بند کریں
منگل مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پنجاب فوڈ اتھارٹی
پیشہ وارانہ فرائض کی دیانتدارانہ انجام دہی کا نمونہ۔۔۔ فوڈ اتھارٹی نے صرف کھانے پینے کے مراکز میں نظر آنے والی گندگی کو ہی واضح نہیں کیا بلکہ ملٹی نیشنل کہلانے والے برانڈز کے نام بھی عیاں کر دئیے۔ ماضی میں ایسا بھی ہوتا رہا ہے
مصنف : سید بدر سعید
پنجاب فوڈ اتھارٹی کچھ عرصہ سے انتہائی متحرک نظر آرہی ہے۔ اس سلسلے میں دائریکٹر عائشہ ممتاز نے بڑے ریستورانوں ، سٹورز اور گوداموں پر چھاپے مارنے کا جو سلسلہ شروع کیا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ پنجاب فوڈا تھارٹی نے چھوٹے ریستورانوں پر ہی نہیں بلکہ فائیو سٹار ہوٹلز پر چھاپے مارے۔
سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ایسے چھاپوں اور وہاں نظرآنے والی گندگی کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی اب لوڈ کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
فوڈ اتھارٹی نے صرف کھانے پینے کے مراکز میں نظر آنے والی گندگی کو ہی واضح نہیں کیا بلکہ ملٹی نیشنل کہلانے والے برانڈز کے نام بھی عیاں کر دئیے۔ ماضی میں ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ جرمانے کرنے کے باوجود بڑے اداروں کے ناموں کو عیاں نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ایسی بڑی کمپنیاں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ایسی خبریں روکنے کی بھاری قیمت ادا کرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔

اس سارے پس منظر کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کو بھی بڑے مگر مچھوں نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے بھاری رشوت کی پیشکش کی ہو گی۔ اسی طرح یہ بات بھی واضح ہے کہ ہمارے ہاں بڑے اداروں میں بااثر شخصیات نے سرمایہ کاری کر رکھی ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان سیاسی کنگ میکرز کے خلاف ماضی میں کاروائی نہیں کی گی۔
اس بار بھی فوڈ اتھارٹی کو ان کی جانب سے سیاسی دباوٴ کا سامنا کرنا پڑا ہو گیا لیکن ان کی ثابت قدمی ظاہر کرتی ہے کہ یہ دباوٴ بھی ناکام رہا ہے۔
اسی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وزیر خوراک کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر عائشہ ممتاز کو اس قدر بڑی کارروائیوں پر بھی تبدیل کر کے ان کی جگہ مرضی کا ”بیبا“ افسر نہیں لایا گیا تو یقینا یہ قابل تعریف ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے یہ تو اضافی کام کیا ہے اور نہ کوئی خصوصی اختیارات استعمال کیے ہیں۔
عائشہ ممتاز نے وہی کام کیا ہے جو ان کو پیشہ ورانہ ذمہ داری تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سے قبل اس عہدے پر تعینات رہنے والے افسران اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر سر انجام نہیں دے رہے تھے۔ اسی طرح یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اگر تمام سرکاری محکموں کے افسر صرف اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں مکمل ایمانداری سے سر انجام دینے لگیں تو بہت جلد پاکستان کا منظر نامہ بدل سکتا ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے جس طرح پورے پنجاب میں چھاپے مارے اور مضر صحت اشیاء کی بنیاد پر مختلف سٹورز، بیکریز ، گودامز وغیرہ بند کرے کے ساتھ ساتھ مضر صحت ملاوٹ شدہ دودھ کے ٹرک الٹانے کے علاوہ گدھے ،کتے اور مردار گوشت کی سپلائی کو ناکام بنایا اس سے یہ تاثر پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ یہ سب پنجاب کی حد تک محدود ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا دیگر صوبوں کی فوڈ اتھارٹی نے بھی اسی طرح اپنا فرض ادا کیا ہے۔
؟
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے عملی اقدامات اور فوری انصاف کے تصور نے اگر ایک طرف ملاوٹ مافیا کو بے نقاب کیا ہے تو دوسری طرف پنجاب کو ملاوٹ سے پاک اشیا کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ مثال کے طور پر اب لاہور دودھ سپلائی کرنے والے کو علم ہے کہ اگر جانچ کے دوران ان کے دودھ میں ملاوٹ ظاہر ہو گئی تو سارا دودھ ضائع کر دیا جائے گا۔ اسی طرح گوشت فروخت کرنے والے اور دیگر اشیا کی خریدو فروخت کرنے والوں کو بھی علم ہو چکا ہے کہ ملاوٹ کی صورت میں انہیں منافع سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر کوئی محکمہ یا افسر اپنی ذمہ داریاں مکمل ایمانداری سے سر انجام دے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اسی طرح بیورو کریسی میں بھی ترقی کو پیشہ وارانہ کامیابیوں سے مشروط کای جائے تاکہ نہ صرف اہل وافراد اہم عہدوں پر فائز ہوں بلکہ باقیوں میں بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کا رحجان پیدا ہو۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-19

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان