بند کریں
پیر مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان کے پُر سکون مقامات
اُن مقامات کے رہنے والے گندا پانی نہیں پیتے اور نہ ہی وہاں مریض لائنوں میں لگ کے پرچی کا انتظار کرتے ہیں ۔ وہاں ڈاکٹر جلاد اور قسائی کی مانند پانی بھرے ٹیکے لگانے کے بجائے 24گھنٹے مسیحا کے روپ میں رہتے ہیں
وطن عزیز پاکستان میں بھوک ، غربت ، افلاس ، بے روزگاری ، جہالت ، تنگ دستی ، ظلم ، ناانصافی ، بدترین اور ناقص صحت کے انتظامات ، ملاوٹ ذخیرہ اندوزی وغیرہ عام مسائل ہیں اور ان سے متعلق آپ روزانہ سُنتے رہتے ہیں ۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں بہت سے پُر سکون مقامات بھی ہیں ؟ جہاں لوگ پُر سکون زندگی گزارتے ہیں ۔ جہاں نہ لائٹ جاتی ہے نہ ہی وہاں کے لوگ روٹی کپڑے کوترستے ہیں نہ ہی اُنھیں مکان کا کرایہ دینا پڑتا ہے ۔
آپ تو فارمی مرغی کیلئے ترستے ہیں لیکن وہاں ہرن اور بیٹرکا گوشت دیسی گھی میں پکایا جاتا ہے ۔ اُن مقامات کے رہنے والے گندا پانی نہیں پیتے اور نہ ہی وہاں مریض لائنوں میں لگ کے پرچی کا انتظار کرتے ہیں ۔ وہاں ڈاکٹر جلاد اور قسائی کی مانند پانی بھرے ٹیکے لگانے کے بجائے 24گھنٹے مسیحا کے روپ میں رہتے ہیں ۔ وہاں نہ تو اوورریڈنگ ہوتی ہے اور نہ ہی اووربلنگ ۔
وہاں کے دسترخوانوں پر بیسیوں کھانے روزانہ رکھے جاتے ہیں ۔ اُن کے بچے سُوکھے ٹکڑوں پر نہیں بلکہ شہد اور بادام سے پلتے ہیں ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید میں تصورات کی دنیا میں آپ کو شداد کی جنت کی سیر کروارہاہوں کہ پاکستان کے 90فیصد عوام کو یہ حقیقت بتا رہاہوں کہ پاکستان میں واقعی ایسے پُرسکون مقامات ہیں جہاں نہ فکر معاش ہے نہ فکر زندگی اور نہ ہی غم عاشقی یہ تیسرا جملہ اس لیے لکھا کہ اُن مقامات میں ہمارا جانا تو ممنوع ہے کیونکہ ہم تو صرف غربت کی چکی میں پسنے کیلئے بنے ہیں ۔
یہاں جانے سے نہ صرف یہ جگہیں میلی ہوجائیں گی بلکہ سیکیورٹی خدشات بھی بڑھ جائیں گے لیکن ان پُر سکون مقامات کے نام ضرور سُن لیجیئے تاکہ آپ کی تسلی ہوکہ اس دھرتی پر بھی آرام دہ جگہیں موجود ہیں ۔ وزیر اعظم ہاؤس ، گورنرز ہاؤس ، آفیسرز کالونیاں ، بلاول ہاؤس ، رائے ونڈمحل ، بنی گالہ ، ولی خان ہاؤس ، اچکزئی ہاؤس ، گیلانی ہاؤس ، مہر منزل ، پیرپگاڑا ہاؤس ، کمشنرہاؤس DCO,s ہاؤس اسی طرح کے بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں چارسُو ” رحمت “ برستی ہے ۔
دراصل پاکستان صرف ان کاہے یہ سچے کھرے محب وطن پاکستانی ہیں یہ ہمارے رازق ہیں ۔ ہماری زندگی موت نوکری تعلیم صحت ان کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ ہر قانون سے آزاد ہیں ہم جیسے کیڑے مکوڑوں کو زیب نہیں دیتا کہ ہم ان کی زندگیوں میں مخل ہوں ہم 90فیصد تو صرف ان کے درکار طواف کرنے کیلئے یہاں ٹھہرائے گئے ہیں ۔ قیامت تک ان کا ایک احسان جو یہ 5سال بعد ہم پر کرتے ہیں کہ ووٹ کے عوض لذیذ چکن بریانی کھلادیتے ہیں ہم اس کا بدلہ نہیں دے سکتے اور پھر وہاں ہمیں اپنی ملوں فیکٹریوں اور کارخانوں اورزمینوں پہ نوکریاں بھی تو دیتے ہیں اور پھر 12ہزار ماہوار تنخواہ بھی ۔
کون کسی کیلئے اتنا کرتا ہے ۔ یہ تو ہمارے دیوتا ہیں ۔ ان کے پُر نور اور روشن چہروں کو Tvسکرین پر بغیر منہ دھوئے دیکھنے والے غریبوں کو سرعام کوڑے لگنے چاہئیں ۔ اوبھائی ! یہ بھگوان ہیں آپ لوگوں کی طرح بھوکے ننگے غریب نہیں آپ کا کیا ۔ آپ تو سن 80ء میں لڑیں تو مجاہد 2000میں لڑیں تو دہشت گردہم ایویں ہی لنڈے کی پینٹس پہن کر اپنے آپ میں ہیرو بنے پھرتے ہیں ۔
ہیرو تو ان کے بچے ہیں پیدا ہوں تو سونے کا نوالا مریں تو سنگ مرمر کی قبر ۔ کبھی ان پر سکون ، مقامات اوران میں رہائش پذیر افراد کی زیارت سے متعلق خواب میں بھی نہ سوچئیے گا ۔ کیا ہوا کہ ہمارے مذہب میں ذات پات کی کوئی اہمیت نہیں لیکن ہیں تو آخر ہم اچھوت کوئی نہ کہے تو کیا براہمنوں کا عمل ہی بتادیتا ہے کہ وہ اپنی رعایا کو کیا سمجھتے ہیں ۔
ہاں ایک کام ہوسکتا ہے ۔ ان کا بچا کچا جھوٹا کھانا کھا کر ان کے بستر کی میلی چادریں دھو کر ہم اپنا پیٹ بھر اور سر ڈھانپ سکتے ہیں ۔ قائداعظم  اپنی جیب کے کھوٹے سکوں کو یہاں راج کرتا دیکھ کر پچھتاتے ہوں گے کہ انھوں نے پاکستان کیوں بنایا ۔ ان پُرسکون مقامات کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے اور خُدائے برحق اللہ غنی کو پُکارتا ہے۔ کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے ؟ وہ کونسا جُرم ہے کہ ہم پر اُن لوگوں کومسلط کیا کہ جونہ صدیق رضی اللہ عنہ جیسے سچے نہ فاروق رضی اللہ عنہ جیسے دلیر نہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ جیسے غنی نہ علی رضی اللہ عنہ جیسے عالم وفاضل وبہادر تو جواب آتا ہے کہ خُدا اُس قوم کی حالت نہیں بدلتا نہ ہو جس خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا ۔
غریبوں کو بھوک غربت افلاس مبارک اور زمانے کے نام نہادنمرودوں کو عارضی جنت کی ہر آسائش مبارک اور ہم کو جشن آزادی مبارک ۔ تحریر : وقار احمد
تاریخ اشاعت: 2015-08-14

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان