تازہ ترین : 1
Milawat Mafia K Khilaf Food Authority Ki Karrwayian

ملاوٹ مافیا کے خلاف فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں

ملاوٹ انسانی صحت کی دشمن ہے اسی لئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ملاوٹ کا تصور بھی نہیں ہے اور جو ملاوٹ جیسا گھناؤنا کاروبا ر کرتے ہیں ان کو سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے۔

عبدالمجید منہاس :
ملاوٹ انسانی صحت کی دشمن ہے اسی لئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ملاوٹ کا تصور بھی نہیں ہے اور جو ملاوٹ جیسا گھناؤنا کاروبا ر کرتے ہیں ان کو سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے۔ اسی لئے کھانے پینے کی اشیا کی تیاری یا پیک کرکے فروخت کرنے والی کمپنیاں پیکنگ کے وقت ان اشیا پر اجزائے ترکیبی بھی نمایاں لکھتی ہیں جب کہ اس کی تیاری کی تاریخ سے اس کی ایکسپائر ہونے کی تاریخ بھی پرنٹ کی جاتی ہے ۔
اس کا مقصد صرف اور صرف انسان کو صحت بخش اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوتا ہے، اسی لئے ان کے معیار اور بعدازاں مارکیٹ میں آنے کے بعد مختلف ادارے ان کی گاہے بگاہے جانچ پڑتال کرتے ہیں تاکہ ان پر کڑی نظر رکھی جائے اور عوام کو معیاری اشیا مناسب داموں پر مل سکیں ۔مگر ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں صورت حال اتنی اچھی نہیں رہی بدقسمتی سے پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔
جہاں عوام کو معیاری اور اچھی اشیا خریدنے کے لئے بڑی تگ ودو کرنی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج گائے کا تازہ اور خالص دودھ اور خالص دیسی گھی حکومتی مقرر کردہ قیمتوں پر ملنا مشکل ہی نہیں محال ہے۔ اسی طرح کی صورت حال گوشت کی بھی ہے وہ چھوٹا یعنی بکرے کا ہو یا گائے کا۔ اس کی کوالٹی مختلف ہے اور دکانوں پر جو تختیوں یا سلیٹ پر نرخ لکھے ہوتے ہیں، ان پر بھی عمل نظر نہیں ہر دکاندار کا اپنا نرخ نظر آتا ہے ہر کوئی اپنی اپنی من مانی کر رہا ہوتا ہے۔
اسی طرح دالوں اور مصالحہ جات میں بھی مختلف اقسام ہیں، یعنی مرچ، ہلدی وغیرہ کی فروخت میں پوچھا جاتا ہے کہ نمبر ون کوالٹی چاہئے یا دو نمبرکی۔ اسی طرح اب دودھ بھی جو ملک شاپ پر فروخت ہو رہا ہے اس کی مختلف قیمتیں ہیں اور تو اور کئی دکانداروں دو یا تین کلو دودھ پر ایک کلو مفت کی بھی نوید سنا رہے ہوتے ہیں۔ اور سب اپنی اپنی دکان پر فروخت ہونے والے دودھ کو خالص کہہ رہے ہوتے ہیں۔
انہی عناصر کے خلاف یعنی عوام کی صحت اور پیسے سے کھیلنے والوں کو قانون کے شکنجے میں جکڑنے کے لئے فوڈ اتھارٹی کا قیام بھی حکومت عمل میں لائی ہے جس کے بعد اب ان کی ٹیمیں نہ صرف لاہور بلکہ پنجاب کے دور دراز علاقوں میں بھی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ غیر معیاری دودھ سے لے کر گھی اور دیگر اشیا بنانے یا فروخت کرنے والوں کے خلاف شکنجہ سخت سے سخت کیا جا رہا ہے اور ایسا گھناؤنا کاروبار کرنے والوں کو گرفتار کرکے سزائیں بھی دی جا رہی ہیں اور ان کو بھاری جرمانے بھی کئے جا رہے ہیں۔
جس سے عوام کو امید ہوئی ہے کہ اب شاید ایسا دو نمبر کام کرنے والے ٹھیک ہو جائیں اور عوام کو معیاری اشیا مل سکیں ورنہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ملک میں منرل واٹرکے نام پر زیادہ تر کمپنیوں کا غیر معیاری پانی فروخت کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ڈبوں کا دودھ بھی دودھ نہیں ایسی کمپنیوں کو دودھ کے ڈبوں پر ”یہ دودھ نہیں ہے“ لگانے کا بھی کہا گیا تاکہ خریدار کو معلوم ہو کہ وہ کیا خرید رہا ہے۔
بہرحال اب ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف سخت سے کارروائیاں ہو رہی ہیں ، جس سے عوام کو اچھی اور معیاری اشیا ملیں گی۔ حکومتی اقدامات سے اب ملاوٹ جیسا گھناونا کاروبار کرنے والوں کے خلاف جو فوڈ اتھارٹی اقدامات کر رہی ہے اس پر قابو پانے کے لئے عوام کو بھی اپنا فرض ادا کرنا ہوگا پھر ہی وطن عزیز سے عوا کی جان ومال سے کھیلنے والوں کا قلع قمع ہوگا ۔
وقت اشاعت : 2018-02-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں