تازہ ترین : 1
Musafiron Ka Tifon Khanay Walay

مسافروں کا ٹفن کھانے والے

PIAملازمین کے لاکرز سے سامان برآمد ہوگیا

شاہ جی:
قومی ایئرلائن سے سفر کرنے والے مسافروں کوایئرلائن سے شکوہ رہتاہے۔ پہلے توعملے کے اخلاق اور سفری سہولیات کے مناسب نہ ہونے کی ہی شکایات موصول ہوتی تھی‘ لیکن کچھ عرصہ سے خاص طور پر مسافروں کے سامان کی گمشدگی کی شکایات میں بھی خاصہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اسی طرح یہ شکایات بھی عام ہوگئیں کہ دوران پرواز مسافروں کوفراہم کی جانے والی اشیاء خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کے معیار اور تعداد میں بھی کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔
ایسی شکایات عموماََ ان مسافروں نے کیں جن کے معمولات میں ہوائی سفر بھی شامل ہے اور وہ زیادہ ترپی آئی اے کوترجیح دیتے تھے۔ ایک رپورٹ میں انکشاف ہواکہ اس کی وجہ پی آئی اے کااپنا عملہ ہی ہے۔ قومی ایئرلائن کے بعض افسراور ملازمین ملی بھگت سے مسافروں کو فراہم کئے جانے والے سامان کی بھاری کھیپ اپنے گھرلے جاتے ہیں اور ریکارڈ میں یہ سامان مسافر ہی استعمال کررہے ہوتے ہیں۔
گزشتہ دنوں پی آئی اے کے سیکورٹی منیجراسد بخاری نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے دفاتر میں لاکرزتوڑ کرتلاشی لی۔ اس تلاشی میں دوران پرواز مسافروں کوفراہم کی جانے والی بھاری مالیت کی اشیاء خوردونوش اور ضروریات زندگی کے سامان کی بھاری کھیپ برآمدکرلی جس کے بعد افسروں اور ملازمین کے خلاف سامان چوری کرنے کی پورٹ اعلیٰ حکام کوبھجوانے کابھی کہاگیاہے۔
اس کارروائی کے دوران افسروں اور ملازمین کے کمروں سے برآمد ہونے والے پی آئی اے کے سامان میں تولیے‘ پروفیومز‘ منرل واٹر‘ کولڈڈرنکس لسٹک سینڈوچ‘ بریانی کے ڈبے ‘ ٹشوپیپرز کے علاوہ دیگر اشیائے خوردونوش اور ضروریات زندگی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کے دوران چیف قونصلر‘ ٹائب صدرائیرلیگ ودیگر افسرون کی جانب سے مزاحمت بھی کی گئی ۔
پی آئی اے کے عملہ کی جانب سے اس ہیراپھیری کے ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ مسافر ایئرلائن کے عملے کی جانب سے بداخلاقی اور سفری سہولیات کے معیاروتعداد میں کمی کی جوشکایات کرتے تھے وہ درست تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیااب مسافر بریانی ‘ٹشو کولڈڈرنکس‘ اور تولیے کیلئے جہاز سے چھلانگ لگاکر عملے کے دفتر جایاکریں؟ پی آئی اے کے ملازمین کایہ عمل ہمارے مجموعی روئیے کوبھی ظاہر کرتاہے۔
عموماََ ہمارے ہاں ایسی کرپشن کواہمیت نہیں دی جاتی اور اسے معمول کی ” عادت“ یا‘ اختیار“ قرار دیدیاجاتا ہے یہاں سوال عام شہریوں سے بھی ہے کہ کیایہ سب ہمارے عام رویئے اور عادت کی وجہ سے ہی اس سطح تک نہیں پہنچا؟ ضرورت اس امرکی ہے کہ عام شہری گلی محلوں کی سطح پراس طرح کی ہیراپھیری کوختم کریں اور جب تک انفرادی اور چھوٹی کرپشن کاخاتمہ نہیں ہوتا‘ تب تک بڑی کرپشن کادروازہ بند نہیں ہوگا۔
ہمارے ہاں اکثر سرکاری ونجی دفاتر میں بھی دفتری سٹیشنری کاذاتی استعمال معمول کی بات ہے۔ عام طور پر اسے جرم نہیں سمجھاجاتا‘ لیکن یہی “ جرم “ اداروں ک تباہی اور ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور ڈاؤن سائزنگ کی بنیاد بنتاہے۔ پی آئی اے آج اگرخسارے میں ہے اور اس کی نجکاری کے اعلانات کئے جارہے ہیں تواس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بڑے افسران نے اپنی تنخواہیں لاکھوں روپے مقرر کروالی ہے توچھوٹے افسران مسافروں کوفراہم کی جانے والی سفری سہولیات اور سامان پرہاتھ صاف کررہے ہیں۔
وقت اشاعت : 2016-01-22

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں