بند کریں
جمعہ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پیرس دھماکے اورو زیر داخلہ کے خدشات
اپنے ایک بیان میں انھوں نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وزارت خارجہ اور ایف آئی اے سے ملکر ایک ایسی پالیسی اور لائحہ عمل وضع کیا جائے جس سے غیر ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں سے کسی غیرقانونی سلوک پر انکی مدد کی جا سکے
پیرس میں قتل عام کی ساری دنیا مذمت کررہی ہے۔فرانس نے شبہہ ظاہر کیاہے کہ یہ داعش کی کارستانی ہے، خود داعش نے اس کی ذمے داری بھی قبول کی ہے۔ پچھلے د ودنوں سے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فرانسیسی جیٹ بمباری کر رہے ہیں۔یہ اطلاعات بھی منظر عام پر آئی ہیں کہ دہشت گردوں کی تحویل سے عرب ممالک کے پاسپورٹ بر آمد ہوئے ہیں تاہم تین دہشت گردوں کا تعلق خود فرانس سے بتایا جاتا ہے۔

نائن الیون کے بعد صدر بش نے کہا تھا کہ ایک نئی صلیبی جنگ کاا ٓغا زہو گیا ہے ، اب پوپ صاحب کا فرمان ہے کہ تیسری عالمی جنگ شروع ہے۔بش کی صلیبی جنگ میں افغانستان ا ور عراق کو تہس نہس کیا گیا اور پاکستان جس کا نائن الیون کے کرداروں سے دور کو تعلق بھی نہ تھا، اسے بھی نشان عبرت بنا دیا گیا ہے۔اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ پوپ صاحب کی تیسری عالمی جنگ کیا گل کھلاتی ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے غیر ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کیلئے مشکلات اور مسائل میں اضافہ ہو گا۔ اتوار کو اپنے ایک بیان میں انھوں نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وزارت خارجہ اور ایف آئی اے سے ملکر ایک ایسی پالیسی اور لائحہ عمل وضع کیا جائے جس سے غیر ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں سے کسی غیرقانونی سلوک پر انکی مدد کی جا سکے۔
غیر ممالک میں رہنے والے ہم وطن پاکستان کا اثاثہ ہیں اور ا نہیں بلاوجہ کی مشکلات اورمسائل سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں ایک واضح لائحہ عمل وزارت داخلہ کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلے میں منگل کے روز اسلام آباد میں اعلی سطحی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔ چودھری نثار نے صرف چند روز قبل یورپ کو خبردار کیا تھا کہ وہ پاکستانیوں پر دہشت گردی کے ٹھپے لگانے کا عمل ترک کرے اور آئندہ پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا تو کراچی میں ایسی پروازوں کو نہیں اترنے دیا جائے گا، یورپی ممالک کے پا س کسی پاکستانی کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو وہ ان کا اپنی سر زمین پر ٹرائل کرے۔
چودھری نثار کا تجزیہ غلط نہ تھا، پیرس میں حالیہ خونریزی میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں اور نہ کسی پاکستانی کی طرف انگلی اٹھائی گئی ہے، حتی کہ ان حادثارت میں کوئی پاکستانی زخمی یا جاں بحق نہیں ہوا۔خدا نخواستہ کوئی پاکستانی زخمی بھی ہو جاتا تو عالمی میڈیانے پاکستان کے خلاف شورو غوغا مچا دینا تھا۔ چودھری نثار اسی طرح ڈٹے رہیں اور بیرون ممالک پاکستانیوں کے تحفظ میں سرگرمی کا مظاہرہ کرتے رہیں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اب کی بار وہ نہیں ہو پائے گا جو نائن الیون کے بعد ہوا۔

فرانسیسی انٹیلی جنس بڑی ہوشیار ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب حرم کعبہ پر انتہا پسندوں نے قبضہ جمایا تھا تو فرانسیسی کمانڈوز نے یہ قبضہ چھڑایا تھا۔ اس پس منظر میں فرانسیی حکومت کو دہشت گردوں تک پہنچنے اور انہیں ٹھکانے لگانے میں چنداں مشکل پیش نہیں آنی چاہئے۔ مگر یہ محض میرا گمان ہے، حقیقت یہ ہے کہ عالمی افواج دہشت گردی کے عفریت سیے نمٹنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
یہ فریضہ پاکستان کے سر پہ تھوپ دیا گیا اور چارو ناچار ہم نے اس چیلنج کو اس طرح قبول کیا کہ دنیا انگشت بنداں ہے اور پاکستان کا نام عزت سے لینے پر مجبور ہے۔صدر اوبامہ سے لے کر ہر عالمی سربراہ مملکت و حکومت پاکستان کے اس کردار کی ستائش ہی کرتا نظر آتا ہے۔چین تو خاص طور پر ممنون ہے جہاں ازبک، تاجک اور چینی انتہا پسند کھل کھیل رہے تھے اور عظیم چین کی عظیم فوج بھی ان کے سامنے بے بس تھی مگر پاک فوج نے ضرب عضب شروع کی اور سنگلاخ پہاڑوں اور تاریک غاروں میں گھس کر دہشت گردوں کی سرکوبی کی۔

پیرس کی دہشت گردی کی وجوہات کا اندازہ لگایا جاتا رہے گا، بنیادی بات یہ ہے کہ دنیا نے اسرئیل کے جورو ستم پر جو مجرمانہ خاموشی ا ختیار کئے رکھی، کسی حد تک یہ بھی دہشت گردی کا سبب بنی، مسلم دنیا میں آمریتوں کی بھی عالمی طاقتوں نے پیٹھ ٹھونکی جو عوام کے حقوق پامال کر رہی تھیں، ان ممالک کے نوجوا ن بھی رد عمل کا شکار ہوئے۔ یہ یقین مانئے کہ دہشت گردی کوئی فیشن نہیں، نہ اسے شوق یا مشغلہ قرار دیا جا سکتا ہے مگر اب کچھ عرصے سے دہشت گردی کو ایک کاروبار بھی بنالیا گیا ہے اور بعض ان دیدہ چہرے خفیہ طاقتوں کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں، مہذب دنیا نے غیر ریاستی عناصر پال رکھے ہیں، پاکستان میں سرگرم رہنے والی بلیک واٹر ان میں سے ایک ہے، ہر ملک کی فوجی سٹیبلشمنٹ نے اپنی کھال بچانے کے لئے لڑنے بھڑنے کا کام ٹھیکوں پر دے رکھا ہے۔
بھارت کے آ رمی چیف بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی فوج کو استعمال نہیں کریں گے بلکہ پاکستان کے اندر سے لوگوں کو لالچ دے کر انہی کے ہاتھوں دہشت گردی کا بازار گرم کریں گے ۔ اس پس منظر میں کون جانے کہ فرانس نے جن دہشت گردوں کی شناخت کا دعوی کیا ہے ، وہ درحقیقت کس کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے۔
ہم لوگ پیرس کے سحر میں گرفتار ہیں، شہباز شریف کہتے تھے کہ لاہور کو پیرس بنا دوں گا۔
میں چند ایک بار فرانس گیا ہوں، پیرس کی پہلی رات میں جاگتا رہا، اور شانزے لیزے پر چہل قدمی کرتا رہا، فرانسیسی لوگ اجنبیوں کی طرف مشکوک نظروں سے نہیں دیکھتے تھے مگر یہ نائن الیون سے پہلے کا زمانہ ہے۔پیرس کے ارد گرد کشادگی ہے اور موٹرویز کا جال پھیلاہوا ہے جو مختلف ممالک کی طرف جاتی ہیں اور کسی سرحد پر کسی چیکنگ کے بغیر اگلے ملک میں داخلے کی کھلی اجازت ہے، مجھے بھی اس نظام پر رشک آیا تھا اور ہمارے ملک میں ایسے لوگ ہیں جو بھارت کے ساتھ سرحد کھولنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر پیرس میں ایک سانحہ ہو اا ور دنیا نے دیکھا کہ ستر سال بعد فرانس اور بلجیم کی سرحد بند کر دی گئی، ثابت یہ ہوا کہ سرحد سرحد ہی ہوتی ہے، اور اسے کھلونا نہیں سمجھ لینا چاہئے۔

ان دنوں سوشل میڈیا پر مرحوم شاہ عبداللہ کا ایک بیان زیر بحث ہے۔ ذرا آپ بھی اس پر نظر ڈالئے اور اس کی سچائی کی داددیجئے۔
سعودی عرب کے فرماں روا شاہ عبداللہ نے اپنی وفات سے قبل ایک پیش گوئی کی تھی اور اہل مغرب کو بارہا متنبہ کیا تھا کہ دہشت گردی کا آتش فشاں ایشیااور مشرق وسطی میں بھڑک رہا ہے اس کے انسداد کے لیے جلد اقدامات نہ کیے گئے تو یہ آگ یورپ تک جا پہنچے گی، مگر اس وقت مغربی ممالک نے ان کی نصیحت پر کان نہیں دھرا، اب فرانس میں خون کی ہولی کھیلے جانے کے بعد ان کی پیش گوئی سچ ثابت ہونے پر سوشل میڈیا پر انہیں اور ان کی باتوں کو یاد کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ عبداللہ نے ایک تقریب میں دنیا بھر کے سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں تمام سفیروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے ممالک کی حکومتوں کو میرا یہ پیغام پہنچائیں کہ دہشت گردی کے ناسور سے صرف طاقت سے ہی نمٹا جا سکتا ہے اور ان کے خلاف کارروائی جلد از جلد ہونی چاہیے۔بدقسمتی سے آپ میں اکثر سفیروں کے ممالک نے دہشت گردی کے خلاف کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے جو انسانیت کے لیے خطرناک طرزِعمل ہے۔
آپ سب دیکھ رہے ہو کہ کس طرح لوگوں کے سر قلم کیے جا رہے ہیں اور کس طرح بچوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کٹے ہوئے سروں کو لے کر گلیوں میں چلیں۔مجھے یقین ہے کہ اگر دہشت گردوں کو نظرانداز کیا گیا تو وہ ایک مہینے میں یورپ تک پہنچ جائیں گے۔ اور یورپ پہنچنے کے ایک ماہ بعد وہ امریکہ پہنچ چکے ہوں گے۔اب سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے لوگ ان نصیحت آموز باتوں کو یاد کر رہے ہیں۔
شاہ عبداللہ کی بات پر کسی نے کان نہیں دھرے لیکن جو یقین دہانی وزیر داخلہ چودھری نثار نے اوور سیز پاکستانیوں کو کرائی ہے،اس پر تو حرف بحرف عمل کرناہمارے اپنے بس میں ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان