بند کریں
جمعہ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نیو کلیئر انرجی
اس سے گلوبل وار منگ کم کی جاسکتی ہے زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ دنیا پر انتہائی منفی اثرات مرتب کررہاہے۔درجہ حرارت بڑھنے سے بڑے پیمانے پر موسمی تبدیلیاں رونما ہونے لگی ہیں جن کے باعث قدرتی آفات کانہ تھمنے والا سلسلہ جنم لے چکا ہے۔
شیخ عبد الرحمن:
زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ دنیا پر انتہائی منفی اثرات مرتب کررہاہے۔درجہ حرارت بڑھنے سے بڑے پیمانے پر موسمی تبدیلیاں رونما ہونے لگی ہیں جن کے باعث قدرتی آفات کانہ تھمنے والا سلسلہ جنم لے چکا ہے۔درجہ حرارت میں اضافہ کی سب سے بڑی وجہ کاربن ڈائی آکسائیڈکازیادہ سے زیادہ اخراج ہے۔ یہ کاربن پٹرول‘ڈیزل کوئلہ اور قدرتی گیس کے زیادہ استعمال کے باعث پیداہوتا ہے اور اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری ترقی یافتہ ممالک پرعائد ہوتی ہے کیونکہ وہاں ان ذرائع ایندھن کا استعمال بہت زیادہ ہے۔
یہ مسئلہ اس قدرشدت اختیار کرچکاہے کہ اس سے نمٹنے کیلئے پیرس میں عالمی کانفرس کاانعقاد ہواجس میں195ممالک کے رہنما اور نمائند سے شریک ہوئے تھے۔کانفرس کابنیادی ایجنڈاموسمیاتی تبدیلیوں کے سامنے رکاوٹ کھڑی کرنے کیلئے کاربن کے اخراج کوکم کرنے پر غور کرتا تھا۔ انیسوی صدی سے دنیا کادرجہ حرارت میں ایک فیصد کے لحاظ سے اضافہ ہوا۔اس میں سے 0.60فیصد اضافہ گزشتہ 3دہائیوں کے دوران ریکارڈکیا گیاہے۔
پیرس کانفرس کے شرکاء کااتفاق اس بات پررہاکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کے سنگین مسئلے سے نجات اور طے شدہ مقاصد کے حصول کیلئے مشترکہ لائحہ عمل بنایا جائے تاکہ کاربن کے کم اخراج کویقینی بنایاجاسکے۔اور گلوبل وارمنگ بھی کم ہو۔اس کانفرس میں یہ بھی غور کیاگیاجارہاہے کہ توانائی کے حصول کیلئے ماحول دوست ذرائع استعمال کئے جائیں جن میں ہوا،شمسی توانائی اور ایٹمی ذرائع شامل ہیں۔
دنیا میں توانائی کی ضروریات بدستور بڑھ رہی ہیں جن کومندرجہ بالاذرائع سے بخوبی پوراکیا جاسکتاہے۔ورلڈنیوکلیئر ایسوسی ایشن کے مطابق نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی موسمی تبدیلیوں پر قابو پایاجاسکتا ہے۔ اس مسئلہ سے نجات حاصل کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پرعائد ہوتی ہے۔اس سلسلے میں اُن کو دواہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک یہ کہ وہ روایتی ایندھن کااستعمال کم کریں تاکہ کاربن کااخراج کم ہوسکے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ہوا،سورج اور نیو کلیئر توانائی کے استعمال کوفروغ دیں نیزترقی یافتہ ممالک ترقی پذیرممالک میں نیوکلیئر ٹیکنالوکہ سے توانائی حاصل کرنے کاانفراسٹرکچھ قائم کرنے میں مالی اور تکنیکی معاونت کریں۔ ان کے اس اقدام سے کاربن کے اخراج کوکم کرنے میں مددمل سکتی ہے۔
اس اقدام سے لوکاربن سوسائٹی تشکیل دی جا سکتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کونیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حوالے سے کسی قسم کاامتیازی سلوک کامظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اس میں ذاتی پسنداور ناپسند کی بجائے دنیا کے اجتماعی مفاد کوترجیح دینی چاہیئے۔عالمی انرجی ایجنسی کے عہدیدار بھی اس ضمن میں یہ یہ کہہ چکے ہیں کہ نیوکلیئر انرجی انتہائی کم مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈخارج کرتی ہے۔
اگرہم نیوکلیئر انرجی کادوسرے ذرائع سے موازنہ کریں تویہ بات سامنے آتی ہے کہ نیوکلیئر انرجی پرچلائے جانے والاگھرسال بھر میں 56کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتاہے۔ کوئلہ سے توانائی حاصل کرنے والا گھرسال میں 3503کلوگرام کاربن خارج کرتاہے۔ تیل سے سالانہ2620کلو گرام کاربن خارج ہوتاہے جبکہ قدرتی گیس استعمال کرنے سے ایک گھر سے سالانہ1736کلوگرام کاربن اخراج ہوتاہے۔
اس کے ساتھ ساتھ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کواستعمال کرتے ہوئے بہت کم قدرتی وسائل خرچ ہوتے ہیں لیکن بدلے میں کثیربجلی حاصل ہوتی ہے۔اس سلسلے میں محض 7گرام یورنییم سے سالانہ 3500یونٹس جبلی استعمال کرنے والے گھرکی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔دوسری طرف دیگر ذرائع سے 3500یونٹس بجلی پیداکرنے کے لئے 890کلوگرام تیل1100کلوکوئلہ جبکہ 1000کیوبک میٹرگیس درکار ہوتی ہے۔
ہوااور سولرسسٹم کے ذریعے سستی بجلی پیداکی جاسکتی ہے لیکن یہ ذرائع ہروقت دستیاب نہیں ہوتے جبکہ ان کے برعکس نیوکلیئر انرجی ان دونوں ذرائع کی نسبت بلاتعطل دستیاب ہوتی ہے۔یہی بات اسے ایک پائیدار اور قابل اعتماد ذریعہ توانائی بناتی ہے۔جوں جوں دنیا کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے بجلی کی طلب بھی بڑھتی جارہی ہے۔اس کے باوجود دنیاکی بقاکیلئے جن چیزوں سے کاربن زیادہ مقدار میں خارج ہوتاہے ان کے استعمال کوکم سے کم سطح پر لانے کی ضرورت ہے کیونکہ کاربن کابے تحاشا اخراج موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کاباعث بن رہاہے اور نتیجے کے طور پردنیا کوآئے روزمہیب اور خوفناک قدرتی آفات کاسامناکرنا پڑتاہے۔
اس سلسلے میں ماہرین ماحولیات کامئوقف ہے کہ ہمیں ہرحال میں 2050ء تک درجہ حرارت بڑھنے کی شرح کوکم کرنا ہوگا۔پیرس میں ہونے والی کانفرس کے شرکاء کاجوش وخروش دیکھ کریہ اندازہ لگایاجاسکتا ہے اس کی پیش کردہ سفارشات اور تجاویز کو عالمی سطح پرقابل عمل بنانے کی بھی بھرپور ط کوشش کی جائے گی۔دنیا بھرکے رہنماء اس مسئلے کوحل کرنے میں نہایت پُرعزم ہیں اور دوباہمی اتفاق رائے سے اس سنگین مسئلہ کوحل کرنا چاہتے ہیں۔
نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے بجلی پیداکرنا بہت اہمیت کاحامل معاملہ ہے۔اس کے ذریعے کاربن بھی کم پیداہوگا اور عالمی سطح پر ماحول دوست توانائی حاصل ہوگی۔ پاکستان بجلی کے شدید بحران کے ساتھ ساتھ گلوبل وارمنگ کے لحاظ سے ہیٹ سرپلس زون میں واقع ہے۔ یہاں آنے والی قدرتی آفات،جن میں سیلاب،بارشیں اور بن موسم برف باری، طوفانوں حتیٰ کہ بعض مایرین زلزلوں تک کوموسمیاتی تبدیلیوں کانتیجہ قرار دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کوبہت جلد اور بلاتاخیراہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ماہرین کاکہناہے کہ موسمی تبدیلیوں کے باعث پاکستان سے مون سون کاپوراسزین غائب ہونے کے امکانات غالب ہیں۔ان تبدیلیوں کے باعث پاکستان کوبارشوں کی زیادتی یاخشک اور سرد موسم کے ساتھ ساتھ طویل خشک سالی جیسے ماسائل کا سامنا کرناپڑسکتاہے۔اس سے پاکستان کاشعبہ زراعت بری طرح متاثر ہوگاجبکہ ملک کی معیشت کازیادہ دارومدارہی زراعت پرہے۔
وزیراعظم نوازشریف نے نومبر 2013ء میں کراچی میں چین کے تعاون سے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے توسیعی منصوبے کے تحت دونئے ایٹمی بجلی گھروں کاسنگ بنیاد رکھاتھا۔پاکستان میں پانچویں سب سے بڑے نیوکلیئر منصوبے کوسٹل پاورپراجیکٹ،کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید چھ نیوکلیئر پلانٹس لگانے کااعلان کیاتھاجو نیوکلیئر انرجی ویژن 2050ء کی جانب سفر کاآغاز ہوگا۔
تاہم اس منصوبے کے خلاف بعض غیرسرکاری تنظیموں نے عدالت سے رجوع کرلیا۔انہوں نے عدالت میں یہ مئوقف اختیارکیاکہ نئے جوہری پلانٹس کی تعمیر سے دوکروڑ آبادی والے شہر کراچی کی آبادی براہ راست خطرے کی زد میں آجائے گی۔کراچی کے شہری لوڈشیڈنگ سے چھٹکارہ پانے کیلئے بجلی حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ چرنوبل اور جاپان میں فوکوشیما کے ایٹمی پلانٹ پرہونے والے حادثات سے خوفزدہ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی محفوظ نہیں ہے۔حکومت کوچاہئے کہ وہ ان ایٹمی انرجی پلانٹس کے حوالے سے جامع لائحہ عمل تشکیل دیتے ہوئے اس پر شہریوں کے تحفاظت دور کرے تاکہ بجلی بحران کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ سے بھی نجات حاصل ہوسکے جوقدرتی آفات ختم دینے کابڑاسبب ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-19

(1) ووٹ وصول ہوئے