تازہ ترین : 1
Petrol Ki Qeemton Main Be Had o Hisab Izafa

پٹرول کی قیمتوں میں بے حدوحساب اضافہ

وفاقی حکومت نے نئے سال کی آمد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 سے7 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول مہنگا ہونے پر قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔

ضیاء الحق سرحدی:
وفاقی حکومت نے نئے سال کی آمد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 سے 7 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول مہنگا ہونے پر قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری سے شروع ہو چکا ہے جو 31 جنوری تک نافذ العمل رہے گا۔ نئے سال کی آمدپر حکومت کا عوام کو مہنگائی کا تحفہ انتہائی افسوسناک ہے۔
ایک ایسے موقع پر جب عوام حکومت سے مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے کی توقع کر رہے تھے ایسے میں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے حکومت عوام کے ساتھ آئندہ کیا سلوک کرے گی۔مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا یہ کہنا کہ بھارت،بنگلہ دیش اور ترکی کے مقابلے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب بھی کم ہیں، یہ بات درحقیقت غریب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے کیوں کہ ان ممالک میں مہنگائی کی شرح پاکستان کے مقابلے میں انتہائی کم ہے اور وہاں پر عوام کو جو سہولیات فراہم کی جارہی ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
نئے سال کے آغاز پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خطیر اضافے پر حکومت کو شدیدتنقید کا نشانہ بنایا گیاہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آدھی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بصورت دیگر انہوں نے حکومت کواحتجاج کی بھی دھمکی دی ہے۔ان حالات میں جب 2ہفتوں کے دوران روپے کی قدر عالمی منڈی میں ڈالر کے مقابلے میں 6سے7روپے گری ہے تو اس کی بناپر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
بقول معاشی تجزیہ کار روپے کی قدر میں کمی کا مہنگائی پر جو اثر پڑے گا وہ تقریباً 3سے ساڑھے 3سوارب روپے بنتا ہے جبکہ دوسری طرف حکومت نے تیل کی قیمتوں میں تبدیلی سے3سو ارب روپے کمالئے ہیں۔اس صورت حال میں جب روپے کی قدر میں15سے20فیصد مزید کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے عام آدمی کو مزیدمہنگائی کے جھٹکوں کیلئے تیار رہنا ہو گا۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر براہ راست تمام ضروریات زندگی پر پڑتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں 5سالہ منصوبہ بندی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔معیشت کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے‘یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اشیائے ضرور یہ کی قیمتیں سارا سال بڑھتی رہتی ہیں اور ان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی شامل ہیں۔اگرچہ وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صارفین پر کم ڈال رہی ہے جس کی وجہ سے اسے 97ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
تاہم وہ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ فی لیٹر پٹرول کی اصل قیمت پر اس سے دگنے ٹیکس اور ڈیوٹیاں عائد ہیں جن کی وجہ سے عام آدمی شدید متاثر ہو رہا ہے۔دوسال قبل عالمی منڈی میں پٹرول مصنوعات کی قیمتیں انتہائی نچلی سطح پر رہیں تاہم اس کے فوائد براہ راست پاکستانی صارفین کو حکومت نے منتقل نہیں کئے، نہ ہی نارواٹیکسوں کی شرح میں کمی کی طرف توجہ دی گئی۔
وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو اعتدال پر لائیں اور ہرماہ بعد اضافے کے رجحان کو ختم کریں۔ ورنہ ان اقدامات کی وجہ سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام میں مزید نفرت پیدا ہوگی۔جس کا اگلے سال عام انتخابات میں مرکزی حکومت سمیت تمام جماعتوں کی کارکردگی پر اثر ہو گا۔عوام ابھی سے مایوسی اور بے بسی کا شکار ہیں کیونکہ مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔
ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں گے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں گے۔ اچھی طرز حکمرانی کے لئے ناگزیر ہے کہ حکومت کی ساکھ عوام میں بہتر بنائی جائے۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت پٹرولیم کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لئے باقاعدہ تحقیقاتی پینل بنائے، جس کی مرتب کردہ رپورٹ کے تناظر میں قیمتوں کا کم از کم سالانہ بنیادوں پر بجٹ کے ساتھ پلان بنایا جائے۔
وقت اشاعت : 2018-01-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں