بند کریں
اتوار مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مریم مختیار پاک فضائیہ کی اولین شہید خاتون پائلٹ
پاکستان کی بہادر بیٹی مریم نے پہلی خاتون شہید پائلٹ کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ پاک فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ اسکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی اور فلائنگ آفیسر مریم مختیار معمول کے ایک آپریشنل ٹریننگ مشن پر تھے
پاک فضائیہ کا جنگی طیارہ ایف 7پی جی کندیاں میں گر کر تباہ ہو گیا، حادثے میں پائلٹ مریم مختیار شہید، جبکہ معاون پائلٹ اسکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی معمولی زخمی ہو گئے ، پاکستان کی بہادر بیٹی مریم نے پہلی خاتون شہید پائلٹ کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ پاک فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ اسکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی اور فلائنگ آفیسر مریم مختیار معمول کے ایک آپریشنل ٹریننگ مشن پر تھے کہ مشن کے بالکل آخری مرحلے میں طیارے کے اندر سنگین فنی خرابی پیدا ہو گئی۔
ترجمان کے مطابق دونوں پائلٹس نے طیارے کو آخری لمحات تک بچانے کی کوشش کی، جبکہ زمین پر موجود شہری آبادی کو بچاتے ہوئے طیارے سے چھلانگ لگا دی اور پھر جہاز میانوالی میں کندیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ مریم شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہونیوالی پاکستان ائر فورس کی پہلی خاتون پائلٹ ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق فنی خرابی کے باوجود دونوں پائلٹ آخری وقت تک طیارے میں موجود رہے اور طیارے کو آبادی سے دور لے جانے میں کامیاب ہو گئے ، جائے حادثہ کے قریب عورتیں کھیتوں میں کام کر رہی تھیں، تاہم شہید مریم نے اپنی جان دے کر نہ صرف قریبی آبادی بلکہ کھیتوں میں کام کرنیوالی خواتین اور ایک پرائمری اسکول کے بچوں کو بھی بچا لیا۔
بعد ازاں طیارہ غربی چشمہ کی حدود میں کھیتوں میں گر کر تباہ ہوا، پائلٹس پیرا شوٹس کے ذریعے طیارے سے کود پڑے ، تاہم فلائنگ آفیسر مریم کا پیرا شوٹ مکمل طور پر کھل نہ سکا اور وہ زمین پر گر کر شدید زخمی ہو گئیں، انہیں فوری طور پر پی اے ایف اسپتال میانوالی لے جایا گیا اور پھر سی ایم ایچ اسلا م آباد منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئیں۔
مریم مختیار کراچی کی رہنے والی اور ان کی عمر 24 سال تھی، تاہم وہ زندگی میں کبھی بھی خطرات سے نہیں گھبرائیں، انہوں نے پچھلے سال بی بی سی سے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ مردوں کیلئے مخصوص پیشے میں اس لئے کام کرنا چاہتی تھیں، کیونکہ وہ کچھ مختلف کرنا چاہتی تھیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بہت فخر محسوس کرتی ہیں کہ وہ پاکستان ائر فورس کا حصہ ہیں ۔
مریم کو پاک فضائیہ میں بطور کمیشنڈ آفیسر شمولیت اختیار کیے 2 برس سے زائد کا عرصہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملبہ اور شواہد اکٹھے کیے ، جبکہ ائر فورس حکام نے تحقیقات کیلئے انکوائری بورڈ تشکیل دیدیا۔ مزید برآں آرمی چیف نے مریم مختیار کی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مریم مختیار پاکستانی خواتین کا فخر اور رول ماڈل تھیں، شہید خاتون پائلٹ مریم مختیار کی نماز جنازہ کراچی میں ادا کر دی گئی، نماز جنازہ میں ائر چیف مارشل سہیل امان سمیت دیگر اعلیٰ فوجی حکام نے بھی شرکت کی۔
صدر ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف ، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے شہید مریم مختیار کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی خواتین کیلئے بہادری کی مثال ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-01

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان