بند کریں
منگل مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نوعمربچے کے ہاتھوں کمسن بچی کالرزہ خیزقتل
درندگی کیلئے گلی سے اٹھایا،رونے پرمنہ میں مٹی بھردی مظلوم بچی کوگندے نالے میں پھینک کرفرارہوگیا
پیرامدادحسین:
کم پڑھے لکھے معاشرے میں میڈیابالخصوص انڈین فلمیں دیکھنے کے روجحان نے جس انداز میں ہمارے چھوٹے بچے بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں گزشتہ دنوں پاکپتن میں رونماہونے والے اندوہناک واقعہ نے والدین کو لرزا کر رکھا دیا ہے۔ ضلع پاکپتن کی تحصیل عارفوالہ کے گاؤں31/EBکے رہائشی محنت کش محمد شفیق کی 5/6سالہ معصوم بیٹی سعدیہ نے شام ساڑھے پانچ بجے ماں سے ضدکرکے پانچ روپے حاصل کرکے گلی کے کارنرپر نبیل اشرف کی پرچون کی دوکان سے گولیاں ٹافیاں لینے گئی جہاں پرنبیل اشرف ٹی وی پرمیچ دیکھ رہاتھا اس کے ساتھ15/16سالہ محمدارشد ولداللہ دتہ قوم آرائیں بھی بیٹھا تھا جس نے معصول بچی سعدیہ کوڈبے سے گولیاں نکال کردیں جوبچی لیکرگولیاں کھاتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑی چندہی لمحوں میں ملزم محمدارشدنے معصوم بچی کواٹھاکراپنی گرم چادرمیں چھپاکرگاؤں سے باہرکھیتوں کی طرف جارہاتھاکہ ننھی بچی نے رونا شروع کردیا اہل علاقہ کوعلم ہوجانے کے خوف سے سفاک ملزم ارشدنے بچی کی آوازبندکرنے کے لئے اس کے من میں مٹی بھردی اور گاؤں سے دورلے کرچلاگیا۔
معصوم بچی سعدیہ کے گھرواپس نہ پہنچنے پرمحمد شفیق کے گھرمیں توجیسے قیامت برپا ہوگئی ہو،بچی کی ماں اورباپ دیوانوں کی طرح اہل علاقہ کے ساتھ مل کرڈھونڈتے رہے۔شفیق نے پولیس ریسکیو15 کو اطلاع دی۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شاہنوازسندھیلہ خودموقع پرپہنچ گئے انہوں نے ننھی بچی سعدیہ کی روتی ہوئی والدہ کے سرپرست شفقت رکھتے ہوئے بچی کی بازیابی کی یقین دہانی کروائی،ایس ایچ اوتھانہ سٹی عارفوالہ راناعمران ٹیپوکی سربراہی میں پولیس ٹیم تشکیل دیکرفوری بازیابی کی ہدایات دیں۔
رانا عمران ٹیپونے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ گاؤں کے اطراف میں بیٹھے خانہ بدوشوں کی جھونپڑیوں میں سرچ آپریشن کرتے ہوئے تین افراد کوحراست میں لے لیا۔انہوں ے نے گاؤں کے چوکوں میں بیٹھنے والے نوجوانوں سے بھی پوچھ کچھ شروع کی توایک دیہاتی نے بتایاکہ ایک نوعمرلڑکاروتی بچی کوچادرمیں چھپا کرلے جا رہا تھا جس پرپولیس نے گاؤں کے اطراف کی فصلوں میں بچی کی تلاش شروع کی تو تقریباََ ایک کلومیٹر دورپانی کے کھال سے بچی کی نعش پولیس کومل گئی۔
معصوم بچی کے منہ میں مٹھی بھری ہوئی تھی۔ نعش کوپوسٹ مارٹم کے لئے ٹی ایچ کیوہسپتال پہنچایاگیا جہاں ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم کے بعدبچی کی موت گلہ دبانے اور منہ میں مٹی جانے سے ہونے کی تصدیق کردی۔ میڈیکل رپورٹ میں بچی سے زیادتی کی تصدیق نہیں کی گئی۔پولیس نے 15/16سال جواں سالہ لڑکے محمدارشد کو گرفتار کیا تو اس نے اپنا جرم تسلیم کرلیا۔ ایس ایچ اوتھانہ صدرعارفوالہ وحیداحمدخان نے بتایاکہ ملزم محمد ارشد نے اپناجرم تسلیم کرتے ہوئے بتایاکہ اس نے بچی کوبری نیت سے اٹھایاتھا۔
وہ اسے گاؤں سے باہرکھیتوں کی طرف لے جارہاتھا کہ بچی زورزور سے روناشروع کردیاجس کو خاموش کروانے کے لئے ملزم نے بچی کے منہ میں مٹی ڈالنا شروع کردی اور گاؤں سے باہرلیکر بھاگ پڑا۔رازفشاں ہونے کے خوف سے ملزم نے بچی کوبندنالہ کے کھڑے پانی میں پھینک کرفرارہوگیا۔ملزم نے انکشاف کیاکہ وہ ٹی وی پر مختلف انڈین اور انگلش فلمیں دیکھتاتھا جس کودیکھ کراس نے بچی کواٹھایااور وہ اس کے ساتھ ریپ کرنا چاہتاتھا۔
پولیس نے شناخت پریڈ پر ملزم کوجوڈیشل ریمانڈپرجیل بھجوادیاہے۔ مقتولہ بچی سعدیہ کے والدمحمد شفیق نے بے بسی کی تصویربنے ہوئے حکومت سے انصاف کی فراہمی کامطالبہ کیاہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر پاکپتن شاہنواز سندھیلہ نے نوائے وقت،سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ معاشرہ کی خوبصورتی ماں کی تربیت سے ہے۔آج کل کے دورمیں ماں کی تربیت ختم ہوچکی ہے،انسان کی تربیت اسکی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بلاشبہ معاشرے میں بہتری اور استحکام کے لئے ہمین اپنی علاقائی روایات اور آبای اسلامک کلچرکی طرف لوٹنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ انااوروقار کے لئے انسانیت کوچھوڑکرشیطانیت کافالورہورہاہے۔انہوں نے کہاکہ گاؤں 31/ab میں پیش آنے والہ واقعہ بھی تربیت کریں اور نظررکھیں کہ وہ کہاں بیٹھتے ہیں وہ کیادیکھتے ہیں تواس قسم کے واقعات کورونما ہونے سے روکاجاسکتاہے۔
ڈی پی اونے کہاکہ انہونے پاکپتن میں اپنے عہدے کاچارج سنبھالتے ہی پولیس کو متحرک کر کے جرائم پیشہ افراد کے تعاقب پرلگادیاجس سے اب الحمداللہ مثبت نتائج نکلناشروع ہوچکے ہیں۔ انہوں نے نے کہاکہ عوام اور پولیس کے درمیان رابطہ بہتربنانے کیلئے کمپلنیٹ سسٹم کااجراء کیاجارہاہے جس کے ذریعے عوام اپنی شکایات متعلقہ تھانے کودیں گے جہاں ایس ایچ اوکواس بات کاپابندکردیاگیاہے کہ وہ شکایت کنندہ کی بات حسن اخلاق کے ساتھ سنیں اگر درخواست دھندہ کی شنوائی تھانہ کی سطح پرنہ ہوتو ڈی پی او آفس میں شکایت کی انکوائری ایس ڈی پی اولیول کے آفیسر کو سونپی جاتی ہے۔ تاکہ مظلوم کی فوری دادرسی ہوسکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-29

(0) ووٹ وصول ہوئے