تازہ ترین : 1
Pak China Iqtesadi Rahdari

پاک چائنا اقتصادی راہداری اورعلاقائی ترقی

پاک چائناا قتصادی راہداری (Cepec) وسطی ایشیا کا وہ مخیر العقول منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے پورے خطے میں ترقی و استحکام کا ایک نیا دورشروع ہوجائے گا جبکہ عالمی سطح پر بھی اس منصوبے کے اثرات محسوس کئے جائیں گے۔ اس منصوبے سے سربراہ حکومت کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ سی پیک سے صرف پاکستانی ہی نہیں پورا خطہ مستفید ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے صرف چین ہی نہیں، وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں اور روس بھی مستفید ہوسکے گا

پاک چائناا قتصادی راہداری (Cpec) وسطی ایشیا کا وہ مخیر العقول منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے پورے خطے میں ترقی و استحکام کا ایک نیا دورشروع ہوجائے گا جبکہ عالمی سطح پر بھی اس منصوبے کے اثرات محسوس کئے جائیں گے۔ اس منصوبے سے سربراہ حکومت کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ سی پیک سے صرف پاکستانی ہی نہیں پورا خطہ مستفید ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے صرف چین ہی نہیں، وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں اور روس بھی مستفید ہوسکے گا۔
ایک طرح سے بحری رابطوں سے محروم ( لینڈ لاکڈ) وسط ایشیاکی مسلم ریاستیں بحر ہند کے ذریعے اورپاک چین ا قتصادی راہداری کے راستے عالمی منڈیوں سے اپنی ضرورت کی چیزیں منگوا سکیں گی۔ گزشتہ صدی کے ربع آخر کے آغاز میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت سمجھا گیاتھا کہ دنیا کی یہ دوسری بڑی سپرپاور دراصل گرم پانیوں تک پہنچنے کا راستہ ہموار کررہی ہے۔
یعنی افغانستان کے بعدپاکستان پرحملہ کرسکتی ہے اسی تھیوری کومد نظررکھ کر سوویت یونین کو افغانستان میں روکنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ سوویت یونین تو رہی نہیں لیکن اب اقتصادی راہ داری کی تکمیل اور توسیع سے روس کو خود بخود پر امن طور پر گرم پانیوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی اور وہ بحیرہ عرب کے ذریعے اپنی ضرورت کی چیزیں دوسرے ممالک سے پاکستان کے ذریعے درآمد کرسکے گا۔
چین پاکستان کا دوست ملک ہے اوراس نے ہرکڑے وقت میں پاکستان کی ہرطرح سے مدد کی اسی طرح وسط ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات دوستانہ اور برادرانہ ہیں۔ حال ہی میں روس نے پاکستان سے تعلقات بہتربنانے کا عندیہ دیا ہے۔ دو ماہ قبل نہ صرف دونوں ملکوں کے فوجی دستوں نے مشترکہ مشقیں کیں بلکہ نومبر میں افغانستان کے بارے میں ماسکو میں ہونے والی سہ فریقی (پاکستان، روس، چین) کانفرنس بھی اس امر کاثبوت ہے کہ روس اس خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال میں خصوصی دلچسپی لے رہا ہے۔
مختصر الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ اقتصادی راہداری کا مستقبل روشن ہے اور یہ اس خطے میں تجارتی سرگرمیوں کوبڑھانے اورتیز تر کرنے میں ا ہم کردارادا کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہرطرح کی مخالفتوں اور مسائل کاسامناکرتے ہوئے اس کی تکمیل اورتحفظ کے لئے پوری طرح سرگرم اورتیار ہے۔ حال ہی میں وفاقی وزارت داخلہ نے پاک چین اقتصادی راہداری کے لئے بنائی گئی خصوصی سیکیورٹی ڈویڑن کے قیام کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔
خصوصی سیکیورٹی ڈویڑن سی پیک کے تحت چلنے والے تمام ترقیاتی منصوبوں اور ان پرکام کرنے والے چینی کارکنوں کی حفاظت کرے گا۔ خصوصی سیکیورٹی ڈویڑن میں 13 ہزار700 اہلکار ہوں گے جبکہ اس کی 9 بٹالینز کو 6 ونگز میں تقسیم کیاگیا ہے۔ اسی طرح پاک چین ا قتصادی راہداری منصوبے کے تحت محکمہ ریلوے کے چار ڈویڑنوں (سکھر، کراچی، کوئٹہ اورپشاور) میں ایک لاکھ تئیس ہزار ملازمین بھرتی کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔
ریلوے کے شعبہ انجینئرنگ اور مکینیکل میں تمام تر عملہ چینی بھرتی کیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں بے روزگاری کی شرح کم ہوگی۔ حکومت کو کوشش کرناچاہئے کہ انجینئرنگ اور میکنیکل کے شعبوں میں پاکستانی بھی شامل کئے جائیں۔ اس سے دوفائدے حاصل ہوں گے ایک توپاکستانی انجینئروں کوچینی حکام کیساتھ کام کرنے کا تجربہ حاصل ہوگا اور دوسرے ان کوروزگار میسر آئے گا اوروہ دوسرے ممالک میں قسمت آزمائی کے بجائے پاکستان رہ کرکام کرنے کوترجیح دیں گے۔
یوں برین ڈرین کی رفتارکو بھی کم کی جاسکے گا۔ مناسب ہوگا کہ عالمی سطح پرسی پیک کازیادہ سے زیادہ تعارف کرایا جائے تاکہ پوری عالمی برادری اس کی افادیت سے آگاہ ہوسکے۔ پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانا سی پیک کی اہمیت بڑھانے کاباعث بنے گا۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کررہی ہے۔ توانائی کے بحران پرقابو پانے کیلئے اقدامات کی رفتار مزید تیز کرنے کی ضرورت سے بہر حال انکارنہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعظم کایہ کہنا بھی غلط نہیں کہ خطے میں امن کے دشمن ہی دراصل سی پیک کے دشمن ہیں۔ سی پیک کو ان دشمنوں کی چیرہ دستیوں سے بچانا اس منصوبے میں دلچسپی رکھنے والے تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔
وقت اشاعت : 2017-02-09

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں