassra  Khwateen  Ke Thfuz  ke Idary  Ka qayam

پنجاب میں تشدد سے متاثرہ خواتین کے تحفظ کے ادارے کا قیام

حکومت کارکردگی کی رپورٹ 90 دنوں کے اندر صوبائی اسمبلی میں پیش کرے گی․․․․․اتھارٹی اپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے پولیس کی مدد حاصل کرسکتی ہے

تنویر بدججہ:
پاکستان کے تمام علاقوں میں عورتوں پر ظلم تشدد ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ تشدد کی ابتدا گھر میں بسنے والے لوگوں کے منفی رویوں سے ہوتی ہے۔ عورت جو ماں ہے، بہن ہے، بیٹی ہے اس کو پرانے دقیانوسی اور بے بنیاد نظریات وروایات کی بنا پر ظلم وستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گھریلو مار پیٹ سے لے کر مذموم رسومات کی بھینٹ چڑھا کر عورتوں کے بنیادی حقوق کی نفی بلکہ بعض اوقات ان کی خریدوفروخت ہمارے معاشرے کی ایسی بھیانک اور شرمناک سچائیاں ہیں جو اخلاقی قدروں کی انحطاط پذیری کی عکاس ہیں۔
ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حال ہی میں حکومت پنجاب نے ”پنجاب میں خواتین کے تحفظ کی اتھارٹی کا قانون مجریہ2017ء نافذ کیا ہے جس کا مقصد تشدد سے متاثرہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنا اور ان کی معاشرے میں بحالی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو مربوط انداز میں ادراہ جاتی سطح پر تحفظ دینا ہے۔ اتھارٹی کے اختیارات وفرائض درج ذیل ہیں۔
(1)اتھارٹی کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ حفاظتی مراکز قائم کرے اور مسلسل ان کی دیکھ بھال اور انتظام وانصرام کے ساتھ حفاظتی نظام کا ایک جامع منصوبہ بھی شروع کرے۔

(2)اتھارٹی تشدد سے متاثرہ خواتین کی مدد اور بحالی کے لئے حفاظتی نظام پر علمدرآمد کرانے کی بھی پابند ہوگی۔
( 3)کمیٹی اور حفاظتی نظم کی انتظامیہ کے کام کی بھی نگرانی کرے گی۔
(4)تشدد سے متاثرہ خواتین کے لئے حفاظت، امدادی اور بحالی سے متعلقہ حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کروانا۔
(5)بحالی میں دلچسپی رکھنے والے افراد کا سروے کرائے گی۔

( 6)حفاظتی نظام سے متعلقہ افراد کے لئے ضابطہ اخلاق بھی وضع کرے گی اور ایسے افراد اس ضابطہ اخلاق پر عمل پیرا ہونے کے پابند ہونگے۔
( 7) خواتین اور متاثرہ افراد کی حفاظت اور مدد کے لئے اتھارٹی کے ملازمین اور سرکاری ملازمین میں وقفے سے حساسیت اور شعور کے لئے ایک نظام وضع کرنا۔
(8) مالیاتی، تحفظ اور رہائش کے احکامات پر عملدرآمد کروانا۔

(9)اس بات کو یقینی بنائے گی کہ صوبے کے کسی پولیس اسٹیشن میں تشدد کا درج مقدمہ حفاظتی مرکز کو طبی معائنے، فرانزک، تفتیش اور استغاثہ کے لئے بھجوایا جائے گا اور جب تک صوبے میں حفاظتی نظام قائم نہ ہو جائے تب تک عارضی طور پر متاثرہ شخص کی مرضی سے قریبی حفاظتی مراکز منتقل کیا جائے گا۔
(10)حفاظتی مراکز اور دارالامان میں بہتری لانے کے لئے سالانہ حکمت عملی کی منظوری دے گی۔

(11)رضا کر خواتین اور رضا کار خواتین کے اداروں کی ضلع سطح پر فہرست تیار کرے گی اور رضا کاروں اور رضا کار اداروں کو اس بات کی پابند کریگی کہ وہ حفاظتی مراکز کی وکالت شعور بیدار کرنے اور ثالثی میں مدد دے اور متاثرہ افراد کو حفاظتی مراکز بھجوائے۔ اتھارٹی کا چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل ہوگا اور وہ تمام فرائض سرانجام دے گا جو کہ اتھارٹی اسے تفویض کرے گی۔
اس کے عہدہ کی معیاد تین سال ہے یا حکومت جب تک چاہے وہ اپنے عہدے پر رہ سکتا ہے۔ پولیس کی مدد(دفعہ13)اتھارٹی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے پولیس کی مدد حاصل کرسکتی ہے۔ خواتین کے تحفظ پر مامور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کے اختیارات(دفعہ14 )مذکورہ قانون کے حصول مقاصد یعنی خواتین کے تحفظ کے لئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ہوگا اور وہ اتھارٹی کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے حفاظتی مراکز میں تعینات پولیس افسران کی کارکردگی کا جائزہ لے گا کہ آیا وہ اپنے فرائض بخوبی سرانجام بھی دے رہے ہیں یا نہیں۔
اس کے علاوہ وہ ان مراکز کی دوہفتہ وار رپورٹ صوبائی پولیس آفیسر (انسپکٹر جنرل پولیس)کو دے گا اور پولیس افسران اور صنف پر مبنی جرائم کے متاثرین کے لئے اصلاحی اقدامات کرے گا۔ مذکورہ قانون کے تحت درج مقدمات کے استغاثہ کی نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ حفاظتی مراکز میں ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاران کی کارکردگی کا بھی جائزہ لے گا۔ سالانہ رپورٹ (دفعہ 20)،ڈائریکٹر جنرل مالی سال کے اختتام کے تین ماہ کے اندر سالانہ کارکردگی کی رپورٹ جس میں تمام سرگرمیوں کی تفصیل ترقیاتی کام جوکئے ہوں پچھلے مالی سال میں وہ اہداف جو مکمل کئے ہوں اور مستقبل کے منصوبوں پر مشتمل ہوگی اتھارٹی کو جمع کرائے گا اتھارٹی اس رپورٹ کو عوام کی معلومات کے لئے شائع کرے گی اور حکومت کو جمع کرائے گی اور حکومت صوبائی اسمبلی میں 90 دنوں کے اندر پیش کرے گی۔
حکومت مذکورہ قانون کے مقاصد کرنے کیلئے سرکاری جریدے میں بذریعہ اعلان قواعد بنائے گی۔
وقت اشاعت : 2018-01-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں