بند کریں
جمعہ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
این ٹی ایس (نیشنل ٹیسٹنگ سروس)
کروڑوں کی کمائی کے باوجود تحفظات کیوں نیشنل ٹیسٹنگ سروسزکے حوالے سے اکثرطلباء وطالبات تحفظات کااظہار کرتے رہتے ہیں۔
شاہ جی:
نیشنل ٹیسٹنگ سروسزکے حوالے سے اکثرطلباء وطالبات تحفظات کااظہار کرتے رہتے ہیں۔این ٹی ایس امتحانات لینے والا ایک بڑانجی ادارہ ہے جس کے بارے میں عام خیال یہی ہے کہ شاید سرکاری ادارہ ہے۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اکثرسرکاری ملازمتوں کے لیے بھی این ٹی ایس کے ذریعے تحریری امتحان کاعمل مکمل کروایاجاتاہے۔
ماضی میں ایم فل گیٹ ٹیسٹ بھی یہی ادارہ لیتاتھا جوایک عدالتی حکم نامے کے ذریعے ختم ہوا۔اب حال ہی میں لاہورہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس سیدمنصورعلی شاہ نے این ٹی ایس کوٹیسٹ فیس کی مددمیں وصول کئے گئے ایک کروڑ سات لاکھ روپے نوجوان وکلاء کوواپس کرنے کاحکم دیا ہے۔اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ یہ نجی ادارہ امتحان کے نام پرایک ایک سیٹ کتے پیسے کمارہا ہے۔
این ٹی ایس کی امتحانی فیس ہر پاکسیانی کے لیے ممکن نہیں ہوتی ہے۔اس سے قبل سرکاری ادارے خصوصاََ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی جانب سے لئے گئے امتحانات کی فیس تین چارسو روپے تک ہوتی تھی لیکن این ٹی ایس عموماََ ایک امیدوار سے ایک ہزار روپے یا اس سے زائد بھی وصول کرتاہے۔ ایک سیٹ پرایک ہی شخص منتخب کیاجاتاہے لیکن اس پرامیدواروں کی تعداد ہزاروں روپے این ٹی ایس کی نذرکرنے کے باوجود بیروزگار نظر آتے ہیں۔
این ٹی ایس کے بارے میں یہ بھی کہاجاتاہے کہ اس کے تیارکردہ سوالنامے اکثرمتعلقہ مضامین پرپورانہیں اترتے اور اکثر ایک ہی طرح کے سوالات متعدد مختلف نوعیت کی ملازمتوں کے لئے آئے امیدواروں کوپیش کردیئے جاتے ہیں۔امیدواروں کایہ بھی کہناہے کہ بعض اوقات این ٹی ایس ہڑتال کے لیے کاربن کاپی فراہم کرتاہے اور ورنہ عموماََامیدوار کے پاس نہ تواپنی جوابی کاپی چیک کروانے کانظام ہوتاہے اورنہ ہی وہ اس بات کی تصدیق کرپاتاہے کہ اس کی جوابی کاپی کے نمبردرست لگے ہیں۔
اسی طرح امیدوارامتحان دینے کے بعد کسی قسم کے اعتراض کے قابل بھی نہیں رہتا۔این ٹی ایس کے حوالے سے متعدد تحفظات کے باوجود اس کانظام بہتر کرنے پرکوئی توج نہیں دی جاتی۔ ہرماہ امیدواروں سے امتحانات کے نام پر کروڑوں روپے وصول کرنے والے اس نجی ادارے کے سوالیہ پر پیپرز پرہربارسوالات اٹھنا بذات خودکئی سوالوں کوجنم دیتاہے۔اسی طرح یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیاکوئی ادارہ امتحانی فیس کے تناسب کوکنٹرول کرنے کابھی ذمہ دارہے یانہیں؟عدالت اس سے قبل بھی این ٹی ایس کے حوالے سے احکامات جاری کرچکی ہے۔
اب وکلاء کی فیس واپس کرنے کا حکم بھی جاری کیاگیاہے لیکن دیگر طلباء کی فیس واپسی یااس میں کمی کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ متعددامتحانات ایسے بھی ہوچکے ہیں جن کے نہ تونتائج جاری ہوئے اور نہ ہی انٹرویو کے لیے کسی کوبلایاگیا۔اس کی وجہ چاہے کچھ بھی ہولیکن سوال یہ ہے کہ جن طلباء نے امتحانی فیس اداکی تھی ان کی فیس واپس کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔
ماضی میں ایک خبریہ بھی شائع ہوچکی ہے کہ این ٹی ایس تعلیمی شعبہ جات سے متعلق بعض امتحانات میں طالب علموں کوایک دو نمبرسے صرف اس لیے فیل کردیاجاتاتھاکیونکہ اگلی ڈگری کے لئے دوبارہ این ٹی ایس کوفیس اداکرکے امتحان دینے کے محتاج تھے۔اگروہ خبردرست تھی توپھراس کا مطلب یہ ہے کہ این ٹی ایس دولت کمانے کے چکر میں ہزاروں نوجوانوں کامستقبل بربادکردیتاہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خبرجاری کرنے والے رپورٹر کے خلاف این ٹی ایس نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔سوال یہ ہے کہ ذمہ داران کیوں آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔سچ کیاہے یہ سامنے آنا چاہیے لیکن شایدارباب اقتدارسچ سامنے لانے کے قابل نہیں ۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-24

(0) ووٹ وصول ہوئے