بند کریں
پیر مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پولیس لائنز قلعہ گوجر سنگھ کے باہرخودکش دھماکہ
سانحہ پشاور کے بعد پوری قوم کے دہشت گروں کے خلاف متحد ہے تو دوسری طرف نیشنل سیکیورٹی پلان کے تحت حکومت و قانون نافذکرنے والے ادارے ملک بھر میں دہشت گروں کے خلاف برسر پیکار ہیں
احسان شوکت:
سانحہ پشاور کے بعد پوری قوم کے دہشت گروں کے خلاف متحد ہے تو دوسری طرف نیشنل سیکیورٹی پلان کے تحت حکومت و قانون نافذکرنے والے ادارے ملک بھر میں دہشت گروں کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ مگر یہ سب کچھ ملک دشمن عناسر کو ایک آنکھ نہیں بھا رہاہے اور انہوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ عبادتگاہوں کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا ریا ہے۔
اس صورتحال میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی آ گئی ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے ایسی ہی ایک مذموم منصوبہ بندی صوبائی دارالحکومت لاہور میں قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنزپر حملہ کرنا تھا۔جس کے لئے خودکش حملہ آور بھیجا گیا مگر وہ سکیورٹی ہائی الرٹ ہونے کے باعث حملہ آور اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا اور اس نے اپنے ٹارگٹ قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنزپر حملے میں ناکامی پر خود کوپولیس لائنز کے باہر اڑا لیا۔
جس سے2 پولیس اہلکاروں سمیت 5 افراد شہید جبکہ 5 خواتین اور سمیت 28 افراد زخمی ہو گئے۔ موقع پر لاشیں، انسانی اعضاء، خون ، دھواں اور آگ پھیل گئی جبکہ زخمی چیخ و پکار کر تے رہے۔ دھماکے سے چار گاڑیوں اور متعدد موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچااور آگ لگ گئی، قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔دھماکے کہ باعث وہاں موجود افراد خوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ دھماکے کی آواز میلوں دور تک سنائی دی گئی۔واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس، ریسیکو 1122، ایدھی، بم ڈسپوزل سکواڈ سمیت دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی ٹیموں نے لاشوں اورزخمیوں کو میو ہسپتال، گنگارام ہسپتال اور سروسز ہسپتال پہنچایا جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ جہاں 8 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
خود کش دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں پولیس سب انسپکٹر محمد یوسف اور ٹی اے ایس آئی وقار احمدکے علاوہ محمد عباس، محمد امجد اور نامعلوم شخص شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں اشرف، رزاق ، عامر ، اطہر ، احمد ، ایوب، قیصر، انجم، ریاض، شاہد، سہیل، نصیر، عزیز، زاہد، شمعون، حفیظ،عمران، رمضان، کمال مسیح، حافظ زاہد، صائمہ ،فرزانہ، شبانہ اور شمائلہ شامل ہیں۔
زخمی ہونے والی شمائلہ پولیس کانسٹیبل ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس لائنزپر دھماکے کے حوالے سے سکیورٹی اداروں کی جانب سے اطلاعات بھی تھیں۔ جس وجہ سے پولیس لائنز کی سکیورٹی سخت تھی۔ جس وجہ سے حملہ آور اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ واقعہ کے بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں کی بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئی۔خود کش دھماکے کے عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت دوپہر12بجکر36منٹ کا وقت تھا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ خودکش دھماکہ تھا اور حملہ آور 25سالہ نوجوان تھا۔جس نے خود کو زور دار دھماکے سے اڑ لیا۔موقع سے حملہ آور دہشت گرد کے جسم کے اعضاء مل گئے ہیں۔ دھماکے کی آواز اس قدر زور دار تھی کہ پورا علاقہ گونج اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف نعشوں کے ڈھیر لگ گئے اور عوام میں بھگدڑ مچ گئی۔
ذرائع کے مطابق اس دھماکے میں 5سے 8کلو دھماکہ خیز مواداستعمال کیا گیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق زوردار دھماکہ ہوا اور آگ کا شعلہ بند ہوا، اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چل سکا کہ کیا ہوا۔ دھماکہ ہوتے ہی زمین لرز گئی اور دھماکے کی شدت سے کانوں کے پردے شیل ہو گئے۔جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز کے اندر موجود تھے جبکہ خود کش حملے کی اطلاع ملتے ہی سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس ،ایس ایس پی انویسٹی گیشن رانا ایاز سلیم فوری موقع پر پہنچ گئے اور وہ امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔
پولیس کے اعلیٰ حکام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا تعین کر تے رہے کہ دھماکہ خود کش تھا یا کہ یہاں دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔ بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس دھماکے کو خود کش دھماکہ قرار دیا گیا۔پولیس نے جائے وقوعہ کو قناظیں اور رکاوٹیں لگا کر سیل کردیا۔سی سی پی او لاہورکیپٹن (ر) محمد امین وینس، ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کا کہنا تھا کہ دھماکہ خود کش تھا۔
حملہ آور نے 5 کلو سے زائد بارودی مواد باندھ رکھا تھا۔انہوں نے کہا کہ حملہ کے حوالے سے پہلے ہی اطلاعات موجود تھیں۔ جس پر قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز کی سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر رکھا تھا۔ سکیورٹی ہائی الرٹ ہونے کے باعث حملہ آور اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا اور اس نے اپنے ٹارگٹ قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنزپر حملے میں ناکامی پر خود کوپولیس لائنز کے باہر ہی خود کواڑا لیا۔
ہمارے سکیورٹی انتظامات بہتر تھے اگر حملہ قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز پر ہو جاتا تو ہلاکتیں زیادہ ہو سکتی تھیں۔ واقعہ کے بعد دو گھنٹے بعد آئی جی پنجاب بھی موقع پر پہنچ گئے۔ علاوہ ازیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موقع سے خودکش جیکٹ کو دھماکے سے اڑانے والا فیوز بھی ملا ہے۔جو دھماکے کے لئے سرکٹ کرنٹ فراہم کرتا ہے۔ قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنزکے باہر خود کش حملے کے بعد سرکاری ہسپتالوں کوہائی الرٹ کر دیا گیاہے۔
دھماکے کے بعد ہسپتالوں میں اپنے پیاروں کو تلاش کرنے کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی اور وہ چیخ و پکار کرتے رہے۔ ہسپتالوں میں قیامت کبریٰ کا منظر نظر آرہا تھا۔ زخمیوں و جاں بحق ہونے والے افراد کے رشتے داروں کا بڑا رش تھا جبکہ ہسپتالوں میں اپنوں کو شناخت کرنے والے افراد کی شدید چیخ و پکار تھی اور ہسپتال میں آنے والے افراد شدید پریشانی میں مبتلا تھے۔
دوسری طرف تخریب کار عناصر کی جانب سے میو ہسپتال بچہ وارڈ میں بم کی افواہ بھی پھیلادی گئی۔جس سے شہر میں مزید سراسمیگی پھیل گئی۔اس واقعہ کے بعد پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں نشہر میں سیکورٹی کو ریڈ الرٹ کر دیا ہے۔ اہم سرکاری و غیر سرکاری عمارات خصوصاًقانون نافذ کرنیوالے اداروں کی عمارتوں، بڑے ہوٹلوں اور مزاروں کی سیکورٹی کے سخت انتظامات کر دئیے گئے ہیں۔
شہر میں نصب شدہ سیکورٹی کیمروں اور کنٹرول رومز کا بھی معائنہ کیا جا رہاہے کہ تمام کیمرے اور کنٹرول رومز درست حالت میں کام کر یں۔ شہرکے اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور پولیس کی گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر شہرمیں حساس اداروں و پولیس افسروں کے دفاتر اور اہم عمارتوں و مزاروں کے باہر سکیورٹی انتظامات سخت کرتے ہوئے وہاں پر بھاری رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ مسلح اہلکاروں کو بھی تعینات کردیا گیا ہے جبکہ شہریوں کومیٹل ڈ یٹکٹر سے تلا شی اور واک تھرو گیٹ سے گزار کرداخل ہونے دیا جارہا ہے۔
پولیس نے مختلف شاہراہوں پر ناکے لگا کر ہر آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لینے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسوں کے مالکان سے کہا ہے کہ وہ کمپیوٹر ائزڈ شناختی کارڈ کے بغیر کسی کو کمرہ نہ دیں۔ شہر کے داخلی راستوں کی بھی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ دہشت گرد خودکش حملہ آور تھا جس کی عمر 20 سے 25 سال تھی جو شہر بھر کی پولیس کے نام نہاد سکیورٹی ناکے عبور کرتا ہوا بارودی مواد اور خودکش جیکٹ لے کر پولیس لائنز تک پہنچ گیا۔
خودکش حملہ آور کی جیکٹ میں بال بیرنگ، لوہے کی کیلیں، نٹ بولٹ اور لوہے کے ٹکڑے بھی تھے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا اصل مقصدپولیس لائنز میں خودکش حملہ کرکے پولیس کو بڑانقصان پہنچانا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کھلا چیلنج دینا تھا کہ اگر انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ اور نیشنل ایکش پلان کے تحت کارروائیاں جاری رکھیں تو دہشت گرد ان کے خلاف اپنی بزدلانہ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔مگر ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے بلند حوصلے پست نہیں ہوسکے بلکہ وہ نئے عزم اور ولولے کے ساتھ دہشت گردوں کا مردانہ وار مقابلہ کر کے ان کے مذموم و ناپاک ارادوں کو خاک میں ملادیں گے اور دشمن کو منہ کی کھانی پڑے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-19

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان