بند کریں
جمعرات مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ایل این جی معاہدہ
حکومت کی خاموشی شکوک وشبہات پیداکررہی ہے
اسعد نقوی:
ملک میں توانائی بحران ختم کرنے اور پٹرول کے متبادل سستے ذرائع کرنے کیلئے پہلے سی این جی کامنصوبہ پیش کیاگیا اور اب سی این جی کامتبادل ایل این جی لانے کی باتیں کی جارہی ہے۔گزشتہ ماہ تک توایل این جی کے حوالے سے صورت حال بہتر نظر آرہی تھی لیکن گزشتہ دنوں یک دم منظرنامے پر گہرے بادل چھا گئے۔
پاکستان ایک عرصہ سے توانائی کے شدید بحران کاشکار ہے۔
ہمارے ملک میں گرمیوں میں طویل لوڈشیڈنگ معمول کی بات ہے توسردیوں میں گیس کی بندش شروع ہوجاتی ہے۔اسی طرح سوئی گیس کے ساتھ ساتھ سی این جی پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے۔ گیس اور بجلی کی اس قلت کااثربراہ راست ملک معیشت پر بھی پڑتا ہے۔ایک طرف ملک بھر کے سی این جی اسٹیشنز کا کاروبار تباہ ہوچکاہے تودوسری جانب پبلک ٹرانسپوٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
صنعتی شعبے کوگیس کی فراہمی روک دی جاتی ہے توتعمیروترقی کاپہیہ رکنے لگتا ہے جس سے بیروزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوجاتاہے۔ ابتدا میں پٹرولیم کے متبادل سی این جی متعارف کرائی گئی تھی تاکہ اخراجات کم ہوسکیں لیکن اس کااستعمال اس قدر بڑھ گیا کہ اب سی این جی بھی ناپید ہوتی جارہی ہے۔ ہمارے ہاں ٹرانسپوٹ کوسی این جی پر منتقل کیا گیا تو اس کی کھپت میں یک دم اضافہ ہوگیا۔
سوئی گیس اور سی این جی کی قلت کے پیش نظراب حکومت ایل این جی متعارف کروارہی ہے۔ اس سلسلے میں اکثر ایسی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں جن کے مطابق پاکستان بیرون ممالک سے سستی ایک این جی منگوائے گا۔ اس سلسلے میں چندماہ سے وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کافی متحرک نظر آتے ہیں۔ ان کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ پاکستان اور قطرے کے درمیان ایک این جی کا بڑامعاہدہ کیاجائے گا جس کے تحت قطرپاکستان کو سالانہ تیس لاکھ ٹن ایل این جی فراہم کرے گا جوہر ہفتے بحری جہاز کے ذریعے پاکستان پہنچے گی۔
اس طرح سال بھر میں باون جہاز قطر سے ایل این جی لے کرپاکستان کی بندرگاہ پہنچیں گے۔ یہ معاہدہ پندرہ سال تک کی مدت کاہوگا۔ شاہد خاقان عباسی توا س سلسلے میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انہیں یہ معاہدہ نہ کرنے کیلئے دھمکیوں سے لے کررشوت تک کی پیشکش بھی کی جاچکی ہے۔ یادرہے کہ رواں برس ہی جولائی کے مہینے میں پاکستان میں پہلی بار ایل این جی کوکنٹیسز کے ذریعے درآمد کیا گیا تھا۔
قطرسے آنے والا یہ پہلا بحری جہاز ایک لاکھ 30ہزار کیوبک میٹرایل این جی لے کرپورٹ قاسم کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہواتھا۔ اس سے پہلے بھی ایک این جی کی چھ کھیپ پاکستان پہنچی تھیں لیکن تب ایل این جی درآمد کیلئے فیونگ اسٹوریج ری کیسفکیشن یونٹ (ایف ایس آریو) کواستعمال کیا گیا جبکہ ساتویں کھیپ ٹینکر کے ذریعے لائی گئی۔ دوسری جانب اس پیش رفت کے بعد حکومت اس سلسلے میں قطر سے ایک بڑا معاہدہ کرنے کی کوشش میں نظر آنے لگی۔
وزارت پٹرولیم اور قطرکے درمیان ایل این جی کے معاہدوں کی بازگشت سنائی دے دہی تھی کہ ایک غیرملکی نیوز ایجنسی نے اپنی خبر میں دعویٰ کردیاکہ وزارت پٹرولیم ایل این جی کے 16بلین کے معاہدے پر دستخط کردئیے ہیں۔ اس سے کچھ عرصہ قبل وزارت پٹرولیم کی جانب سے یہ دعویٰ کیاگیاتھا کہ معاہدہ تقریباََ طے پاچکاہے لیکن دستخط ہونا باقی ہیں۔ غیر ملکی نیوز ایجنسی کے دعویٰ کے بابت صورتحال اس وقت مزید گھمبیر ہوگئی جب میڈیا نے خبر کی تصدیق کیلئے وزارت پٹرولیم کے ذمہ داران سے رابطہ کرنے کی کوشش کی توانہیں نے خبر کے درست یا غلط ہونے کی تصدیق کرنے سے گریز کیا۔
اس صورت حال نے کئی سوالات کوجنم دے دیا۔
یہاں سوال یہ ہے کہ پاکستان اور قطرکے درمیان ہونے والے معاہدے میں ایل این جی کی قیمت کیاہوگئی؟اس سلسلے میں عام رائے یہ ہے کہ اگریہ ایل این جی پٹرولیم کی نسبت کم ازکم 20سے 30 فیصد سستی ہوتب ہی قابل قبول ہوسکتی ہے۔ اسی طرح یہ خدشہ بھی ظاہر کیاجارہا ہے کہ یہاں بھی اوگرا کی طرز پر ایک ایسا مافیا سامنے آجائے گا جو ہر مہینے نئی قیمتیں طے کرتا رہے گا جس کی معیاد پندرہ برس تک ہوگی لیکن کسی کویہ علم ہی نہیں کہ اس معاہدے کے تحت 15برس تک ملنے والی ایل این جی کی قیمت کاتعین کون کرے گا اور ان میں اضافہ یاکمی کاذمہ دار کون ہوگا؟ ہم ایک نیااور بڑا معاہدہ کرنے جارہے ہیں لیکن کسی یہ علم ہی نہیں کہ معاہدہ کن شرائط پر طے یارہاہے اور اس سے قوم کوفائدہ ہوگایا یہ سفید ہاتھی بن کر ہمارے سرپر سوار ہوجائے گا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ ایل این جی سے قبل سی این جی کاتجربہ ہوچکاہے۔ پٹرولیم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر متبادل ذرائع کے طور پر سی این جی متعارف کرائی گئی۔ اس وقت امید کی جارہی تھی کہ سی این جی قوم کی مشکلات اور انرجی کے بحران کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگی۔ بدقسمتی سے یہ تجربہ بری طرح ناکام ہوگیا۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایل این جی کی صورت ایک بار پھر ایسا ہی بھیانک تجربہ کرنے جارہے ہیں؟
ضرورت اس امرکی ہے کہ وزارت پٹرولیم ماضٰ کے تجربات سے سبق سیکھے اور محض ” کمیشن مافیا“ کیلئے ایسے منصوبے تشکیل نہ دے جوقومی خزانے پر بوجھ بن جائیں۔
تادم تحریرصورت حال گھمبیر ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیاجا رہاہے۔ عام طور پر جب کسی ملک کے سال بڑا معاہدے طے پاجائے تو حکومت کی جانب سے اس کاباقاعدہ اعلان کیاجاتا ہے اور اس کی بڑی کامیابی قرار دیاجاتاہے، اس بارالٹی گنگابہہ رہی ہے۔ غیرملکی ادارہ تویہ اطلاع دے رہا ہے کہ معاہدہ طے پاگیا لیکن حکومتی عہدے داروں کاردعمل ایسا تھا جیسے ان سے کوئی بڑا جرم سرزد ہوچکاہے۔
اس سے پہلا تاثر یہی پیداہوتا ہے کہ معاہدے کی آڑ میں کوئی بڑی نجی ڈیل کرلی گئی ہے لہٰذا تفصیلات منظرعام پرلانے سے گریز کیاجارہاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اسی سلسلے میں قوم کو اعتماد میں لے۔ معاہدے کی اجازت متعلقہ اداروں سے لی جائے۔ عین ممکن ہے کہ قطر گیس معاہدہ ملک کی تقدیر بدل دے لیکن 15 سال تک کا اگلے 15 برس کے حالات کاجائزہ لے کر تفصیلات طے کرنا ضروری ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-20

(0) ووٹ وصول ہوئے