بند کریں
جمعہ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مائیکل اینجلو (1564ء۔ 1475ء )
نشاة ثانیہ کے دور کا عظیم فن کاع مائیکل اینجلو بوناروٹی بڈری فنون کی تاریخ کی ایک غیر معمولی شخصیت ہے ۔ یہ ذہین مصور سنگ تراش اور ماہرتعمیرات مائیکل اینجلو اپنے پچھے شہ پاروں کا ایک دفتر چھوڑ گیا ہے
محمد عاصم بٹ :
نشاة ثانیہ کے دور کا عظیم فن کاع مائیکل اینجلو بوناروٹی بڈری فنون کی تاریخ کی ایک غیر معمولی شخصیت ہے ۔ یہ ذہین مصور سنگ تراش اور ماہرتعمیرات مائیکل اینجلو اپنے پچھے شہ پاروں کا ایک دفتر چھوڑ گیا ہے جو چار صدیوں سے دیکھنے والوں کے ذوق کی تسکین کا سامنا بنا رہا ہے ۔ اس کے فن پاروں نے بعد کی یورپی مصوری اور سنگ تراشی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔

مائیکل اینجلو اٹلی مین فلورنس سے قریب چالیس میل کی دوری پرایک قصبے کیپرپس میں 1475ء میں پیدا ہوا ۔ اوائل عمری میں ہی اس کے جو ہرنے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا ۔ پندرہ برس کی عمر میں فلورنس کے فرمانرواعظم کے خاندان کے ساتھ میڈیسی محل میں رہنے لگا ۔ لورنزو اس کا سرپرست بن گیا ۔ اپنی تمام زندگی میں اس نے اپنے جوہر کو منوایا ۔ وہ پوپ حضرات اور بے تعصب فرمانرواؤں کے لیے مختلف فن پاروں پر کام کرتا رہا ۔
اس کی زندگی مختلف محلوں میں بسر ہوئی ۔ تاہم اس کا بیشتر وقت روم اور فلورنس میں گزرا ۔ 1564ء میں وہ انانونے سال کی عمر پاکر فوت ہوا ۔ وہ تاحیات مجرد دیا ۔
وہ اپنے عمر رسیدہ ہم لیونا ڈرڈا ونسی جیسا فطین فن کارتو نہیں تھا ِ،، لیکن مائیکل اینجلو کے فن میں ہمت گیریت ہے ۔ وہ اکیلا فن کار غالباََ صرف وہی ہے جو انسانی مساعی کے دو مختلف شعبوں میں کامیابی کی ایک سی انتہا تک پہنچا ۔
بطور مصور مائیکل اینجلو کا شمار صف اول کے فن کاروں میں ہوتا ہے ۔ نہ صرف اپنے کام کی عمدگی میں وہ سرفہرست فن کاروں میں میں سے ایک ہے بلکہ بعد کے مصوروں پر پانے اثرات کے اعتبار سے بھی ۔ روم میں سٹائن چیپل کی چھت پر اس کی آبی رنگوں میں تصویر کشی دنیا کے عظیم شہ پاروں میں شمار ہوتی ہے ۔ تاہم مائیکل اینجلو خود کو بنیادی طور پر ایک سنگ تراش تصور کرتا تھا ، جبکہ متعدد ناقدین اس کو دنیا کا صف اول سنگ تراش تسلیم کرتے ہیں ۔
اس کے داؤد اور موسیٰ کے بت اور مشہور ومعروف بت Pieta “فن کے لازوال شاہ کار ہیں ۔
مائیکل اینجلو ایک اعلیٰ ماہر تعمیرات بھی تھا ۔ میدان میں اس کے اہم کارناموں میں سے ایک فلورنس میں میڈیسی چیپل کی عمارت ہے ۔ متعدد برسوں تک وہ روم میں سینٹ پیٹر کا اہم ترین ماہر تعمیرات رہا ۔
اپنی زندگی میں مائیکل اینجلو نے بہت سی نظمیں بھی لکھیں ۔
جن میں سے تین سو باقی بچی ہیں ۔اس کے بے شمار سانیٹ اور دیگر نظمیں اس کی زندگی میں نہیں چھپی تھیں ۔ ان سے اس کی شخصیت کے اسرار کھلتے ہیں ، اور جن سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک بڑا شاعر بھی تھا ۔ جیسا کہ شیکسپٴر پر اپنے مضمون میں اس بات کی وضاحت کرچکا ہوں کہ یہ میرا عقیدہ ہے کہ فن اور فن کاروں کے انسانی تاریخ اور روزمرہ زندگی پر نسبتاََ کم گہرے اثرات استوار ہوتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ مائیکل اینجلو ایک فن کار کے اعلیٰ اوصاف کا حامل ہونے کے باوجود اس فہرست میں بلند درجہ حاصل نہیں کرپایا ِ، جبکہ متعدد سائنس دانوں اور موجدوں کو جن میں سے اکثر ان سے کم ہی مشہور تھے ان سے بلند درجہ ملا ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-31

(0) ووٹ وصول ہوئے