بند کریں
جمعہ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پی آئی اے کی نجکاری کیونکر ممکن
مشرف دور میں بحران نے سراٹھایا، پی پی پی دور میں رہی سہی کسر پوری ہو گئی
خورشید انجم:
ٹھوس اور موثر اقتصادی پالیسیاں اور ان کا تسلسل کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوری حکومت کی جانب سے اپنی اپنی اقتصادی پالیسیاں ملک کی معاشی ترقی میں ہمیشہ وقت گزاری کا باعث رہی رہیں ۔ عالمی مالیاتی اداروں سے قرضوں کے حصول کے لیے ملکی مفاد کے منافی شرائط کا قبول کرنا بھی معاشی و اقتصادی عدم استحکام کا سبب ہے ۔
2013 کے عام انتخابات میں معاشی ترقی کے بلند بانگ دعوں کے نتیجے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد مسند اقتدار سنبھالتے ہی مسلم لیگ ن کے کرتا دھرتا معاشی ماہرین نے آئی ایم ایف حکام کے ساتھ پہلی ملاقات میں ہی قومی اداروں کی نجکاری کی حامی بھر لی تھی اور نجکاری کمیشن تشکیل دے کر محمد زبیر کو چیئرمین نامزد کر دیا گیا تھا۔ چیئرمین نجکاری کمیشن محمد زبیر نے قومی اداروں کی نجکاری کے سلسلے میں کئی ممالک کے دورے کئے لیکن وہ کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر اور وفاقی وزیر صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی کی جانب سے قومی اداروں کی نجکاری کرنے کی تردید کی جاتی رہی لیکن وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے منظور نظر چیئرمین نکاری کمیشن اور وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار قومی اداروں کی نجکاری کے لیے تادم تحریک سرگرم عمل ہیں۔ کیونکہ حکومت”آئی ایم ایف کو قومی اداروں کی نجکاری کی یقین دہانی کرا چکی ہے۔
جس کے تحت پہلے مرحلے میں پی آئی اے کی نجکاری کی تیاری کی جار ہی ہے۔ قومی اداروں میں پی آئی اے ایک ایسا ادارہ ہے جو دنیا بھر میں ملک کی پہنچان ہے۔ دنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم کی شناخت کرانے والے قومی ادارہ کی نجکاری کسی المیہ سے کم نہیں ہوگی۔ پی آئی اے ایک منافع بخش ادارہ تھا جو پرویزمشرف دور میں بحران سے دو چار ہوا۔ 2000 ء سے قبل پی آئی اے کارکردگی کے حوالے سے تمام قومی اداروں میں سرفہرست رہا۔
ماضی میں کار گو سروس کے پیش نظر ادارہ ترقی کی جانب گامزن تھا لیکن مشرف دور شروع ہوتے ہی پی آئی اے بحران کا شکار ہو گیا۔ پروزمشرف دور حکومت میں پی آئی اے کے پاس 53 جہاز آپریٹنگ تھے اور ادارے کا خسارہ محض 38 ارب روپے تھا۔ 2000کے بعد سے سے زیادہ منافع دینے والی کارگو سروس کی بندش سے پی آئی اے کا خسارہ بڑھتا چلا گیا۔ مشرف دور حکومت میں کار گو سروس کی بندش کے ساتھ جہازوں کی تعداد بھی گھٹتی چلی گئی جس سے پی آئی اے کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
پرویز مشرف دور کے بعد 2008 میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی تو پی ائی اے کا مالی بحران مزید سنگین ہو گیا۔پیپلز پارٹی حکومت کے اختتام تک پی آئی اے کے بیڑے میں محض 16 جہاز آمدروفت کے قابل رہ گے اور خسارہ 196ارب روپے تک جا پہنچا ۔ 2013میں مسلم لیگ ن نے اقتدار سنبھالا تو جہازوں کی قلت کے باعث بیشتر منافع بخش روٹس گردی رکھ کی قرضے حاصل کئے گے۔
موجودہ نواز حکومت نے ادارے کو خسارے سے نکالنے اور آمدنی بڑھانے کے لیے 22نئے طیارے لیز پر لے لئے اب پی آئی اے کے بیڑے میں طیاروں کی تعداد 16 سے بڑھ کر پھر 38 ہو گئی ہے لیکن خسارہ 300ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ وفاقی حکومت اور پی آئی اے انتظامیہ کی کاوشوں سے ادارہ بہتری کی جانب گامزن ہوا ہے ۔ جولائی سے ستمبر 2015 کی سہ ماہی کے دوران پی آئی اے کو ڈھائی ارب روپے آپریٹنگ منافع حاصل ہو ااور لاسز میں بھی کمی واقع ہوئی۔
موجودہ صورتحال میں جب ادارہ بہتری کی جانب گامزن ہے اس کی نجکاری کسی طور بھی ملکی مفاد میں نہیں۔ پی ٹی سی ایل اور کے ای ایس سی کی نجکاری کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان دونوں قومی اداروں کی نجکاری کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے اور ان اداروں کی انتظامیہ اپنی اصل لاگت سے کہیں زیادہ سرمایہ بیرون ممالک منتقل کر چکی ہے اور بیروزگاری کا عذاب ہم الگ جھیل رہے ہیں۔
پی آی اے کی نجکاری کے اعلان کے بعد تمام ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ ملازمین نے دفاتر کی تالہ بندی اور علامتی ہڑتال کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر پی آئی اے ہیڈ آفس سمیت ملک بھر کے ایئر پورٹس پر ریزرویشن سینٹرز، فلائٹ کچن ، انجینئرنگ دفاتر بند کردیے گے۔ ملازمین، افسران اور کیبن کویو سڑکوں پر نکل آئے۔ نجکاری عمل سے 17 ہزار ملازمین کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے اس صورتحال میں خود وزیراعظم کو نجکاری کے مسئلے پر بیان جاری کر کے ملازمین کے خدشات دور کرنے پڑے ہیں۔
احتجاجی ملازمین نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں خود سوزی کا راستہ اختیار کریں گے۔ پی آئی اے ملازمین کی تنظیموں کے منتخب نمائندوں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے وفد نے وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ایوی ایشن میں وزیراعظم کے معاون خصوصی شجاعت عظیم بھی موجود تھے۔
ایکشن کمیٹی کے وفد کی جانب سے قومی فضائی کمپنی کو پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی بنانے کا صدارتی آرڈیننس واپس لینے کے مطالبے پروزیراعظم نے یقین دہانی کرائی بحالی کا قابل عمل منصوبہ ہونے کی صورت میں قومی فضائی کمپنی کی نجکاری سے گریز کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وفد کو 15 روز میں تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مشیر شہری ہوا باز شجاعت عظیم کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی جس میں ملازمین کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے وفد کی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دو ٹوک الفاظ میں نجکاری کا صدارتی آرڈیننس واپس نہ لینے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم سے ایکشن کمیٹی کے وفد کی ملاقات میں نجکاری نہ کرنے کا مطالبہ مسترد ہونے کے بعد قومی فضائی کمپنی کو بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔آخری سہ ماہی میں ڈھائی ارب روپے آپریٹنگ منافع کی صورت میں بہتری کی جانب گامزن قومی ادارے کے ملازمین کے بڑھتے احتجاج کی صورت میں صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔
وزیراعظم کی موجودگی میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا ہر صورت میں پی آئی اے کی نجکاری کرنے کا اعلان اس جانب واضح اشارہ ہے کہ نجکاری عمل کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔دوسری جانب اگر حکومت اور پی آئی اے کی تمام تنظیمیں نیک نیتی کا مظاہرہ کریں تو قومی ادارے کی نجکاری کی بجائے اسے خسارے سے نکال کر منافع بخش ادارہ بنایا جا سکتاہے۔ قومی فضائی کمپنی کی بہتری کیلئے بہر حال پہل حکومت کو کرنا ہو گی۔
ماضی میں پیٹرولیم مصنوعات 118 ڈالر فی بیرل تھی جو اب گھٹ کر 35 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے ۔ قومی فضائی ادارہ اس وقت پی ایس او، کسٹمز سول ایو ایشن، سرکاری ودیگر مالیاتی اداروں کا 300ارب روپے کا مقروض ہے۔ آمدنی کا ایک بڑا حصہ قرضوں اور ان پر سود کی مد میں ادا کیا جاتا ہے، حکومت سود ختم کر کے ادارے کی بہتری کے لیے پہلا قدم اٹھا سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں پی آئی اے منافع میں ہے اور مزید بہتری کے لیے پانچ سالہ منصوبہ کے تحت جہازوں کی خریداری اور پارٹس پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر کے قرضوں کی مد میں سبسڈی دینے سے خسارہ کم کیا جا سکتا ہے ہے ۔
کار گو سروس دوبارہ شروع کرنے سے منافع بڑھایا جا سکتاہے۔ دوسری جانب پی آئی اے کی تمام تنظیمیں ادارے کی بہتری اور ترقی کے لیے متحد ہو جائیں تو اسے منافع بخش ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان