تازہ ترین : 1
Nawaz Shatif Ba MUqabla Esteblishment

نواز شریف بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ ‘زرداری کی لاتعلقی!

پانامہ سے اقامہ تک․․․․․․․․․․ ترقی کیلئے اتحاد ضروری ، ادارے ملکی مفاد میں کام کریں:آرمی چیف کا پیغام

سالک مجید:
اب یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چپھی نہیں رہی ہے کہ نواز شریف کی اصل لڑائی اسٹیبلشمنٹ سے ہے اور اس کی بنیادی وجہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی پالیسی پر اختلاف ہے ۔ ادارے بھارت کے حوالے سے زیرو ٹو لیرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جبکہ نواز شریف بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر خطے میں منڈلانے والے ایٹمی جنگ کے بادل ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن نواز شریف کا طریقہ انداز اور رویہ پریشان کن ہے جبکہ بھارت کے عزائم کا جارحانہ پن اس سلسلے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، نواز شریف نے 1992 ء میں گن پوائنٹ پر بھی استعفیٰ نہیں دیا تھا ڈٹ گئے تھے ان کو معلوم تھا کہ بھارت وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کابس پر بیٹھ کر پاکستان آنا اور لاہور میں مینار پاکستان پر کھڑے ہوکر” قرار داد لاہور“ کی بات کرنا ان کے مخالفین کو پسند نہیں آیا۔
ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ ”کارگل“ جنگ ان کی امن اور دوستی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے لڑی گئی اس لئے انہوں نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہونا قبول کرلیا تھا لیکن بندوق کی نالی پر جو لو گ استعفیٰ لینے آئے تھے اُن کو صاف انکار کردیا تھا ۔ اس کے بعد کیا ہوا کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پھر منتخب وزیراعظم کو گرفتا رکرلیا گیا اور دنیا کے سامنے اسے ایک ”ہائی جیکر“ کے طور پر پیش کردیاگیا اس پر مقدمہ چلایا گیا۔
اورفوجی حکومت نے اسے سزائے موت دلانے کے لئے بہت دباؤ ڈالا لیکن جج نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے صرف ”عمر قید“ پر اکتفا کی اور ہائی جیکنگ کی سازش میں ملوث ہونے کے دیگر تمام ملزمان بشمول شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کو صاف بری کردیا تھا۔ وقت گزرتا گیا ۔ نواز شریف پہلے اللہ کے گھر پہنچے وہاں کچھ سال گزارنے کے بعد لندن پہنچے اور پھر 2007ء میں پاکستان آگئے۔
اس دوران ڈکٹیٹر مشرف نے ان کو پاکستان آنے سے روکے رکھا تھا اور دونوں بھائیوں شہباز شریف اور نواز شریف کو ایک ایک بار پاکستان آنے کے باوجود ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا۔ جبکہ ان کے والد محمد شریف کے انتقال پر ان کی میت کے ہمراہ پاکستان آنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ وقت بدلا تو نواز شریف کی قسمت کا ستارہ پھر چمکا۔ ڈکٹیٹر مشرف غاصبانہ اقتدار کا سورج غروب ہوگیا اور 2013ء میں نواز شریف تیسری مرتبہ الیکشن جیت کر وزیراعظم پاکستان بن گئے۔
ڈکٹیٹرمشرف دور میں بنائے گئے ہائی جیکنگ سمیت دیگر تمام جھوٹے مقدمات اور سزائیں کا لعدم قرار پاگئی تھیں اس لئے نواز شریف ایک بار پھر وزیراعظم منتخب ہوئے اور یہ ان کی قیادت پر عوام کے بے پناہ اعتماد کا مظہر تھا وہی قیادت جس نے 1998ء میں ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو دنیا کی پہلی اسلامی نیوکلیئر طاقت کا اعزاز بخشا تھا۔ 2013ء میں وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف نے جب بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی تقریب حلف برادری میں شرکت کا فیصلہ کیا تو وہیں سے مخالفین کے کان کھڑے ہوگئے، اس کے بعد مختلف عالمی فورسز پر نواز شریف اور مودی کی ملاقاتوں میں علاقائی امن اور خطے کی پسماندگی پر قابو پانے کے لئے باتیں ہوئیں ، اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ملکوں کو آپس میں لڑنے کی بجائے اپنے لوگوں کی غربت کے خلاف لڑنا چاہیے ، یہاں تک سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا لیکن اس کے بعد وو بڑے اہم واقعات ہوئے جن پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ،پہلا واقعہ نواز شریف کی نواسی کی شادی میں بھارتی وزیراعظم مودی کی اپنے لوگوں کے ساتھ اچانک لاہو ر آمد ، نواز شریف کی جانب سے بھر پور استقبال ، دوسرا واقعہ بھارتی بزنس ٹائیکون جندل کی پاکستان کی آمد اور مری میں نواز شریف سے ملاقات ، اس کے بعد حالات بتاتے ہیں کہ معاملات سنبھل نہیں سکے، کوشش کے باوجود معلامات بگڑتے چلے گئے۔
کیس چلاپانامہ کا سزا مل گئی اقامہ کی ، یہی نواز شریف کا مئوقف ہے 28 جولائی کو سپریم کورٹ کے ہاتھوں نا اہلی کی سزا پانے کے بعد شروع شروع میں تو نواز شریف نے عوام کے سامنے یہی سوال رکھا کہ ”مجھے کیوں نکالا“ بتاؤ ”مجھے کیوں نکالا“ جرم یہ بتایا کہ اقامہ تھا اور بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی، تنخواہ نہ لینے کی سزادے کر نااہل کردیا گیا، معاملات جوں جوں آگے بڑھ رہے ہیں نواز شریف کے تیور بھی بدلتے جارہے ہیں اور وہ زبان کھولنے لگے ہیں۔
ایک دن بولے کے فیصلے میرے خلاف ہی آنا ہیں کیونکہ یہ ججز بغض سے بھرے بیٹھے ہیں، اب نواز شریف نے ایک اور پینترا بدلا ہے اور بول رہے ہیں کہ ”مجھے سزا دی نہیں جارہی بلکہ دلوائی جارہی ہے“۔ 1999ء میں بھی مجھے ہائی جیکر بنا دیا گیا تھا وہ بھی جھوٹے مقدمات تھے،غلط بے بنیادالزامات تھے اور اب بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ نواز شریف نے اپنے قریبی رفقاء کو کہہ دیا ہے کہ کوئی مجھے جیل جانے سے نہ ڈرائے۔
یہ سب کچھ میں 1999 ء سے دیکھ چکا ہے گویا نواز شریف ایک بار پھر ڈٹے ہوئے ہیں، 1999ء میں بھی انہوں نے استعفیٰ دینے کا دباؤ مسترد کررکے جیل جانا گوارہ کرلیا تھا اور 2017ء میں بھی انہوں نے مستعفی ہونے کی بجائے عدالت کے ہاتھوں نااہلی کی سزا سننا گوارہ کرلیا اور اب ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے کمر بستہ ہیں اور ان کا واضح طورپر کہنا ہے کہ جمہوریت کی خاطر ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں عوام دعا کریں کہ اللہ پاکستان کے حال پر رحم کرے۔
دوسری طرف آصف زرداری نے کہہ دیا ہے کہ اداروں کو بدنام کرنے کی سازش ہورہی ہے اور نواز شریف یہ سازش کررہے ہیں لہٰذا ہم نواز شریف کا ساتھ نہیں دے سکتے جبکہ عمران خان نے اس صورت حال کے حوالے سے خود کو الگ پوزیشن پر رکھا ہوا ہے اُن کا کہنا ہے کہ ”گرگس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور“ ، لہٰذا مجھے شریف خاندان سے تشبیہ نہ دی جائے سب سے اہم بیان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا سامنے آیا ہے جو انہوں نے منگلا میں خطاب کرتے ہوئے دیا۔
اس میں انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ ”تمام اداروں کو ملکی مفاد میں کام کرنا ہوگا، ترقی کے لئے اتحاد ضرور ی ہے“ ان بیانات سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ کون کن حالات سے گزر رہا ہے اور کسے کیا پیغام دے رہا ہے۔ 2018ء کے الیکشن سے پہلے کیا کچھ ہوتا ہے ہر آنے والا دن ملکی سیاست کے حوالے سے اہم نظر آرہا ہے۔
وقت اشاعت : 2017-12-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں